Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / میک اِن انڈیا ’’ببر شیر‘‘ ہے جو چھوٹے تاجرین کو نگل جائے گا

میک اِن انڈیا ’’ببر شیر‘‘ ہے جو چھوٹے تاجرین کو نگل جائے گا

Congress Vice President Rahul Gandhi at the protesting jewellers who are demanding withdrawal of excise duty on jewellery.on Wednesday in New Delhi Express Photo By Amit Mehra 06 April 2016

نریندر مودی من کی بات کرتے ہیں لیکن دوسروں کی سنتے نہیں، جیویلرس کی احتجاجی ریالی سے راہول گاندھی کا خطاب
نئی دہلی 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے احتجاجی جیویلرس کی تائید کرتے ہوئے طلائی زیورات پر ایک فیصد اکسائز ڈیوٹی کو بی جے پی حکومت کی جانب سے تاجرین پر ’’قاتلانہ حملہ‘‘ قرار دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ بڑے صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ایسا کیا گیا ہے۔ راہول گاندھی آج آل انڈیا بلین جیویلرس اینڈ سورنکار فیڈریشن کی ریالی سے جنتر منتر پر خطاب کررہے تھے۔ اُنھوں نے پھر ایک بار مرکز کے ’’میک اِن انڈیا‘‘ مہم کا مضحکہ اُڑایا اور کہاکہ یہ ایک ’’ببر شیر‘‘ ہے جو چھوٹے تاجرین کو ’’نگلنا‘‘ چاہتا ہے۔ راہول گاندھی نے کہاکہ حکومت نے آپ پر اکسائز ڈیوٹی عائد نہیں کی ہے، یہ آپ پر قاتلانہ حملہ ہے۔ آپ کو ہلاک کیا جارہا ہے۔ لیکن آپ کو ہلاک کیوں کیا جارہا ہے؟ اِس سے فائدہ کسے ہوگا؟ سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ بڑے صنعتکاروں کو فائدہ پہنچے گا اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ لوگ آپ کا حقیقی منافع دباؤ اور بلیک میل کے ذریعہ چھین لیں گے۔ یہ ببر شیر پانچ تا چھ بڑے صنعتکاروں سے تعلق رکھتا ہے اور وہ دلالی کے ذریعہ آپ کا خون چوس رہے ہیں۔ راہول گاندھی نے گاندھی جی کے چرخہ اور مودی کے ببر شیر کا تقابل کرتے ہوئے کہاکہ چرخہ چھوٹے تاجرین، کسانوں اور مزدور طبقہ کی طاقت کی علامت ہے اور میک اِن انڈیا کا شیر پانچ تا چھ بڑے صنعتکاروں کی طاقت کی علامت بنادیا گیا ہے۔

جب نریندر مودی میک اِن انڈیا کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت اُن کا اشارہ پانچ تا چھ بڑے صنعتکاروں کی طرف ہوتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ زیورات سے تعلق رکھنے والے تاجرین کے پاس 10 ہزار کروڑ روپئے کے فیاکٹریز نہیں ہیں اُن کے پاس صرف چھوٹے یونٹس ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ میک اِن انڈیا کا ببر شیر اکسائز کے ذریعہ چھوٹے تاجرین کا گلا گھوٹنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ سچائی ہے۔ 6 کروڑ عوام اِس تجارت سے وابستہ ہیں اور وہ اپنی محنت و خون کی کمائی کے ذریعہ ملک کے جی ڈی پی کا 7 فیصد میں اپنا حصہ ادا کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تاجرین کو اِس تکلیف اور خوف سے نجات دلائے۔ اُنھوں نے نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم اپنی ’’من کی بات‘‘ کہتے ہیں دوسروں کی سنتے نہیں۔ بی جے پی کے پاس ایسے قائدین ہیں جو شائد آپ کی مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن اب وہ ڈرے ہوئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کچھ بھی کہنے سے اُنھیں نقصان ہوگا۔ راہول گاندھی نے ’’ہماری بھول، کنول کا پھول‘‘ نعروں کے درمیان کہاکہ وہ یہاں محض ریالی سے خطاب کرنے کے لئے نہیں آئے بلکہ اظہار یگانگت کے لئے آئے ہیں۔ اگر ہم متحد ہوں گے تو وہ اِس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ آپ کا مقصد پورا ہوگا اور کوئی آپ کو روک نہیں سکتا۔ اِس سے پہلے راہول گاندھی نے اپنے حامیوں کے گروپ کے ’’راہول، راہول‘‘ نعروں روک دیا اور کہاکہ راہول کو ایک طرف رکھئے وہ گزشتہ دس بارہ سال سے کانگریس پارٹی سے وابستہ ہیں اور جب اتنا وقت ایک تنظیم کے ساتھ آپ گزارتے ہیں تو اُس کے نظریات اور اُصول خود بخود ہمارے اندر سرائیت کرجاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT