Tuesday , June 27 2017
Home / عرب دنیا / ’’میری حکومت کشمیر میں ’’مجاہدین آزادی‘‘ کی نگرانکار تھی‘‘

’’میری حکومت کشمیر میں ’’مجاہدین آزادی‘‘ کی نگرانکار تھی‘‘

دنیا نیوز کو پاکستان کے سابق فوجی حکمراں پرویز مشرف کا ایک اور متنازعہ انٹرویو

اسلام آباد ۔ 20 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے سابق فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف نے آج ایک اور متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دورحکومت میں کشمیر میں ان کی (مشرف) حکومت نے مجاہدین آزادی کے تمام انتظامات سنبھال رکھے تھے۔ تاہم بعد میں ہمیں یہ احساس ہوا کہ اس معاملہ پر ہندوستان کے ساتھ سیاسی نوعیت کی بات چیت ہونا چاہئے۔ یاد رہیکہ پرویز مشرف نے 2001ء سے 2008ء تک پاکستان کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے 1999ء میں عوامی منتخبہ حکومت کا تختہ پلٹ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے حکومت ہند کو ان موضوعات پر مباحثہ کیلئے مجبور کیا جس پر مباحثہ کیلئے حکومت ہند قطعی تیار نہیں تھی۔ دنیا نیوز کو ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ جس وقت وہ پاکستان کے صدر اور فوجی سربراہ تھے، اس وقت پاکستان کامیابیوں کا زینہ چڑھتا جارہا تھا۔ ہم نے ان تمام متنازعہ موضوعات پر مباحثہ کیلئے ہندوستان کو مذاکرات کی میز پر لانے اقدامات کئے جبکہ حکومت ہند مذاکرات کرنے میں سرے سے دلچسپی ہی نہیں رکھتی تھی۔ اپنی بات ایک بار پھر دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت ہی کشمیر میں مجاہدین آزادی کا پورا پورا خیال رکھتی تھی تاہم بعد میں اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ ہندوستان سے مذاکرات کیلئے اسے سیاسی طریقہ کار سے جوڑنا مناسب ہوگا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ مشرف گذشتہ سال مارچ میں پاکستان سے اس وقت دبئی منتقل ہوگئے تھے جب ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کردیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ افغانستان کی انٹلیجنس ایجنسی دی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکوریٹی ہندوستان کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی تھی اور پاکستان میں دہشت گرد گروپس کیلئے بطور مہرہ استعمال کی جاتی تھی۔ انہوں نے ادعا کیا کہ آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ میں کوئی خامیاں نہیں تھیں کیونکہ اس کا واحد مقصد شمالی وزیرستان کو نشانہ بنانا تھا۔ آپریشن ضرب عضب کے ذریعہ پاکستانی فوج نے ادعا کیا تھا کہ اس میں ہزاروں عسکریت پسندوں کا خاتمہ کیا گیا تھا۔ 73 سالہ سابق قائد نے کہا کہ اس آپریشن کے ذریعہ دہشت گردوں کے تمام کیمپوں اور لانچنگ پیاڈس کو تباہ کردیا گیا تھا۔ ان دہشت گردوں کو ہندوستانی جاسوسی ایجنسی کی این ڈی ایس کے تعاون سے تائید حاصل تھی۔ بہرحال اب اگر ہم حالات کا جائزہ لیں تو دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کیلئے ہمیں ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ان کا اشارہ جاریہ سال پاکستان میں ہوئے متعدد دہشت گردانہ حملوں کی جانب تھا جن میں سینکڑوں افراد نے اپنی قیمتی جانیں گنوائیں جن میں درگاہ شہباز قلندر ؒ میںہوئے خودکش حملہ ابھی بھی ذہنوں میں تازہ ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کو ہی دہشت گردوں کو پناہ دینے کیلئے موردالزام ٹھہرایا۔ انہوں نے ’’سیلپرس سیلز‘‘ کے خاتمہ کیلئے کئے جانے والے اقدامات پرعدم اطمینانی کا اظہار کیا کیونکہ ان کے مطابق وہ (سلیپرسیلز) آج بھی ملک میں سرگرم ہیں جن میں نسبتاً پرامن پنجاب بھی شامل ہے جو آہستہ آہستہ لشکرجھانگوی کا محفوظ ٹھکانہ بن گیا تھا لیکن ان کے (مشرف) دور میں لشکرجھانگوی کے بھی دانت کھٹے کردیئے گئے تھے لیکن جیسے ہی وہ (مشرف) اپنے عہدہ سے دستبردار ہوئے، دہشت گردی کا ایک بار پھر بول بالا ہوگیا۔ حالانکہ ہم مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کے انتہائی قریب پہنچ گئے تھے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ صرف دو روز قبل پرویز مشرف نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ اور ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کے بارے میں واضح طور پر کہا تھا کہ انہیں رہا کیا جانا چاہئے۔ آج بھی انہوں نے حافظ سعید کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گرد نہیں ہے۔ ہندوستان حافظ سعید کے پیچھے ہاتھ دھوکر اس لئے پڑا ہوا ہے کیونکہ اس کے حامی رضاکارانہ طور پر کشمیر جاکر ہندوستانی فوج کے ساتھ لڑتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT