Wednesday , June 28 2017
Home / شہر کی خبریں / میاں پور اراضی کے طرز پر اوقافی اراضیات کے تحفظ کی ضرورت

میاں پور اراضی کے طرز پر اوقافی اراضیات کے تحفظ کی ضرورت

۔77538 اوقافی اراضی میں سے 80 تا 90 فیصد پر ناجائز قبضہ جات
حیدرآباد ۔ 7۔ جون (سیاست نیوز)  میاں پور میں 796 ایکر سرکاری اراضی کی خانگی اداروں کو منتقلی کے اسکام کے بعد حکومت خواب غفلت سے بیدار ہوئی اور اس نے سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے ریاست بھر میں سرکاری اراضیات کے تحفظ کی مہم شروع کی ہے۔ اسی طرح تلنگانہ میں اوقافی اراضیات کے تحفظ پر بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ۔ حکومت نے رجسٹریشن دفاتر میں مختلف اراضیات کے بارے میں جو اعداد و شمار پیش کئے ہیں ، اس کے مطابق تلنگانہ میں 856 ایکر اوقافی اراضی ہے جبکہ وقف بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق 77538 ایکر اوقافی اراضی موجود ہے اور ان میں تقریباً 80 تا 90 فیصد اراضی پر ناجائز قبضے ہوچکے ہیں۔ جس طرح حکومت سرکاری اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں سرگرم ہوچکی ہے ، تلنگانہ وقف بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اراضیات کی نشاندہی اور ان کے تحفظ کیلئے اقدامات کریں۔ وقف بورڈ کی تشکیل سے قبل اس وقت کے چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ نے کئی اہم اوقافی اراضیات کی غیر قانونی فروخت کو روکنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے محکمہ اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن کے اعلیٰ عہدیداروں کے تعاون سے کئی جائیدادوں اور اراضیات کے رجسٹریشن منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کی تھی اور بعض کے رجسٹریشن منسوخ کردیئے گئے ۔ دیگر جائیدادوں سے متعلق کارروائی ابھی بھی زیر التواء ہے ۔ وقف بورڈ کی تشکیل سے مسلمانوں میں امید جاگی تھی کہ بورڈ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں اہم رول ادا کرے گا۔ لیکن بورڈ کے ابھی تک چار اجلاس منعقد ہوئے لیکن ان اجلاسوں میں زیادہ تر ارکان کی دلچسپی سے متعلق امور شامل کئے گئے اور قراردادیں منظور کی گئیں۔ وقف بورڈ نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں جوڈیشیل پاورس یا پھر ریونیو ریکارڈ میں او قافی جائیدادوں کو شامل کرنے کے سلسلہ میں کوئی قرارداد منظور نہیں کی ۔ اب جبکہ میاں پور اسکام حکومت کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، وقف بورڈ کو ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے 77538 ایکر اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں حکومت کو توجہ دلانی چاہئے جس طرح سرکاری اراضیات کے معاملات کی سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا اعلان کیا گیا اسی طرح اوقافی اراضیات کی غیر قانونی فروخت کی جانچ بھی سی بی سی آئی ڈی کے ذریعہ کی جانی چاہئے ۔ حکومت کو سرکاری اراضی کے علاوہ انڈومنٹ ، بودھان ، شکم اور انعام اراضیات کے تحفظ کی فکر ہے۔ وقف بورڈ کی تشکیل کے بعد سے ایک بھی اہم جائیداد کو بچانے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔ حج ہاؤز سے چہل قدمی کے راستہ پر موجود مسجد نانا باغ کی اوقافی اراضی پر غیر مجاز تعمیرات مکمل ہوچکی ہیں اور قابض نے انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ وقف بورڈ کے احکامات کو بے خاطر کرتے ہوئے تعمیری کام مکمل کرلیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بہت جلد شوروم کا افتتاح عمل میں آئے گا۔ صدرنشین وقف بورڈ نے بذات خود دورہ کرتے ہوئے تعمیری کام روکنے کی ہدایت دی تھی ۔ اس کے علاوہ کمشنر بلدیہ ، کمشنر پولیس اور ڈائرکٹر جنرل پولیس سے نمائندگی کا اعلان کیا گیا تھا ۔ اسی طرح مسجد عالمگیر خانم میٹ کی اوقافی اراضی پر ایک آئی اے ایس عہدیدار کی جانب سے تعمیری کام جاری ہے اور وہاں بھی گزشتہ دنوں صدرنشین بورڈ نے دورہ کیا تھا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولیس اور بلدیہ میں شکایت اور صدرنشین کے دورہ کے باوجود مقامی حکام کیوں غیر مجاز قابضین کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ وقف بورڈ کی جائیدادوں کے تحفظ میں سرگرم تنظیموںاور اداروں نے مطالبہ کیاہے کہ صدرنشین وقف بورڈ کو اپنے ارکان کے ساتھ اہم جائیدادوں کا معائنہ کرتے ہوئے رپورٹ تیار کرنی چاہئے اور یہ رپورٹ چیف منسٹر کو پیش کی جائیں تاکہ حکومت ان جائیدادوں کے تحفظ میں بورڈ سے تعاون کرے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT