Friday , July 28 2017
Home / دنیا / میانمار کے واقعات کو نظرانداز کرنا ناممکن، نکی ہیلی کا اقوام متحدہ میں بیان

میانمار کے واقعات کو نظرانداز کرنا ناممکن، نکی ہیلی کا اقوام متحدہ میں بیان

عالمی انسانی حقوق نگرانکار تنظیم کے جنیوا ڈائرکٹر جان فشر کا بیان، میانمار سے فوری ویزا جاری کرنے کا مطالبہ
اقوام متحدہ 13 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) میانمار کو اقوام متحدہ کی انکشاف حقائق مہم کی میانمار میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تحقیقات کرنا چاہئے۔ ملک کی فوج اور صیانتی محکموں کا عملہ اِس تحقیقات کے لئے ضروری ہے۔ امریکی سفیر برائے اقوام متحدہ نکی ہیلی نے بین الاقوامی برادری کی جانب سے وہاں کی صورتحال سے چشم پوشی کو ناممکن قرار دیا۔ گزشتہ ماہ کے اواخر میں میانمار نے کہا تھا کہ وہ کمیشن کے ارکان کو جن کا تقرر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے کیا ہے تاکہ ملک کی سرکاری فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی بشمول ریاست راکھین میں تازہ ترین استحصال کی تحقیقات کرسکے، تحقیقات کے لئے ویزا جاری نہیں کرے گا۔ امریکی سفارت خانہ برائے اقوام متحدہ نے کہاکہ ریاست راکھین میں نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد انسانی جانوں کے ضائع ہونے کی وجہ بن رہا ہے۔ خواتین اور بچوں کے جنسی استحصال کی بھی شکایات کی گئی ہیں۔ نکی ہیلی نے کہاکہ کسی کو بھی اپنے نسلی پس منظر یا مذہبی عقائد کی وجہ سے تعصب یا تشدد کا شکار نہیں بنایا جانا چاہئے۔ یہ بات اہمیت رکھتی ہے کہ حکومت میانمار انکشاف حقائق مہم کو اپنا کام کرنے کی اجازت دے۔ ہندوستانی نژاد نکی ہیلی نے اپنے بیان میں کہاکہ بین الاقوامی برادری میانمار میں جو کچھ ہورہا ہے اُسے نظرانداز نہیں کرسکتی۔

ہمیں متحد ہوکر حکومت سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ انکشاف حقائق مہم کے ساتھ بھرپور تعاون کرے۔ متاثرین کی حقیقی تعداد اُس وقت تک نہیں معلوم ہوسکتی جب تک کہ انکشاف حقائق مہم کو پیشرفت کی اجازت نہ دی جائے۔ عالمی حقوق گروپ برائے انسانی حقوق کی نگرانی کے جنیوا کے ڈائرکٹر جان فشر نے کہاکہ انکشاف حقائق مہم کے ارکان کو ویزا دینے سے انکار متاثرین کے چہرے پر ایک چانٹے سے کم نہیں جو میانمار کی سرکاری فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا سامنا کررہے ہیں۔ اُنھوں نے سوال کیاکہ کیا آن سان سوچی کی حکومت درحقیقت اُن مٹھی بھر اور رسوائے زمانے ممالک کی فہرست میں شامل ہونا چاہتی ہیں جو انسانی حقوق کونسل کے فیصلوں کو مسترد کردیتے ہیں۔ جیسے شمالی کوریا، حبش، شام اور برونڈی۔ انسانی حقوق کے مخدوش ہونے کے اعتبار سے شہرت رکھتے ہیں اور آزٓادانہ کام میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ بین الاقوامی تحقیقات جو حقوق کے مبینہ استحصال کی تحقیقات کررہی ہیں، اُنھیں جمہوری طور پر منتخبہ، نیشل لیگ برائے جمہوریت زیرقیادت حکومت میانمار اِن ہی ممالک جیسا کام کررہی ہے۔ انسانی حقوق گروپ نے کہاکہ حکومت میانمار کو فوری طور پر اعلان کرنا چاہئے کہ وہ انکشاف حقائق مہم کے ارکان کو ویزا جاری کریں گے اور تحقیقات میں تعاون کریں گے ورنہ حکومت کو چاہئے کہ انکشاف حقائق کی تحقیقات کرے بصورت دیگر اُسے انسانی حقوق کا کام روکنے کے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق 90 ہزار سے زیادہ روہنگیا شمالی ریاست راکھین سے گزشتہ اکٹوبر سے اب تک تخلیہ کرنے پر مجبور کردیئے گئے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT