Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / میلانیا ٹرمپ کے پورٹریٹ پر ملے جلے تاثرات

میلانیا ٹرمپ کے پورٹریٹ پر ملے جلے تاثرات

واشنگٹن ۔ 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وائیٹ ہاؤس نے سرکاری طور پر خاتون  اول میلانیا ٹرمپ کا ایک پورٹریٹ جاری کیا ہے جس کے بارے میں امریکی عوام کے ملے  جلے تاثرات سامنے آئے ہیں۔ یاد رہیکہ میلانیا ٹرمپ سابق میں ایک ماڈل تھیں۔ انہیں ہاتھ باندھے ہوئے اور بلیک جیکٹ زیب تن کئے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ ان کی گردن کے اطراف ایک سیاہ bow بھی ہے۔ اپنی بائیں ہاتھ کی انگلی میں انہوں نے ہیرے کی انگوٹھی پہن رکھی ہے۔ پورٹریٹ کو بلجیم سے تعلق رکھنے والے فوٹوگرافر ریگین مہاکس نے تیار کیا ہے جو قبل ازیں ٹرمپ خاندان کے ساتھ کام کرچکا ہے۔ پورٹریٹ میں میلانیا ٹرمپ کو ہلکی سی مسکراہٹ بکھیرتے دکھایا گیا ہے۔ اس پورٹریٹ پر لوگوں کے ملے جلے تاثرات سامنے آئے ہیں جہاں کچھ لوگوں نے انہیں انتہائی خوبصورت قرار دیا جبکہ کچھ لوگوں نے پورٹریٹ کے پس منظر پر اعتراض کیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہیکہ امریکہ کے سابق صدور کی اہلیہ اپنے شوہروں کے ساتھ وائیٹ ہاؤس میں ہی قیام کیا کرتی تھیں وہیں میلانیا ٹرمپ میان ہٹن میں واقع اپنے پینٹ ہاؤس میں اس وقت تک قیام کریں گی جب تک ان کے بیٹے بیرن کی اسکولی تعلیم مکمل نہیں ہوجاتی۔

اقوام متحدہ آبادی فنڈ کو امریکی امداد مسدود
جبری خاندانی منصوبہ بند و اسقاط حمل کیخلاف ٹرمپ کا اقدام
واشنگٹن 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) حکومت امریکہ نے اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ کو دی جانے والی امداد مسدود کردینے کا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ یہ ادارہ مبینہ طور پر جبری خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں پر عمل کررہا ہے جس میں اسقاط حمل اور مرض کے بغیر نس بندی آپریشن بھی شامل ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیداروں کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیر خارجہ ایکس ٹلرسن کو ہدایت کی ہے کہ وہ قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کریں تاکہ اس بات کو ٹیکس دہندگان کی رقومات ایسے اداروں اور پروگراموں پر صرف نہ کی جائے جو جبری اسقاط حمل اور مرضی کے بغیر نس بندی میں ملوث ہیں۔ عہدیدار نے ایک بیان میں کہاکہ فنڈس کی مسدودی پر مالیاتی سال 2017 ء سے عمل آوری ہوگی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’اقوام متحدہ کے ادارہ کو اس حقیقت کی بنیاد پر فنڈس کی مسدودی عمل میں آئی ہے کہ چین کے خاندانی منصوبہ بندی پروگرام اور پالیسیوں میں جبری اسقاط حمل اور غیر رضاکارانہ نس بندی کا طریقہ کار ہنوز برقرار اور جاری ہے۔ مزید برآں اقوام متحدہ آبادی فنڈ چینی حکومت کی اس ایجنسی کی سرگرمیوں میں شامل ہے جو خاندانی منصوبہ بندی کی ان جبری پالیسیوں کی ذمہ دار ہے۔ اقوام متحدہ آبادی فنڈ کے ویب سائٹ کے مطابق اس ادارہ کو 2015 ء میں مجموعی طور پر 979 ملین امریکی ڈالر امداد حاصل ہوئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT