Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / میڈیکل کالجس کے قیام کیلئے نئی پالیسی مدون کرنے پر غور

میڈیکل کالجس کے قیام کیلئے نئی پالیسی مدون کرنے پر غور

اطباء کی قلت کو دور کرنے کے اقدامات ، راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر صحت کی وضاحت
حیدرآباد۔20جولائی ( سیاست نیوز) ملک میں اطباء کی قلت کو دور کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے میڈیکل کالج کے قیام کے سلسلہ میں نئی پالیسی مدون کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ میڈیکل کالجس کے قیام میں آسانیاں پیدا کی جاسکیں۔ مرکزی وزیر صحت مسٹر جے پی نڈا کی جانب سے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب کے دوران اس بات کا انکشاف کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے ڈاکٹرس کی قلت کو دور کرنے کیلئے کی جانے والی منصوبہ بندی کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ مرکز میڈیکل کالجس کے قیام میں سہولتیں پیدا کرنے کے لئے سنجیدہ غور کر رہا ہے تاکہ ڈاکٹرس کی قلت کو دور کیا جا سکے۔ حکومت کی جانب سے فوری طور پر سرکاری میڈیکل کالجس کی تعداد میں اضافہ پر غور کیا جارہا ہے ساتھ ہی پی جی میڈیکل نشستوں میں اضافہ کے امور کا جائزہ لیا جانے لگا ہے۔ نئے میڈیکل کالجس کے قیام کی پالیسی میں تبدیلی کی صورت میں ریاستیں اپنے طور پر کالجس کے قیام کو یقینی بنا سکیں گی کیونکہ ریاستی حکومتوں کی جانب سے قائم کئے جانے والے سرکاری میڈیکل کالجس کیلئے ہی قوائد و ضوابط میں نرمی پیدا کی جائے گی۔ حکومت کے منصوبہ کے مطابق شہری علاقوں کے ساتھ اب دیہی علاقوں میں خدمات انجام دینے والے بڑے دواخانوں کو میڈیکل کالجس کے قیام کی اجازت پر غور کیا جا رہا ہے۔ بتایا جا تا ہے کہ مرکزی وزارت صحت کی جانب سے بہت جلد اس خصوص میں قطعی فیصلہ کیا جانے والا ہے اور اس فیصلہ کے فوری بعد سرکاری سطح پر میڈیکل کالجس کے قیام کی راہ ہموار ہوگی جو کہ ملک میں درپیش ڈاکٹرس کی قلت کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب حکومت نے سرکاری میڈیکل کالجس کے قیام کیلئے موجود رہنمایانہ خطوط میں نرمی کے فیصلہ کے ساتھ اس بات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے کہ آیا میڈیکل کالج اسٹاف کی موجودہ تعداد میں تخفیف یا دیگر راحتیں فراہم کرتے ہوئے اجازت دینے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے یا پھر قوانین کو مزید بہتر بناتے ہوئے سرکاری کے ساتھ خانگی میڈیکل کالجس کو بھی یہ مراعات فراہم کی جا سکتی ہیں۔مرکزی حکومت کی جانب سے میڈیکل کالج کے قیام کیلئے موجودہ قوائد میں نرمی کی صورت میں ملک بھر میں ایم بی بی ایس کی نشستوں میں زبردست اضافہ کی توقع ہے۔

TOPPOPULARRECENT