Friday , July 28 2017
Home / شہر کی خبریں / میاں پور اراضی اسکام میں ملوث خاطیوں کو بچانے کی کوشش نہیں کی جائے گی

میاں پور اراضی اسکام میں ملوث خاطیوں کو بچانے کی کوشش نہیں کی جائے گی

سی بی آئی تحقیقات کی ضرورت نہیں ، حکومت غیر جانبدار رہے گی ، گورنمنٹ وہپ پی راجیشور ریڈی
حیدرآباد ۔ 7۔ جون (سیاست نیوز) گورنمنٹ وہپ پی راجیشور ریڈی نے کہا کہ میاں پور اراضی اسکام میں حکومت مکمل غیر جانبداری کے ساتھ کام کر رہی ہے اور جو افراد بھی ملوث پائے گئے ، ان کے خلاف قانون اپنا کام کرے گا۔ حکومت اسکام میں ملوث کسی بھی شخص کو بچانے کی کوشش نہیں کرے گی۔ پی راجیشور ریڈی نے کہا کہ سی بی سی آئی ڈی اس اسکام میں تحقیقات کر رہی ہے اور وہ اس معاملہ کی جانچ کیلئے موزوں ادارہ ہے ۔ لہذا سی بی آئی تحقیقات کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے طور پر اس اسکام کی جانچ کا آغاز کیا ہے تاکہ سرکاری اراضی کو خانگی کمپنیوں کو منتقل کرنے والے افراد کو بے نقاب کیا جاسکے۔ راجیشور ریڈی نے کہا کہ تلگو دیشم پا رٹی کا تلنگانہ میں کوئی وجود نہیں ہے اور وہ اسے پارٹی کی طرح تسلیم کرنے تیار نہیں۔ لہذا اس کی تنقیدوں پر کوئی توجہ نہیں دیں گے ۔ راجیشور ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں اپوزیشن جماعتوں کے پاس کوئی کام نہیں ہے لہذا غیر ضروری مسائل کو ہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے میاں پور اسکام کے بارے میں اپوزیشن کے اندیشوں کو مسترد کردیا۔ راجیشور ریڈی نے مدھیہ پردیش میں کسانوں پر پولیس فائرنگ کی مذمت کی اور مہلوک کسانوںکے افراد خاندان سے اظہار تعزیت کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پی راجیشو ریڈی نے کہا کہ مرکز میں کانگریس اور بی جے پی کی حکومتوں نے کسانوں کے مسائل کو ہمیشہ ہی نظر انداز کیا ہے ۔ بی جے پی گزشتہ تین برسوں سے مرکز میں برسر اقتدار ہے لیکن کسانوں اور زرعی شعبہ کے مسائل سے لاعلم ہے ۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ کو چاہئے کہ وہ کسانوں کی بھلائی کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت سے سبق حاصل کریں۔ تلنگانہ حکومت نے کسانوں کے قرضہ جات معاف کئے اور انہیں معیاری تخم اور کھاد فراہم کر رہی ہے ۔ راجیشور ریڈی نے کہا کہ بی جے پی کو کسانوں کے مسائل کے سلسلہ میں تلنگانہ اور بعض دیگر ریاستوں سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کے موجودہ بحران کیلئے کانگریس اور بی جے پی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں ملک کے مختلف حصوں میں کسانوں نے احتجاج کیا اور خودکشی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی کسی بھی ریاست نے کسانوں کی بھلائی کیلئے تلنگانہ حکومت کی طرح اقدامات نہیںکئے ۔ 17000 کروڑ روپئے کا قرض معاف کیا گیا۔ زرعی پیداوار کی اقل ترین امدادی قیمت فراہم کی گئی۔ انہوں نے مرچ کے کسانوں کیلئے حال ہی میں حکومت کی امداد کا حوالہ دیا اور کہاکہ مرکزی حکومت نے 5000 روپئے فی کنٹل امدادی قیمت کا اعلان کیا لیکن تلنگانہ حکومت 6 تا 7 ہزار روپئے امدادی قیمت ادا کر رہی ہے ۔ کسانوں کی خودکشی کیلئے کانگریس کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پی راجیشور ریڈی نے کہا کہ کانگریس نے کبھی بھی کسانوں کی بھلائی کی فکر نہیں کی ۔ آج جبکہ کانگریس اقتدار سے باہر ہے ، وہ کسانوں کے حق میں مگرمچھ کے آنسو بہا رہی ہے۔ انہوں نے تلنگانہ میں کانگریس برسر اقتدار آنے کی صورت میں کسانوں کے دو لاکھ روپئے کے قرضہ جات کی معافی کے وعدہ کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ عوام اس طرح کے وعدوں پر بھروسہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے قرضہ جات کی معافی کا وعدہ کیا لیکن ٹی آر ایس حکومت نے قرض معاف کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ وہ حقیقی معنوں میں کسانوں کی ہمدرد ہے۔ تلنگانہ کے عوام کانگریس پر اعتماد کرنے کے موقف میں نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین تلنگانہ میں کسانوں کے مسائل پر ہمدردی کا ڈرامہ کر رہے ہیں جبکہ ان کی برسر اقتدار ریاست مدھیہ پردیش میں کسانوں کو احتجاج پر پولیس کی گولیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تلنگانہ بی جے پی قائدین کو چاہئے کہ وہ ٹی آر ایس حکومت کے اقدامات سے اپنے قومی قائدین کو واقف کرائیں۔

TOPPOPULARRECENT