Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / میاں پور اراضی اسکام میں محمد محمودعلی کا کوئی عمل دخل نہیں: وحیداحمد

میاں پور اراضی اسکام میں محمد محمودعلی کا کوئی عمل دخل نہیں: وحیداحمد

بی جے پی، کانگریس اور تلگودیشم کی تنقیدیں و الزامات بے بنیاد ، رکن وقف بورڈ کا ردعمل

حیدرآباد 11 جون (پریس نوٹ) رکن وقف بورڈ تلنگانہ وحید احمد ایڈوکیٹ نے نائب وزیراعلیٰ محمد محمود علی پر میاں پور اراضی معاملے میں بی جے پی قائدکرشنا ساگر راؤ کی جانب سے عائد کردہ الزامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے تمام الزامات کی تردید کی اور کہاکہ اس معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ اس معاملہ میں وضاحت کرتے ہوئے وحید احمد ایڈوکیٹ نے اراضی رجسٹریشن کیلئے کوکٹ پلی سب رجسٹرار کو ذمہ دار قرار دیا جس نے دانستہ طور پر سرکاری اراضی کا ر جسٹریشن کیا جبکہ اسی محکمہ سے تعلق رکھنے والے عہدیدار نے اس بدعنوانی کی نشاندہی کرتے ہوئے اس سب رجسٹرار کو فی الفور معطل کیا گیا اور اس کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی اور اسی طرح کے مزید واقعات میں ملوث دو ملازمین کو خاطی پانے پر محکمہ نے انھیں بھی معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف پولیس میں مقدمہ درج کروایا اس سلسلہ میں تحقیقات جاری ہیں۔ وقف بورڈ رکن نے بتایا کہ محکمہ میں ایماندار عہدیدار اور ملازمین بھی موجود ہیں جو اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دے رہے ہیں محض چند بدعنوان ملازمین کی غلطیوں کیلئے پورے محکمہ یا کسی وزیر کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اپوزیشن پارٹیوں کی الزام تراشی کی سختی سے تردید کرتے ہوئے وحید احمد ایڈوکیٹ نے کہاکہ وقت آنے پر نائب وزیر اعلیٰ کسی بھی طرح کی تحقیقات کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اُنھوں نے مزید بتایا کہ چیف منسٹر تلنگانہ نے بھی اس معاملے کا سخت نوٹ لیتے ہوئے اس کی مکمل اور شفاف تحقیقات کیلئے معاملے کو سی آئی ڈی کے سپرد کیا اور جنگی خطوط پر ضلع حیدرآباد، رنگاریڈی اور میڑچل کے سب رجسٹراروں کا تبادلہ عمل میں آیا۔ وحید احمد ایڈوکیٹ نے بی جے پی اور تلگودیشم پارٹی کی جانب سے نائب وزیر اعلیٰ کو مسلسل نشانہ بنائے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدار کے مغائر قرار دیا اور بتایا کہ نائب وزیر اعلیٰ ایک ایماندار اور شریف النفس شخصیت ہیں اور ان کے والدین نے انھیں بچپن ہی سے ایمانداری اور حلال روزی کی تلقین کی۔ وہ آج تک اپنے والدین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں اور کسی بھی طرح کی بدعنوانیوں کو پسند نہیں کرتے۔ سیاست میں آنے کا ان کا مقصد صرف اور صرف تلنگانہ کا حصول اور قوم کی خدمت کرنا تھا۔ ان کی ایمانداری اور ملی جذبے کو دیکھتے ہوئے انھیں نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ دیا گیا جس کے بعد وہ مسلسل تین برسوں سے ریاست کے عوام کی دن رات خدمت میں مصروف ہیں۔ ایک مسلمان کو نائب وزیراعلیٰ کا عہدہ دیئے جانے سے بی جے پی اور تلگودیشم پارٹیاں جوکہ ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں وہ ریاست کی ہم آہنگی پر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اس لئے انھیں بدنام کرنے کیلئے ان پر غیر ضروری الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ نہایت سنجیدہ اور انصاف پسند شخصیت ہیں اور اراضی معاملے میں وہ 0.0.1 فیصد بھی ملوث نہیں ہیں۔ وحید احمد ایڈوکیٹ نے قوم کے تمام بھائیوں سے اپیل کی کہ وہ رمضان کے مقدس مہینے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انھیں مستقبل میں بھی قوم و ملت کی خدمت کرنے کا موقع عطا فرمائے اور مخالفین کو ان پرالزام تراشی و بہتان تراشی سے باز رکھے۔

TOPPOPULARRECENT