Thursday , August 17 2017
Home / اضلاع کی خبریں / میناریٹی کمیشن مسلم طلبہ کو انصاف دلانے سے قاصر

میناریٹی کمیشن مسلم طلبہ کو انصاف دلانے سے قاصر

ہائی کورٹ سے رجوع ہونے چیرمین کمیشن کا زبانی مشورہ

بودھن۔/2فبروری،( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) شعبہ انجینئرنگ میں زیر تعلیم مسلم طلبہ کو میناریٹی کمیشن اے پی و تلنگانہ انصاف دلانے سے قاصر ہے کمیشن سے رجوع ہونے پر ہائی کورٹ میں اپنا مقدمہ پیش کرنے کا چیرمین کمیشن نے زبانی مشورہ دیا۔ تفصیلات کے مطابق کنوینر ایمسیٹ نے سال 2015-16 کے دوران شعبہ انجینئرنگ میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کو اہلیتی امتحان ایمسیٹ سال 2015ء میں شرکت کرنے ماہ فبروری کے دوران نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں حسب سابق قواعد میں کسی تبدیلی کے تعلق سے واضح صراحت پیش نہیں کی گئی لیکن بعد امتحان کوالیفائی طلبہ کو اپنے پسندیدہ کالجس میں رینک کے حساب سے داخلہ حاصل کرنے ماہ جون کے دوران ایک اعلامیہ کی اجرائی عمل میں لائی جس میں کنوینر ایمسٹ نے بتایا کہ اس سال ایمسیٹ کامیاب مسلم طلبہ کو ہی فیس باز ادائیگی کی سہولت حاصل رہے گی جبکہ سابق میں مسلم میناریٹی طلبہ کو کنوینر کوٹہ کے تحت مختص کردہ مخلوعہ نشستوں پر 10+2 کامیاب اہل طلبہ کو SWII کے تحت داخلہ دیا جاتا رہا اور انہیں فیس بازادائیگی کی سہولت حاصل ہوتی رہی۔ فیس بازادائیگی کا تعلق راست ریاستی حکومت سے ہے حکومت کسی وجہ سے اپنے سابقہ احکامات سے دستبردارہوجاتی ہے تو وہ اس تعلق سے باضابطہ نوٹیفکیشن یا جی او جاری کرتی ہے لیکن اب سال حکومت تلنگانہ کی جانب سے مسلم طلبہ کو فیس باز ادائیگی کی سہولت سے دستبرداری اختیار کرنے کا حکومت تلنگانہ نے ماہ فبروری سال 2015 کے بعد کوئی جی او جاری نہیں کیا۔ کنوینر ایمسٹ کی جانب سے غیر اصولی طور پر اہل مسلم طلبہ کی فیس بازادائیگی کی سہولت سے دستبرداری کے فیصلہ پر تلنگانہ اردو جرنلسٹ فورم بودھن نے اس معاملہ کو میناریٹی کمیٹی سے رجوع کیا۔ کمیشن نے ایمسیٹ کنوینر کو نوٹس جاری کیا جس کا فوری جواب نہیں دیا۔ دوسری نوٹس کے جواب میں ایمسیٹ کنوینر نے سال 2012ء کے دوران جاری کردہ جی او کی نقل کمیشن کو روانہ کیا، اس جی او میں کسی بھی جگہ پر SWII کے ذریعہ داخلہ حاصل کرنے والے اہل مسلم طلبہ کو فیس بازادائیگی کی سہولت ختم کردینے کی کنوینر ایمسیٹ کو ہدایت نہیں دی گئی۔ ہمارے میناریٹی کمیشن چیرمین ایمسیٹ کنوینر کو طلب کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کے اختیارات نہیں رکھتے۔ چیرمین کمیشن نے ایمسیٹ کنوینر کے جواب پر موصوف نے سال 2012 کے دوران جاری کردہ جی او کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فورم کو مشورہ دیا جبکہ چیرمین میناریٹی کمیشن خود کنوینر سے ماہ فبروری سال2015 کے بعد حکومت کی طرف سے مسلم طلبہ کو فیس بازادائیگی کو مسدود کرنے کیلئے جاری کردہ جی او کو پیش کرنے کی ہدایت دے سکتے تھے۔ واضح ہو کہ سال 2014-15  تک SWII کے تحت داخلہ حاصل کرنے والے مسلم طلباء کو فیس بازادائیگی کی سہولت حاصل رہی لیکن اس سال سے یہ سہولت ختم کردینے کی کنوینر ایمسیٹ نے اعلان کردیا۔

TOPPOPULARRECENT