Thursday , August 24 2017
Home / عرب دنیا / میرا بیٹا دولت اسلامیہ کے نظریات سے متاثر تھا

میرا بیٹا دولت اسلامیہ کے نظریات سے متاثر تھا

روم ۔ 7 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کیلیفورنیا کے سان برنارڈینو میں 14 افراد کو اپنی بیوی کے ساتھ مل کر فائرنگ کے ذریعہ ہلاک کرنے والے سید فاروق کے والد کا کہنا ہیکہ ان کا بیٹا دولت اسلامیہ کے نظریات سے بالکل متفق تھا۔ اطالوی زبان کے روزنامہ ’’لااسٹیمپا‘‘ نے شوٹر کے والد کے حوالہ سے بتایا کہ سید فاروق دولت اسلامیہ کے خالق ابوبکر البغدادی کے اس نظریئے سے بیحد متاثر تھا جس کی بنیاد پر دولت اسلامیہ کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔ یہی نہیں بلکہ سید فاروق اسرائیل سے بھی شدید نفرت کرتا تھا۔ میں ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ صبروتحمل سے کام لو۔ دو سال کے اندر اسرائیل کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہے گا۔ سینئر فاروق نے کہا کہ آج یہودیوں سے متعلق دنیا کے دیگر ممالک کے نظریات بھی تبدیل ہورہے ہیں۔ روس، چین اور یہاں تک کہ امریکہ بھی اپنے ملک میں یہودیوں کی آبادی کا مخالف ہے۔ 67 سالہ والد کا کہنا ہیکہ یہ تمام ممالک یہودیوں کو یوکرین روانہ کردیں گے لہٰذا ایک وقت ایسا آنے والا ہے تو پھر ان سے نبردآزما ہونے اور جنگ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ بات سید فاروق کو اس کے والد نے متعدد بار سمجھانے کی کوشش کی لیکن فاروق اسرائیل کو عاجلانہ طور پر نیست و نابود ہوتے دیکھنا چاہتا تھا۔ 28 سالہ فاروق اور اس کی پاکستانی نژاد 29 سالہ بیوی تشفین ملک نے چہارشنبہ کو ایک سوشیل سنٹر پر 14 افراد کو گولیوں سے بھون ڈالا تھا جبکہ افراتفری میں 21 افراد ہلاک بھی ہوئے تھے۔ تاہم پولیس نے بعد میں انہیں گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ ان کی ہلاکت کو داعش نے شہادت قرار دیتے ہوئے اپنے دونوں ’’سپاہیوں‘‘ کی زبردست ستائش کی اور کہا کہ وہ ان کی عراق اور شام میں خودساختہ ’’خلافت‘‘ کے بہادر سپاہی تھے۔ کیلیفورنیا میں کئے گئے حملے کو اگر دہشت گرد حملہ ثابت کردیا گیا تو 11 ستمبر 2001ء کے بعد امریکہ میں یہ دوسرا بدترین حملہ کہلائے گا۔ حملہ آور کے والد جن کا نام بھی فاروق ہی ہے، 1972ء میں پاکستان سے امریکہ آئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا فاروق جس وقت سن بلوغت کو پہنچ رہا تھا، اس وقت بھی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ زیادہ باہر نہیں جایا کرتا تھا۔ پارٹیوں میں شرکت کرنا بھی اسے پسند نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ یہی کہا کرتا تھا کہ عیش و طرب کی محفلیں ایک اچھے، سچے اور پرہیزگار مسلم کو زیب نہیں دیتیں۔ اس کیلئے اس کی بیوی ہی سب کچھ ہوتی ہے۔ سینئر فاروق نے کہا کہ ایک بار اس نے اپنے بیٹے کے ہاتھ میں پستول دیکھی تھی جس کے بعد وہ اس سے بیحد ناراض ہوگئے تھے۔ اخبار ’’لا اسٹیمپا‘‘ کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر کہ کیا ان کا بیٹا ملک سے باہر دہشت گردوں کے ربط میں تھا؟ جس کا جواب دیتے ہوئے سینئر فاروق نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ امریکہ میں اس وقت جو تحقیقات چل رہی ہیں، اس کے مطابق تشفین ملک کے فیس بک اکاونٹ کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے جس کے بارے میں یہ شبہ ہے کہ اس نے دولت اسلامیہ سے اپنی وفاداری کا کیلیفورنیا حملہ سے صرف کچھ روز قبل ہی حلف لیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT