Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / میوا مرکز‘ میسور میں جلسہ تقسیم اسناد و انعامات

میوا مرکز‘ میسور میں جلسہ تقسیم اسناد و انعامات

میسور ۔23اپریل (سیاست ڈاٹ کام)بروز جمعہ بتاریخ 21 ؍ اپریل2017 کی سہ پہر چار بجے بمقام جبار فنکشن ہال شانتی نگر میسور میوا ایجو کیشنل ا ور وکیشنل ٹریننگ سنٹرکے تحت جلسۂ تقسیم اسنادمنعقد کیا گیا جس کی صدارت کیپٹن میر افضل حسین صدر میوا نے فرمائی ۔مہمانان خصوصی ڈاکٹر محمد غوث شریف یم ڈی اور معروف مزاح نگار مشتاقؔ ؔسعید رہے۔ یہ اجلاس میر سر فراز الرحمٰن کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔ باقر عمر خان معتمد میوا اور انور پاشاہ سابق خازن میوا بھی شہ نشین پر جلوہ افروز تھے۔یہ نشست عائشہ آفرین کی تلاوت آیات ربانی سے شروع ہوئی۔ شفاء سلطانہ نے حمد باری تعالیٰ کا اور عظمہ سلطانہ نے نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔ہاجرہ بیگم، عائشہ آفرین، شبانہ خانم، نے اپنے تربیتی دور کے تاثرات پیش کئے ۔ برکت النساء اور نعمت اﷲ خان نے رپورٹ پیش کیں۔صبا شریف نے’’ علم کی اہمیت‘‘ پر بصیرت افروز برزبانی خطاب کیا۔ ثانیہ نے شستہ انگریزی میں تقریر کی۔ باقر عمر خان معتمد میوا نے شہ نشین پر بیٹھے ہوئے تمام مہمانان کا، اساتذہ کرام کا اور طلباء و طالبات کا استقبال کیا۔ مہمان خصوصی اورمیوا کے سابق صدرڈاکٹر محمد غوث شریف نے میوا کی کاروائیوں پر اطمینان کا اظہار کیا

اور انکشاف کیا کہ ’’میوا ‘‘کی طبعی عمر 32 سال کی ہے ا س درمیان میوا ترقی کے مدارج طئے کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے یہ یقین بھی دلایا کہ وہ مستقبل میں میوا کا ہر ممکن تعاون کر نے کے لیے تیار ہیں۔ مشتاق ؔسعید نے مزاحاً اعتراف کیاکہ وہ نہ تو شہ نشین پر بیٹھنے کے لائق ہیں اور نہ ہی تقریر کرنے کے قابل ہیں۔صرف قلم چلانا جانتے ہیں اور زبان ہلانا نہیں جانتے۔میر سرفرازالرحمٰن نے ادارۂ ادبیات حیدرآباد بتوسط روزنامہ ’’سیاست‘‘ حیدرآباد کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے یہاں میسور میں اردو دانی ، زبان دانی اور اردو انشا کورسز کا آغاز کرکے اردو کو آگے بڑھانے کا کامیاب بیڑا اٹھایا ہے،ساتھ ہی ساتھ کرناٹک اردو اکادمی نے بھی تعاون کیا ہے۔

اجلاس کے آگنائزرنعمت اﷲ خان نے بتایا کہ میوا سنٹر میں کسی بھی تربیت کے لیے جوبھی داخلہ لیتا ہے اسے اردو سکھائی جاتی ہے تاکہ اردو کو بڑھاوا مل سکے۔ محمد ابراہیم خان فاؤنڈیشن کے اسلامی معلومات عامہ کے امتحانات کے تعلق سے بتایا کہ یہ شہر میسور سے باہر نکل کر دوسرے شہروں میں بھی پہنچ گیا ہے۔یہ اسلامی معلومات عامہ کی مقبولیت کی دلیل ہے۔کیپٹن میر افضل حسین صدر میوا نے اپنے صدارتی خطاب میں میوا کے تمام منتظمین اور اساتذہ کی تعریف کی جو دن رات اس مرکز میں ٹریننگ حاصل کرنے والوں کی مدد کرتے ہوئے انہیں بڑھاوا بھی دیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ میوا مرکز صرف ٹریننگ کا مرکز نہیں ہے بلکہ روٹی روزی سے جوڑنے والا مرکز بھی ہے۔ اس لیے کہ یہاں ایسے اصناف کی ٹریننگ دی جاتی ہے جو آگے چل کرانہیں روزگار مہیا کرتاہے جیسے ٹیلرنگ، کشیدہ کاری، مہندی ڈیزاننگ، کمپیوٹر کورسزوغیرہ۔میوا کے تمام اصناف میں کامیاب ٹریننگ حاصل کرنے والے سبھی طلباء اور طالبات کو شہ نشین پر بیٹھے ہوئے مہمانان کے بدست انعامات و اسناد تقسیم کیے گیے۔ الحاج انور پاشاہ سابق خازن میوا کومحمود ایاز اوارڈ ملنے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے تہنیت پیش کی گئی۔انہیں کے اظہارِ تشکر کے بعد یہ محفل برخاست ہوئی جس میں خواتین ہی خواتین نظر آرہی تھیں۔

TOPPOPULARRECENT