Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / میناریٹی ڈائیٹ کالجس میں اُردو کے بجائے تلگو امیدواروں کا داخلہ

میناریٹی ڈائیٹ کالجس میں اُردو کے بجائے تلگو امیدواروں کا داخلہ

اردو والوں سے ناانصافی اور تعلیمی سال ضائع، طلبہ و اولیائے طلبہ کی جناب زاہدعلی خان سے نمائندگی
حیدرآباد 10 مارچ (سیاست نیوز) انٹرمیڈیٹ کے بعد دو سالہ ٹیچر ٹریننگ کورس ڈی ایڈ کو اب ڈی ای ای (ڈپلوما ان ایلیمنٹری ایجوکیشن) کیا گیا ہے۔ جو گورنمنٹ کے ڈائٹ کالجس اور میناریٹی کے پرائیوٹ کالجس تلنگانہ میں 22 ہیں، ان کالجس کی ایس ڈبلیو دوم کونسلنگ 10 مارچ تک ہوگی۔ جبکہ انٹرنس ٹسٹ 3 اگسٹ 2015 ء کو ہوا اور گورنمنٹ کونسلنگ، اسنادات کی تصدیق ماہ سپٹمبر میں مکمل ہوئی۔ اب جبکہ تعلیمی سال ختم ہونے والا ہے۔ میناریٹی کالجس کی کونسلنگ میں حیدرآباد کے علیگڑھ بوائز اسوسی ایشن ہال، بشیر باغ میں اس کی کونسلنگ میں شہر کے علاوہ تلنگانہ کے اضلاع عادل آباد، نظام آباد، محبوب نگر، نلگنڈہ، میدک، ورنگل دور دراز علاقوں سے طلباء و طالبات والدین کے ساتھ شریک ہوئے۔ ان امیدواروں نے ڈی ایڈ کا انٹرنس اردو میڈیم سے تحریر کیاتھا لیکن میناریٹی کی اس کونسلنگ میں 22 کالجس صرف تلگو میڈیم کے لئے مختص تھے۔ طلباء اور سرپرستوں کو شدید مایوسی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں ایسے طلبہ بھی شامل ہیں جنھوں نے صرف ڈی ایڈ میں داخلے کی خاطر ڈگری میں داخلے نہیں لیا۔ اب ان کا تعلیمی سال ضائع ہورہا ہے۔ اس ضمن میں طلباء اور اولیائے طلبہ کا ایک وفد دفتر سیاست میں جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست سے نمائندگی کیا اور تمام تفصیلات سے واقف کروایا۔ 22 میناریٹی کالجس کے انتظامیہ نے میناریٹی طبقہ سے تعلق رکھنے والی طالبات جو اردو میڈیم میں داخلے کے خواہاں ہیں اور اردو سے انٹرنس امتحان تحریر کیا اور اردو کی متوازی کلاسیس چلانے کے لئے حکومت سے نمائندگی کے لئے جناب زاہد علی خاں سے نمائندگی کی۔ ایڈیٹر سیاست نے تفصیل سے سماعت کے بعد کہاکہ اردو میڈیم کا ڈی ایڈ کورس مولانا آزاد اردو یونیورسٹی میں بھی ہے اور تلنگانہ حکومت نے جب میناریٹی کالجس کو اقلیتی موقف کے ساتھ کالجس کی اجازت دی ہے تو اردو کے بجائے تلگو کا مطلب کیا ہے جبکہ تلنگانہ میں اردو دوسری سرکاری زبان ہے۔ اردو میڈیم کے طلبہ کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے۔ ان کو یہ دو سالہ ٹیچر ٹریننگ کورس میں داخلے اس تعلیمی سال کیلئے دیا جائے۔ اس موقع پر ایم اے حمید کے ہمراہ طلباء و طالبات اور سرپرست موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT