Tuesday , September 26 2017
Home / جرائم و حادثات / میڑچل میں چرچ میں توڑ پھوڑ کا واقعہ

میڑچل میں چرچ میں توڑ پھوڑ کا واقعہ

ذمہ داروں کو مارپیٹ‘22 افراد گرفتار ‘ سرپنچ بھی شامل
حیدرآباد ۔ 22مئی ( سیاست نیوز) شہر کے نواحی علاقہ میڑچل میں تشدد کے ذریعہ چرچ کو نقصان پہنچانے اور ذمہ داروں کو مارپیٹ کا واقعہ پیش آیا ۔ پولیس نے فوری کارروائی کرکے اندرون دو گھنٹے تشدد میں ملوث 22افراد کو گرفتار کرلیا اور ان کے خلاف سخت دفعات کے تحت مقدمات درج کرلئے ۔ ‘ تاخیر سے منظر عام پر آئے اس واقعہ کے بعد عیسائی برادری میں تشویش پیدا ہوگئی ۔ بتایا جاتا ہیکہ ضلع میڑچل کے کیسرا پولیس حدود میں واقع گڈماکنڈ ویلیج کے چرچ میں توڑپھوڑ مچاتے ہوئے مورتیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا ۔ پولیس نے 22افراد کو گرفتار کرلیا جن میں گاؤں کا سرپنچ نائب سرپنچ کے بشمول دو سرکاری ٹیچرس شامل ہیں ۔ اے سی پی کشائی گوڑہ سید رفیق نے بتایا کہ یہ واقعہ ہفتہ کو پیش آیا ‘ تاہم جیسے ہی پولیس کو اطلاع ملی پولیس نے بھاری جمعیت کے ساتھ پہنچ کر خاطیوں کو گرفتار کرلیا اور پولیس پکٹ قائم کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے اس موضع کے علاوہ میڑچل میں بھی چوکسی اختیار کرلی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس موضع میں جارج ریڈی نامی ایک شخص اپنی تین ایکڑ اراضی میں ایک ہزار گز پر چرچ تعمیر کررہا تھا جبکہ اس نے کسی سے اجازت حاصل نہیں کی تھی ۔ اس نے منی فنکشن ہال کی تعمیر کے بہانے چرچ کی تعمیر کا آغاز کردیا ۔ اس بات کا علم ہونے کے بعد ہفتہ کو تمام گاؤں والے بشمول سرپنچ ‘ نائب سرپنچ کثیر تعداد میں جمع ہوگئے ۔ جارج ریڈی کے فام ہاؤز پہنچ کر زیر تعمیر چرچ میں توڑ پھوڑ مچادی ۔ پولیس نے اس سلسلہ میں 39سالہ انیل کمار ( سرپنچ ) ‘ 50سالہ ایم راجہ لنگا ( نائب سرپنچ ) ‘ 37سالہ وی وینکٹ ریڈی ( سرکاری ٹیچر ) ‘ 35سالہ سی یادگیری ( سرکاری ٹیچر ) اور 29سالہ محمد پاشاہ آٹو ڈرائیور کے بشمول 22افراد کو گرفتار کرکے انکے خلاف کرائم نمبر 169/17 کے تعزیرات ہند کی دفعات 147,448, 427 , 323, 506, 153/A اور 149 کے تحت مقدمات درج کرکے عدالت میں پیش کردیا ۔

TOPPOPULARRECENT