Monday , July 24 2017
Home / شہر کی خبریں / میناریٹی فینانس کارپوریشن لاوارث صدر نشین اور منیجنگ ڈائرکٹر لاپتہ

میناریٹی فینانس کارپوریشن لاوارث صدر نشین اور منیجنگ ڈائرکٹر لاپتہ

حیدرآباد ۔ 17 ۔ مئی (سیاست نیوز) اقلیتی بہبود کے اداروں میں فینانس کارپوریشن کو نمایاں اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس کارپوریشن کے ذریعہ اقلیتوں کی معاشی ، تعلیمی اور سماجی ترقی کے کئی ایک منصوبوں پر عمل کیا جاسکتا ہے لیکن افسوس کہ ان دنوں یہ ادارہ ایک لاوارث ادارہ میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ اس کے لئے نہ صرف حکومت بلکہ ادارہ میں فائز کئے گئے اعلیٰ عہدیدار ذمہ دار ہے ۔ حکومت نے کارپوریشن کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے صدرنشین کا تقرر کیا لیکن فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ صدرنشین کشمیر کے دورہ پر ہیں جبکہ مینجنگ ڈائرکٹر کو اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کی ذمہ داریوں سے فرصت نہیں۔ ظاہر ہے کہ جب صدرنشین اور مینجنگ ڈائرکٹر نہ ہوں تو پھر ادارہ کی کارکردگی کا ٹھپ ہوجانا یقینی ہے۔ کارپوریشن سے وابستہ ماتحت عہدیداروں نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران کارپوریشن کی کارکردگی صفر ہوچکی ہے اور ایک بھی اسکیم پر جاریہ سال عمل آوری کا آغاز نہیں ہوا۔ گزشتہ دو برسوں سے اقلیتی فینانس کارپوریشن اپنے اہم اسکیمات جیسے قرض پر سبسیڈی کی اجرائی اور ٹریننگ ایمپلائیمنٹ پر عمل آوری میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے ۔ ان اسکیمات کیلئے خواہشمند افراد روزانہ کارپوریشن کے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن انہیں صدرنشین اور مینجنگ ڈائرکٹر کا دیدار نصیب نہیں ہوتا۔ بتایا جاتا ہے کہ صدرنشین خود بھی کارپوریشن کی سرگرمیوں میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں اور وہ زیادہ تر سکریٹریٹ یا پھر اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کے دفتر واقع بنجارہ ہلز میں دکھائی دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مینجنگ ڈائرکٹر سے مختلف منظوریاں حاصل کرنے کیلئے صدرنشین خود اقامتی اسکول سوسائٹی کے دفتر پہنچ جاتے ہیں۔ مینجنگ ڈائرکٹر کو اقامتی اسکول سوسائٹی کی سرگرمیوں سے فرصت نہیں کہ وہ حج ہاؤز میں واقع اقلیتی فینانس کارپوریشن میں کچھ وقت گزار سکے ۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں سے مینجنگ ڈائرکٹر نے اپنے چیمبر میں قدم نہیں رکھا۔ حالیہ عرصہ میں لاکھوں روپئے خرچ کرتے ہوئے صدرنشین اور مینجنگ ڈائرکٹرس کے چیمبرس کی سجاوٹ اور سہولتوں کی فراہمی کا کام انجام دیا گیا تھا لیکن آج یہ چیمبرس خالی پڑے ہیں۔ قرض پر سبسیڈی اور فیس ری ایمبرسمنٹ جیسی اہم اسکیمات کے سلسلہ میں کارپوریشن کے دفتر پہنچنے والے افراد نے شکایت کی ہے کہ دفتر میں کبھی بھی کوئی ذمہ دار عہدیدار دستیاب نہیں رہتا اور ماتحت ملازمین کسی بھی سوال کا تشفی بخش جواب دینے سے قاصر ہیں۔ صدرنشین اور مینجنگ ڈائرکٹر کا یہ حال ہے تو کارپوریشن میں جنرل مینجر بھی اکثر و بیشتر غائب رہتے ہیں، انہیں اقامتی اسکولس سوسائٹی میں اہم ذمہ داری دی گئی ہے، لہذا وہ اپنا زیادہ تر وقت سوسائٹی کے دفتر میں گزار رہے ہیں۔ اقلیتی فینانش کارپوریشن کا دفتر عملاً ویران ہوچکا ہے اور خود ملازمین کے پاس صرف حاضری درج کرانے کے علاوہ کوئی کام نہیں۔ اگر عہدیداروں کی عدم دلچسپی کی یہی صورتحال رہی تو کارپوریشن کے قیام کا مقصد فوت ہوجائے گا اور اس کا وجود بے معنی ہوجائے گا۔ اقامتی اسکولس کے آغاز کے سلسلہ میں سوسائٹی کے صدرنشین اے کے خاں اور سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمرجلیل بھی کافی سرگرم ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ ان عہدیداروں نے کارپوریشن کے مینجنگ ڈائرکٹر اور جنرل مینجر کو زیادہ تر وقت اسکول سوسائٹی میں صرف کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جب حکومت کے مشیر اور سکریٹری اقلیتی بہبود کو کارپوریشن سے دلچسپی نہ ہوں تو ظاہر ہے کہ اسکیمات سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔اطلاعات کے مطابق اقامتی اسکولوں میں عارضی تقررات کے سلسلہ میں بڑے پیمانہ پر بے قاعدگیوں اور دھاندلیاں پائی جاتی ہیں۔ سوسائٹی سے وابستہ افراد خود بھاری رقومات حاصل کرتے ہوئے تقررات کے اسکام میں ملوث ہیں ۔ جس طرح اقلیتی فینانس کارپوریشن نے سابق میں اسکام منظر عام پر آیا ہے ، عجب نہیں آنے والے دنوں میں اقامتی اسکول سوسائٹی نے بھی اسی طرح کا اسکام منظر عام پر آئے گا۔ کارپوریشن کو کارکرد بنانے اور اسکیمات پر عمل آوری کیلئے حکومت کو چاہئے کہ وہ مینجنگ ڈائرکٹر کے عہدہ پر کسی اور عہدیدار کا تقرر کریں تاکہ موجودہ مینجنگ ڈائرکٹر اپنی ساری توانائیاں اقامتی اسکول سوسائٹی پر صرف کرسکیں۔ حالیہ عرصہ میں حکومت نے مینجنگ ڈائرکٹر کے عہدہ پر وقف بورڈ کے سابق چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے تقرر کا فیصلہ کیا تھا ، تاہم سکریٹری اقلیتی بہبود نے اس تجویز کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کردی کہ یہ عہدیدار مینجنگ ڈائرکٹر رینک کے نہیں ہیں۔ حالانکہ سابق میں ان سے کم رتبہ کے عہدیدار بھی مینجنگ ڈائرکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ جو اقلیتی بہبود کا قلمدان اپنے پاس رکھے ہیں، انہیں کارپوریشن کی کارکردگی پر فوری توجہ دینی چاہئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT