Sunday , June 25 2017
Home / Top Stories / ’میک ان انڈیا‘ اور ’میک ان امریکہ ‘ متضاد نہیں

’میک ان انڈیا‘ اور ’میک ان امریکہ ‘ متضاد نہیں

مرکزی وزیر مملکت ہندوستان برائے پٹرولیم و قدرتی گیاس دھرمیندرپردھان کا بیان
بوسٹن۔5مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کا ’میک ان انڈیا ‘ نظریہ اور صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کا ’ میک ان امریکہ ‘ نظریہ ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہے ۔ ہندوستان کے مرکزی وزیر مملکت برائے پٹرولیم و قدرتی گیس دھرمیندر پردھان نے آج اپنے بیان میں یہ بات کہی ۔ دھرمیندر پردھان بوسٹن کا دو روزہ دورہ کررہے ہیں ۔ انہوں نے یہ تبصرہ کرتے ہوئے پُرزور انداز میں کہا کہ ہندوستان توانائی کی ایک نئی کہانی تخلیق کررہا ہے ۔ عالمی معیار کی ٹکنالوجی اور عصری ایجادات استعمال کررہا ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی کا میک ان انڈیا نظریہ اور ٹرمپ کا میک ان امریکہ نظریہ ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم امریکی ٹکنالوجی اور ایجادات ہندوستانی بازار میں استعمال کریں تو یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ تمام اجزاء امریکہ میں تیار کئے جائیں ‘ انہیں ہندوستان میں بھی تیار کیا جاسکتا ہے ۔ ہمیں اچھے کاروباری نمونے اور ٹکنالوجی کی ہمارے بازار کیلئے ضرورت ہے ۔ یہ دونوں نظریات ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہے ۔ وہ پی ٹی آئی کو انٹرویو دے رہے تھے ‘ اپنے دورہ کے موقع پر دھرمیندر پردھان نے 2017ء ایم آئی ٹی انرجی کانفرنس میں کلیدی خطبہ دیا اور ہارورڈ یونیورسٹی کے کنیڈی اسکول آف گورنمنٹ کے طلبہ سے بھی خطاب کیا ۔ انہوں نے فلیکچر اسکول آف لاء اینڈ ڈپلومیسی ٹفٹ یونیورسٹی کے طلبہ سے بھی خطاب کیا ۔ شہر کے اعلیٰ عہدیداروں اور برقی توانائی کے ماہرین سے تبادلہ خیال کیا جن میں امریکہ کے سابق وزیر برقی توانائی بھی شامل تھے جو ایم آئی ٹی کے موجودہ پروفیسر ہیں ۔ انہوں نے پروفیسر ارنیسٹ مونز اور پروفیسرہینری لی ہاورڈ یونیورسٹی سے بھی تبادلہ خیال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ برقی توانائی تک واجبی قیمت میں رسائی مودی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ ہمیں اپنے تمام شہریوں کو صاف ستھری توانائی فراہم کرنا ہے ۔ ہماری برقی توانائی کا ذخیرہ زیادہ تر کوئلے ‘ گیاس اور قابل تجدید اشیاء پر انحصار کرتا ہے ۔ مستقبل میں امید ہے کہ نیوکلیئر توانائی سے استفادہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے پُرزور انداز میں کہا کہ ہندوستان کا مقصد 175جی ڈبلیو قابل تجدید برقی توانائی 2022ء تک تیار کرنا اور برقی توانائی کی حفاظت کرنا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT