Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / ’میرا بھائی عمر خالد ، ہندوستان کا سچا سپوت ہے ‘

’میرا بھائی عمر خالد ، ہندوستان کا سچا سپوت ہے ‘

’الزامات جھوٹ کا پلندہ ‘ ۔ ویڈیو کلپس میں توڑ جوڑ ، میڈیا ٹرائیل سے خوفناک صورتحال ، امریکہ میں زیرتعلیم بہن کا بیان

نئی دہلی ۔ 19 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : جے این یو تنازعہ میں مختلف الزامات کا سامنا کرنے والے پی ایچ ڈی اسکالر عمر خالد کی بہن نے اپنے بھائی کو ہندوستان کا سچا سپوت قرار دیا اور کہا کہ عمر خالد کے خلاف عائد کردہ الزامات من گھڑت توڑ جوڑ اور جھوٹ کا پلندہ ہیں اور یہ تنازعہ ان کے ارکان خاندان کے ہوش و حواس اڑاتے ہوئے زندگی کو اجیرن کردیا ہے ۔ امریکہ میں پی ایچ ڈی کی طالبہ مریم فاطمہ نے عمر خالد کے خلاف ذرائع ابلاغ کے ایک گوشہ کی طرف سے اپنے تجزیوں اور خبروں کے ذریعہ چلائے جانے والے خود ساختہ ’ میڈیا ٹرائیل ‘ کی سخت مذمت کی اور کہا کہ اس سے ’ ہجوم کے ہاتھوں کسی کو گھسٹ کر مار پیٹ ‘ کرنے کی صورت حال پیدا ہورہی ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ افضل گرو کو پھانسی پر لٹکائے جانے کے خلاف جے این یو میں منعقدہ تقریب کے منتظمین میں عمر خالد بھی شامل تھے ۔ عمر خالد جو بائیں بازو کی شدت پسند تنظیم ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس یونین کے سابق رکن ہیں ۔ جے این یو تنازعہ پیدا ہونے کے بعد سے مسلسل لاپتہ ہیں اور پولیس ان کی تلاشی میں مصروف ہے ۔ مریم فاطمہ نے کہا کہ ’ اکثر ٹیلی ویژن چینلس محض غلط اور بے بنیاد معلومات کی بنیاد پر طرح طرح کی کہانیاں بیان کرتے ہوئے ’میڈیا ٹرائیل ‘ چلا رہے ہیں ۔ پہلے یہ دعویٰ کیا گیا کہ آئی بی رپورٹ کے مطابق عمر خالد کا تعلق جیش محمد سے ہے لیکن خود آئی بی نے اس کی تردید کردی ۔ جس کے باوجود یہ کہانیاں بدستور بیان کی جارہی ہیں ۔

ایسی من گھڑت کہانیوں کے سبب ہجوم کی جانب سے کسی کو گھسٹتے ہوئے مار پیٹ کا نشانہ بنائے جانے کی صورتحال پیدا ہورہی ہے ‘ ۔ امریکہ میں زیر تعلیم پی ایچ ڈی اسکالر مریم نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ عمر نے جو قبائیلوں کے حقوق اور نو آبادیاتی جنگلاتی پالیسی کے موضوع پر پی ایچ ڈی کررہے ہیں ۔ بیرون ملک بہتر تعلیم و زندگی کے موقعوں کو ٹھکراتے ہوئے اپنی جان اور کیرئیر کو خطرہ میں ڈال کر اس موضوع پر کام جاری رکھا ۔ مریم فاطمہ نے کہا کہ عمر خالد دراصل غریب اور محروم المراعات طبقہ کے حقوق کے لیے سرگرم جدوجہد چلا رہے تھے ۔ مریم نے الزام عائد کیا کہ جے این یو کی متنازعہ تقریب میں اے بی وی پی کے کارکن ہی مخالف ہند اور ملک دشمن نعرے لگائے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ’ نعرہ بازی کا معاملہ من گھڑت توڑ جوڑ اور جھوٹ کا پلندہ ہے کئی ویڈیوز میں توڑ جوڑ کی گئی ۔ ہم سے یہ پوچھنا مضحکہ خیز ہے کہ آیا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ( مخالف ہند نعرے ) ٹھیک ہیں ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ لیکن آپ کو مزید گہرائی کے ساتھ تحقیق کرنا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ یہ نعرے کس نے لگائے ہیں ۔ وہ ( عمر خالد ) ہندوستان کا سچا سپوت ہے ‘ ۔ فاطمہ جو اپنی پانچ بہنوں میں سب سے بڑی لیکن خالد سے چھوٹی ہیں ،

یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی ایک 12 سالہ کمسن بہن کو بھی دھمکیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے سوشیل میڈیا میں اس لڑکی کو پرتشدد دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔ مریم نے مزید کہا کہ ’ میری بہنوں نے جب خالد کی تائید میں پیغام پوسٹ کیا تو فیس بک پر انہیں پرتشدد دھمکیاں دی جانے لگیں ۔ میری بہنیں اسکول اور کالج کو نہیں جارہی ہیں ۔ منیریکا میں ایسے پوسٹرس منظر عام پر آئے ہیں جن میں راست طور پر عمر کو ہلاک کرنے کی بات کی گئی ہے ۔ جیسا کہ آپ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ اب ہم خود کو بہت زیادہ غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں ‘ ۔ مریم نے کہا کہ عمر خالد کے لاپتہ ہونے کے بعد خاندان کا ان سے کوئی ربط نہیں ہوسکا ہے ۔ دو ٹیلی ویژن چینلوں کو انٹرویو دینے کے بعد انہوں نے آخری مرتبہ بات کی تھی ’ ان کے تحفظ و سلامتی کے بارے میں ہم بہت زیادہ پریشان ہیں ‘ ۔ مریم نے دعویٰ کیا کہ ’ عمر خالد کے پاکستانی دہشت گردوں یا جیش محمد سے کسی رابطہ کے الزامات بالکل غلط ہیں ۔ عمر خالد کے پاس پاسپورٹ بھی نہیں ہے ‘ ۔ ممنوعہ تنظیم سیمی سے اپنے والد سید قاسم رسول الیاسی کے ماضی میں روابط کے بارے میں مریم نے کہا کہ 1985 میں ہی وہ اس تنظیم سے قطع تعلق کرچکے تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT