Wednesday , September 27 2017
Home / اداریہ / میک ان انڈیا مہم

میک ان انڈیا مہم

نہ اٹھا  شیشہ گران فرنگ کے احساں
سفال ہند سے مینا و  جام پیدا کر
میک ان انڈیا مہم
مرکز میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے نریندر مودی حکومت مسلسل نئے نئے اعلانات کرتی جا رہی ہے ۔ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت کسی نہ کسی پروگرام یا مہم کے ذریعہ خود کو ملک کی ترقی کیلئے انتہائی مصروف ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ابتداء میں سوچھ بھارت پروگرام شروع کیا گیا لیکن یہ پروگرام جس تیزی سے شروع ہوا تھا اسی تیزی سے ختم بھی ہوگیا ۔ دوسرے اعلانات پر بھی حکومت نے عملی میدان میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی تھی ۔ اب حکومت نے میک ان انڈیا مہم شروع کی ہے ۔ اس مہم کا وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کی شام ممبئی میں آغاز کیا ۔ اس پروگرام کی جتنی تشہیر کی گئی ہے یا دوسرے الفاظ میں اس کی جتنی مارکٹنگ کی گئی ہے اس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ حکومت نے تقریبا ہر سطح پر اس مہم کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس مہم کے تعلق سے کئی امیدیں جتائی ہیں۔ ایک طرح سے وزیر اعظم نے میک ان انڈیا مہم کی تشہیر کے ذریعہ ملک میں سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ مہم کس حد تک کامیاب ہوگی اور کس حد تک اس کے ثمرات ہندوستان اور ہندوستان کے عوام کو مل سکیں گے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومتیں دنیا اور خود اپنے عوام کے سامنے ملک کی معیشت کی جو تصویر پیش کرتی ہیں وہ سچائی سے پرے ہوتی ہے ۔ اعداد و شمار کے الٹ پھیر کے ذریعہ حکومت اپنی شبیہہ کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے ۔ اسی طرح اب بھی میک ان انڈیا مہم کیلئے جس بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی ہے اور اس سے جو امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں وہ بہت زیادہ ہیں۔ ان امیدوں اور توقعات کی تکمیل کیلئے جو زمینی حقائق ہیں وہ قدرے مختلف ہیں۔ جو پراجیکٹس شروع ہونے کی توقع کی جا رہی ہے اس کیلئے انفرا اسٹرکچر دستیاب کروانا حکومت کیلئے آسان نہیں ہوگا ۔ حکومت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی مہم یا پراجیکٹ کی جب ضرورت سے زیادہ تشہیر ہوجاتی ہے اور اس کے ثمرات توقعات کے مطابق نہیں ہوتے تو پھر حکومت کو اعتماد کے فقدان اور بے اعتباری کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اگر میک ان انڈیا مہم کے ساتھ بھی ایسا ہوا تو پھر مودی حکومت کیلئے معاشی محاذ پر مسائل میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔
حکومت کو اس طرح کے پروگرام کی کامیابی کیلئے انفرا اسٹرکچر کی بہتری پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے اور جو قانونی رکاوٹیں ہیں اور جو قانون سازیاں تعطل کا شکار ہیں انہیں پورا کرنا بھی ضروری ہے ۔ حکومت کو معاشی محاذ پر صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کرنی چاہئے ۔ نریند رمودی نے انتخابات سے قبل ترقی کا نعرہ دیا تھا اور یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار ملنے پر 1.3 بلین افراد کو روزگار فراہم کرینگے ۔ اس محاذ پر حکومت نے جو پیشرفت کی ہے وہ انتہائی سست رفتار ہے بلکہ اس وعدہ کی تکمیل کا ٓغاز ہی نہیں ہو پایا ہے ۔ جی ایس ٹی بل پر پارلیمنٹ میں تعطل پیدا ہوگیا ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں اس بل کو بجٹ اجلاس میں بھی منظوری دلانے کیلئے تیار نظر نہیں آتیں ۔ حکومت بھی اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت کئے بغیر اپنے موقف پر اٹل ہے ۔ یہ تعطل بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے ۔ حکومت نے حالانکہ معاشی محاذ پر صورتحال کو بہتر ظاہر کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے لیکن زمینی حقائق اس کے برخلاف اور برعکس ہی نظر آتے ہیں۔ صرف اعداد و شمار کے الٹ پھیر کے ذریعہ عوام کو گمراہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن اصل صورتحال کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ۔ صرف اعداد و شمار کے الٹ پھیر کو ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد بھی نہیں بنایا جاسکتا ۔ ان منصوبوں کی کامیابی کیلئے بنیادی سطح کو مضبوط بنانا ضروری ہے اور اس تعلق سے جہاں بیرونی سرمایہ کاروں میں اعتماد پیدا کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے اسی طرح ملک کے عوام میں بھی اعتماد پیدا کرنا چاہئے اور سماج کے تمام طبقات کو اس تعلق سے اعتماد میں لیا جانا چاہئے ۔
میک ان انڈیا مہم کی جس بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی اور جو ماحول پیدا کردیا گیا ہے اس کے بعد اس میں کسی ناکامی یا توقعات پوری نہ ہونے کا اندیشہ باقی نہیں رہ جانا چاہئے ۔ مودی حکومت نے گذشتہ 20 مہینوں کے دورانیہ میں جو کچھ کیا ہے وہ ملک کے عوام کی توقعات سے بہت کم ہے ۔ نہ روزگار کی فراہمی کے محاذ پر حکومت کوئی کارنامہ انجام دے سکی ہے اور نہ معیشت کو مستحکم بنانے میں کوئی خاص پیشرفت ہوئی ہے ۔ اسٹارٹ اپ انڈیا پروگرام بھی گذشتہ دنوں شروع ہوا تھا اور ایسا لگتا ہے خود حکومت اب اس پر توجہ دینا ضروری نہیں سمجھتی اسی لئے اتنے کم وقت میں میک ان انڈیا مہم بڑے پیمانے پر شروع کی گئی ہے ۔ ملک کی معیشت کو نہ مارکٹنگ سے مستحکم کیا جاسکتا ہے اور نہ تشہیری حربے اس میں کام میں آسکتے ہیں ۔ اس کیلئے سنجیدہ عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اب تک مودی حکومت اس محاذ پر اپنا کوئی تاثر پیدا کرنے میں کامیاب نہیںہوئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT