Monday , May 29 2017
Home / شہر کی خبریں / ’’ میرا ضمیر مطمئن ہے‘‘ ۔ ارکان اپنے گریباں میں جھانک لیں

’’ میرا ضمیر مطمئن ہے‘‘ ۔ ارکان اپنے گریباں میں جھانک لیں

اسد اللہ سی ای او وقف بورڈ کا ردِعمل، اعلیٰ عہدیدار ذمہ دارتاہم مجھے قربانی کا بکرا بنایا گیا

حیدرآباد۔/11مارچ ، ( سیاست نیوز) چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے ان پر عائد کردہ الزامات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو احکامات کی اجرائی کا کوئی اختیار نہیں ہوتا اور انہوں نے جو بھی فیصلے کئے ہیں وہ وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز اور سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل کی منظوری سے کئے گئے۔ وقف بورڈ کی جانب سے ان کی خدمات متعلقہ محکمہ مال کو واپس کرنے کے فیصلہ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد اسد اللہ نے کہا کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی حیثیت سے انہوں نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے جو اقدامات کئے اس سے عوام اور میڈیا اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ اپنی دو سالہ کارکردگی سے ان کا ضمیر مطمئن ہے کہ انہوں نے کسی بھی معاملہ میں سمجھوتہ نہیں کیا اور ہمیشہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ اور منشائے وقف کی تکمیل ان کے پیش نظر رہی۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ میں آج بھی بعض ارکان پر اوقافی جائیدادوں کے معاملہ میں سنگین الزامات ہیں اور تحقیقات بھی جاری ہیں۔ اس بارے میں بورڈ کا کیا موقف ہے؟۔ محمد اسد اللہ نے جو بیک وقت قانون، ریونیو اور اوقافی اُمور پر عبور رکھتے ہیں‘ انکشاف کیا کہ کئی معاملات میں انہوں نے اپنا اختلافی نوٹ فائیل میں تحریر کیا لیکن عہدیدار مجاز جو سکریٹری اقلیتی بہبود بھی ہیں ان کی رائے کو نظرانداز کرتے ہوئے پروسیڈنگ جاری کرنے کی ہدایت دی۔ محمد اسداللہ نے انتہائی جذباتی انداز اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ بورڈ کے بعض ارکان کی جانب سے ان پر عائد کردہ الزامات پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک درگاہ یوسفینؒ کے متولی کی میعاد میں توسیع کا مسئلہ ہے یہ فائیل زیر دوران تھی اور عہدیدار مجاز کی منظوری کے بعد احکامات جاری کئے گئے۔ انارم شریف درگاہ کے سلسلہ میں انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی تشکیل کا عمل شروع ہونے سے قبل ہی ٹنڈر طلب کئے گئے تھے اور 82 لاکھ روپئے میں ٹنڈر منظور کیا گیا۔ اس جائیداد کی آمدنی میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے بورڈ نے حالیہ عرصہ میں پروسیڈنگ جاری کی ہے اور بورڈ کی تشکیل کے بعد سارا پراسیس مکمل کرنے کا الزام غلط ہے۔ یہ احکامات بھی عہدیدار مجاز کی منظوری سے جاری کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی اہم درگاہوں کے ٹنڈرس کو مقامی افراد اور سیاستداں روک رہے ہیں جس کے باعث وقف بورڈ کی آمدنی متاثر ہورہی ہے، ان میں درگاہ حضرت جان پاک شہید ؒ، درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ اور درگاہ حضرت سعد اللہ حسینیؒ شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آؤٹ سورسنگ پر ملازمین کے تقرر کا عمل پہلے ہی سے جاری تھا اور عہدیدار مجاز کی منظوری سے تقررات عمل میں آئے۔ ڈی اے کے غیر مجاز طریقہ سے حصول کے الزام پر محمد اسد اللہ نے کہا کہ اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی میں اس مسئلہ پر غور ہوچکا ہے اور سکریٹری اقلیتی بہبود کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بشمول ان کے دیگر عہدیداروں نے ڈی اے کے تحت حاصل کردہ رقم کو سود سمیت وقف بورڈ کے اکاؤنٹ میں واپس کردیا ہے۔ ڈی اے کی منظوری بھی عہدیدار مجاز نے دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر ایک رکن قانون ساز کونسل نے ویجلنس میں شکایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک الزامات ثابت نہ ہوں اسوقت تک کسی کو مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خدمات کی واپسی کے سلسلہ میں بورڈ کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں اور اگر الزامات کے سلسلہ میں تحریری وضاحت طلب کی جائے تو وہ جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الزامات کے سلسلہ میں وہ کسی بھی قانونی اور محکمہ جاتی کارروائی کا سامنا کرنے تیار رہیں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT