Sunday , April 30 2017
Home / اضلاع کی خبریں / میونسپل بیدر پر بدعنوانیوں کا راج ، وزیر بلدیہ کی چشم پوشی

میونسپل بیدر پر بدعنوانیوں کا راج ، وزیر بلدیہ کی چشم پوشی

نائب صدر پر غیرمجاز اختیارات کے استعمال کا الزام ، سابق کونسلر ایم اے مجید کی پریس کانفرنس

بیدر۔7مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)بیدر میونسپل ہی ایک ایساادارہ ہے جہاں پر سال بھر بدعنوانیوں کی بھر مارہوتی ہے لیکن اس قدرسنگین معاملات ہونے کے باوجود نہ حکومت کے کان پر جوں ریگنتی ہے اورنہ ہی رابطہ وزیر کواان بدعنوانیوں پر توجہ دیکرادارہ کوعوام کی بلدی ضروریات کوپورا کرنے کے لئے احکام دینے کے فرصت ہے ہرطرف جب بدعنوانیوں کاراج ہوتوایسی صورت میںعوام کے مسائل کس طرح سے حل ہو سکتے ہیں۔ سابق کونسلرایم اے مجید عرف معین بھائی نے بلدیہ بید رکی زبوحالی اورمختلف گھپلوں پر اظہارخیال کرتے ہوے انہوں نے پریس کانفریس میں کہا کہ یہاں پر صدربلدیہ نہ ہونے کے باوجودپورے اختیارات نائب صدراستعمال کررہی ہیں جب کہ میونسپل قانون اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتاحتی کی نائب صدرنے کونسل اجلاس کے لئے ایجنڈہ بھی جاری کردیا تھا،اورجب اس بارے میںضلع انتظامیہ سے شکایت کی جاتی ہے تب ذمہ داری درپشت کے تحت ڈی سی نے اپنے ماتحت اے ڈی سی اورپی ڈی کومعاملہ کی جانچ کے لئے نامزد کیا اورجب حکومت کے میونسپل اتھاریٹی کو ادارے کے صدراتی عہدے کاناجائز استعمال کے بارے میںتحریری طورپر دریافت کیا جاتا ہے حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہیں آتا۔اب صورتحال یہ ہے کہ بلدیہ بغیر صدراورایڈمنسٹریٹر کے چل رہا ہے اورنائب صدر اپنی من مانی کررہے ہیں ان سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں ہے ۔ ہونا تویہ چاہئے تھا کہ وزیر بلدیہ ایشورکھنڈرے اس معاملہ میں دلچسپی لیکرقانون کی دھجیاں اڑانے والوں کی باز پرس کرتے اورصدراتی عہدے پر کسی کو نامز د کرتے لیکن معلوم نہیں کہ موصوف بلدیہ کو کس انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ صفائی کے کام میں دھاندلیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملازمیںکے تقررات ہورہے ہیںتاہم ان ملازمیں کودوسرے کاموں کے لئے استعمال کیا جارہا ے حتی کہ کبھی وہ انجنیر کا بھی کام کرلیتا ہے بلدیہ میںوہیکلس سے زیادہ ان دنوں ڈرائیورس ہیں اورکہا کہ صفائی کے نام پر سالانہ ۳۶لاکھ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں اورصفائی کا کام کہاں ہورہا ہے عوام خود فیصلہ کرسکتے ہیں۔۱۱۰ملازمیںکو ماہانہ ۱۴ہزارروپئے تنخواہ دی جارہی ہے۔بلدیہ میں ڈھائی سال قبل ہو ئی بدعنوانیوں کا تذکرہ کرتے ہوے انہوں نے کہاکہ پرانی وئیکلس کوصرف۳۷ہزار روپئے میں بغیر قانونی کاروائی کرتے ہوئے اس کو فروخت کردیا گیا اوراس دھاندلی میںمذکورہ اے ای اوردیگر افراد ارٹی او سے نقلی سرٹیفکیٹ حاصل کرکے یہ کام کیا ہے۔ حتی کے 1987میںایک مزداگ گاڑی خریدی گئی لیکن اس کااندراج 1997میں ہوا ہے جگدیش نائک اورمعیز الدیں کے دورمیںسب سے زیادہ دھاندلیاں ہوئی ہیں ۔ علاوہ ازیں مستعید پورہ قبرستان کی حصاربندی کے لئے ۱۳لاکھ روپئے خڑچ بتائے گئے اورگتہ دارکو ان لائن رقم بھی ادا کردی گئی۔جبکہ لنگیا انجنیرینگ کالج کے طلباء سے تعمیری امور کی جانچ بھی کروائی گئی لیکن سابق کونسلر کا کہنا ہے کہ قبرستان کی حصاربندی آج تک نہیں ہو ئی اوررقم خرچ ہوئی ہے اس کے لئے ڈی سی جعفر کے وقت میںایک کروڑ۲۲لاکھ دروپئے کابجٹ آیا تھاجس کے خرچ میںدھاندلی کو محسوس کرتے ہوے ڈی سی نے اے سی کوانکوائری کرنے کی ہدایت دی تھی رپورٹ میں یہ بات آئی کہ کچھ کام پہلے ہوچکے ہیںاوربعض کاموں کی نشاندہی نہیں ہورہی ہے یعنی کہ تمام کام صرف کاغذوں پر ہی ہورہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق صدر فاطمہ بھی اس طرح کی دھاندلیوں میںشامل تھیں۔ موجودہ کونسلرس کی یہ حالت ہے کہ ایجنڈے کے خدوخال پر سنجیدگی سے غورکرنے کی فکر تک کرتے لا پرواہی نے شہر کو کئی مسائل سے دوچار کردیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT