Thursday , September 21 2017
Home / دنیا / میانمار میں نئی پارلیمنٹ کا پہلا سیشن

میانمار میں نئی پارلیمنٹ کا پہلا سیشن

سوچی کو فوٹوگرافرس نے گھیر لیا، فوجی حکومت کے ذریعہ تاریخ دہرائے جانے کے اندیشے
ینگون ۔ 16 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) آنگ سان سوچی کی جمہوریت حامی پارٹی نے حالیہ انتخابات میں زبردست کامیابی کے بعد پارلیمنٹ میں شاندار واپسی کی ہے۔ تاہم اب بھی اقتدار کی پرامن منتقلی پر غیریقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ سوچی کو میانمار کے دستور کے مطابق صدر کے جلیل القدر عہدہ پر فائز ہونے کی گنجائش نہیں ہے تاہم انہوں نے عزم کرلیا ہے کہ صدر کے عہدہ پر برقرار نہ رہتے ہوئے بھی وہ ’’سوپر صدر‘‘ کی حیثیت سے کام کرنے کے موقف میں ہیں کیونکہ این ایل ڈی کی واضح اکثریت سے کامیابی کے بعد سوچی ہی نئے صدر کا انتخاب اپنی مرضی سے کریں گی۔ تاہم این ایل ڈی کے قانون سازوں کو پارلیمنٹ میں اپنی اپنی نشستوں کو سنبھالنے میں ایک ماہ کا عرصہ ہے، وہیں پارٹی کے سینئر قائدین انتہائی چوکنا ہیں اور حالات کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ فوج کی جانب سے پھر کوئی ’’چال‘‘ نہ چلی جاسکے اور الیکشن کے نتائج کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایک بار پھر فوج ملک پر قابض نہ ہوجائے۔ دریں اثناء این ایل ڈی کے ترجمان وین ٹین نے کہاکہ انہیں ایسا نہیں لگتا کہ اقتدار کی پرامن منتقلی 100 فیصد شفاف ہوگی۔ اس دفعہ حالانکہ ہم بیحد خوش ہیں کہ ہمیں اعلیٰ درجہ کی کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن شکوک و شبہات بھی اپنی جگہ پر قائم ہیں اور یہ اندیشے موجود ہیں کہ کہیں تاریخ اپنے آپ کو نہ دہرائے۔ یاد رہے کہ ان کا اشارہ 1990ء میں بھی سوچی کی شاندار کامیابی کی جانب تھا جسے اس وقت کے حکمرانوں نے نظرانداز کرتے ہوئے سوچی کی پارٹی کو اقتدار حوالے نہیں کیا تھا۔ اب ایک بار پھر پارلیمنٹ کا سیشن شروع ہونے والا ہے اور حالات کونسا رخ اختیار کریں گے، یہ کہنا مشکل ہے۔ پارلیمنٹ میں آج جیسے ہی سوچی کی آمد ہوئی انہیں سینکڑوں فوٹوگرافرس نے گھیر لیا۔ تاہم شاندار کامیابی کے باوجود انہوں نے اس پر کوئی ایسا برتاؤ نہیں کیا جس سے یہ ظاہر ہوکہ وہ اپنی کامیابی پر نازاں ہیں حالانکہ این ایل ڈی نے موجودہ حکمراں جماعت کو انتخابی نتائج کے دوران ہی اکھاڑ پھینکا تھا لیکن چونکہ میانمار کی تاریخ کافی بدنام رہی ہے لہٰذا سوچی کو بھی فوجی حکومت سے کچھ نہ کچھ غلط کام کرنے کے اندیشے ہیں۔ 2011ء میں فوجی حکمران تھین سین نے ملک میں نیم جمہوری حکومت کو متعارف ضرور کیا تھا لیکن وہ بھی فوجی نوعیت کی ہی تھی لیکن اب سوچی کی کامیابی کے بعد نئے قائد کے انتخاب تک یہی حکمراں جماعت بطور عبوری حکومت کام کرے گی۔ صدر تھین سین نے خود یہ وعدہ کیا ہیکہ اقتدار کی منتقلی پرامن طریقہ پر ہوگی کیونکہ عوام نے ووٹس کے ذریعہ اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جو انتخابات منعقد کروائے گئے ہیں اس کے ذمہ دار ان کی (تھین سین) حکومت کے ذریعہ کئے جانے والے اصلاحات ہیں۔ اگر وہ انتخابات منعقد کروانا نہیں چاہتے تو دنیا کی کوئی طاقت میانمار میں انتخابات منعقد نہیں کرواسکتی تھی۔ 70 سالہ سوچی کو ملک کا صدر اس لئے نہیں بنایا جاسکتا کیونکہ انہوں نے ایک بیرون ملک کے فرد سے شادی کی اور ان کے بچے بھی میانمار میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ بہرحال ملک کے حالات کیا رخ اختیار کریں گے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔

TOPPOPULARRECENT