Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / میاں پور اراضی گھپلہ ۔تلنگانہ حکومت کو برطرف کرنے گورنر سے مطالبہ

میاں پور اراضی گھپلہ ۔تلنگانہ حکومت کو برطرف کرنے گورنر سے مطالبہ

حیدرآباد 15جون (یواین آئی )میاں پور اراضی گھپلے پر تلنگانہ کانگریس کے لیڈروں کے ایک وفد نے راج بھون میں گورنر ای ایس ایل نرسمہن سے ملاقات کی اور اس سلسلہ میں ان سے شکایت کی۔ ان لیڈروں نے الزام لگایا کہ اس گھپلے میں حکومت کے سرکردہ وزرا ملوث ہیں۔ انہوں نے اس معاملہ کے منظر عام پر آنے پرفوری طورپر ریاستی حکومت کو برطرف کرنے کا گورنر سے مطالبہ کیا ۔بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے الزام لگایا کہ ٹی آ رایس حکومت کے اہم افراد اس قیمتی اراضی کے گھپلے میں ملوث ہیں۔ان کو بچانے کے لئے ہی سب رجسٹرار س کے مکانات پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس گھپلے میں وزیراعلی کے رشتہ دار، وزیراعلی کے دفتر کے اہم افسر بھی ملوث ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میاں پور کی سروے نمبر100,101اور دیگر سروے نمبرات کی قیمتی اراضیات کا رجسٹریشن حکومت کے اہم ذمہ داروں سے ساز باز کے ذریعہ بعض کمپنیوں نے کروایا اور سرکاری خزانے کو نقصا ن پہنچایا ۔انہوں نے کہاکہ اس اراضی کی بازاری قیمت 15ہزار کروڑروپئے ہے ۔انہوں نے الزام لگایاکہ نائب وزیراعلی نے 50کروڑ روپئے کی مالیت کی اراضی بے نامی رجسٹریشن کروائی ہے ۔انہوں نے دعوی کیا کہ اتنا بڑا اراضی گھپلہ ملک میں قبل ازیں نہیں دیکھا گیا۔اس موقع پر تلنگانہ کونسل میں اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ متحدہ آندھراپردیش اور تلنگانہ کے دس سال تک کی لا اینڈر آر ڈر کی صورتحال کے ذمہ دار دونوں ریاستوں اے پی اور تلنگانہ کے مشترکہ گورنر ہیں۔انہوں نے کہاکہ گورنر اے پی تنظیم نو قانون کے مطابق حیدرآباد اور اس کے اطراف کے علاقوں کی اراضیات کے نگران کار بھی ہیں۔اسی لئے ان سے درخواست کی گئی کہ وہ اے پی تنظیم نو قانون کی دفعہ آٹھ کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کا استعمال کریں اور اس معاملہ میں فوری طورپرمداخلت کریں۔بعد ازاں کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ بھی منعقد ہوئی جس میں میاں پور اراضی گھپلے سمیت خریف کے موسم میں کسانوں کو مشکلات پر تفصیلی طورپر تبادلہ خیال کیا گیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT