Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / میونخ کے شاپنگ سنٹر میں فائرنگ، کم از کم 6 ہلاک

میونخ کے شاپنگ سنٹر میں فائرنگ، کم از کم 6 ہلاک

مفرور حملہ آوروں کی تعداد نامعلوم ۔ ناکہ بندی کیساتھ تلاشی مہم شروع ۔ عوام گھروں میں رہیں : جرمن پولیس
میونخ ، 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) جرمنی کے شہر میونخ کے ایک شاپنگ سنٹر میں آج اندھا دھند فائرنگ میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہوگئے اور ایک یا زائد حملہ آور مفرور ہے، پولیس نے یہ بات کہی۔ اخبار ’بائلٹ‘ نے اطلاع دی کہ ایک بندوق بردار جنوبی جرمن شہر میں اولمپک اسٹیڈیم کے قریب واقع مال میں دندناتے ہوئے آیا اور کئی لوگوں پر فائرنگ کے بعد قریبی میٹرو اسٹیشن کی سمت میں فرار ہوگیا۔ میونخ پولیس کی ترجمان نے نیوز ایجنسی ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ کئی افراد مارے گئے اور متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ یہ شوٹنگ مکڈونالڈ کی رسٹورنٹ میں 2130 بجے (ہندوستانی وقت) سے کچھ قبل شروع ہوئی۔ حملہ آور یا ممکنہ طور پر کئی حملہ آور بظاہر مفرور ہیں۔ پڑوسی فرانس اور بلجیم میں بمباریوں کے بشمول سلسلہ وار حملوں کے تناظر میں یورپ حالیہ عرصے میں دہشت گردی کے تعلق سے چوکس رہا ہے۔ شاپنگ سنٹر کی مسلح پولیس نے ناکہ بندی کردی ہے اور انھیں حملہ آور کی تلاش ہے، جبکہ علاقہ میں ہیلی کاپٹر کی پرواز جاری ہے۔ میونخ پولیس نے عوام سے اس علاقہ کو نہ آنے کی اپیل کرتے ہوئے ٹوئٹر پر کہا کہ متاثرہ شاپنگ سنٹر میں بڑی پولیس مہم جاری ہے۔ آس پاس کی سڑکوں پر ایمرجنسی گاڑیاں متحرک ہیں۔ متاثرہ سنٹر سے دکاندار تیزی سے دوڑ گئے اور بعض کے ہاتھوں میں بچے تھے۔ میونخ پولیس کی ٹوئٹ میں کہا گیا کہ عوام چوکنا رہیں… او ای زیڈ شاپنگ سنٹر کے اطراف و اکناف نہ رہیں۔ اپنے گھروں میں رہیں۔ سڑکوں و بازار سے چلے جائیں۔ جرمنی ابھی تک اُس نوعیت کے بڑے جہادی حملوں سے بچا ہوا ہے جو پڑوسی فرانس میں دیکھے گئے ہیں۔ لیکن آج کی شوٹنگ محض چند روز بعد پیش آئی جبکہ سیاسی پناہ کے طلبگار ایک کم عمر نوجوان نے دوشنبہ کو جرمنی کی ایک ریجنل ٹرین پر کلہاڑی اور چاقو کے ساتھ بڑا دنگا مچایا تھا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد کو زخم آئے، جن میں سے دو شدید زخمی ہوئے۔ ایک زخمی کے تعلق سے جمعہ کو متعلقہ اسپتال نے کہا کہ وہ ہنوز خطرہ سے باہر نہیں ہوا ہے۔ وزیر داخلہ تھامس ڈی میزیئر نے کہا کہ کم عمر لڑکا ہی ’’واحد حملہ آور‘‘ معلوم ہوا ہے جو بظاہر اسلامک اسٹیٹ گروپ سے ’’متاثر‘‘ ہوا لیکن اس جہادی نٹ ورک کا ممبر نہیں ہے۔ حکام نے کہا کہ اُس نے جنوبی شہر ویرزرگ کے قریب ٹرین میں تین مرتبہ نعرۂ تکبیر ’’اللہ اکبر‘‘ بلند کیا اور پھر مسافروں پر چاقوزنی شروع کی تھی۔ وہ حملہ آور افغان یا پاکستانی مانا جارہا ہے اور تحقیقات کار اُس کی شناخت کا پتہ چلانے کوشاں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT