Thursday , August 24 2017
Home / ہندوستان / میگی نوڈلس کی تین پلانٹس میں تیاری کا آغاز

میگی نوڈلس کی تین پلانٹس میں تیاری کا آغاز

دیگر ریاستی حکومتوں سے بھی بات چیت، بی ایس ای کو نیسلے انڈیا کا مکتوب
نئی دہلی ۔ 27 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) نیسلے انڈیا نے تین پلانٹس میں میگی نوڈلس کی تیاری بحال کردی ہے اور کہا کہ وہ دیگر متعلقہ ریاستی حکومتوں سے بھی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ تمام پلانٹس میں نوڈلس کی تیاری دوبارہ شروع ہوسکے۔ نیسلے نے اب تک ننجن گڑ (کرناٹک) موگا (پنجاب) اور بشولم (گوا) کے پلانٹس کو دوبارہ کارکرد بنادیا ہے جہاں میگی نوڈلس تیار کئے جارہے ہیں۔ بمبئی ہائیکورٹ کی ہدایت کے مطابق ان پلانٹس میں تیار کئے جانے والے نوڈلس کے نمونے معائنہ کیلئے ہائیکورٹ کی جانب سے منظورہ تین مصدقہ لیباریٹریز کو روانہ کئے جائیں گے۔ نیسلے نے آج بی ایس ای کو جاری کردہ بیان میں یہ بات بتائی۔ کمپنی نے یہ بھی مطلع کیا کہ ان تین لیباریٹریز سے منظوری ملنے کے بعد ہی میگی نوڈلس کی فروخت شروع کی جائے گی۔

اسٹاک ایکسچینج (بی ایس ای) نے میگی نوڈلس کی تیاری کے احیاء سے متعلق میڈیا کی اطلاعات کے پیش نظر کمپنی سے وضاحت طلب کی ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ وہ دیگر ریاستی حکومتوں سے بھی جہاں اس کے پلانٹس واقع ہیں، دوبارہ کام شروع کرنے کیلئے ربط قائم کئے ہوئے ہے۔ کل کمپنی کے ترجمان نے کہا تھا کہ نیسلے نے کرناٹک، پنجاب اور گوا میں واقع تین پلانٹس میں میگی نوڈلس کی تیاری شروع کردی ہے۔ واضح رہیکہ نیسلے انڈیا کو جون میں اس وقت نوڈلس کی تیاری اور فروخت روک دینی پڑی تھی جب لیاب میں کئے گئے معائنوں کے بعدیہ پتہ چلا کہ اس میں زہریلے مادوں کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ ہے۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹانڈرڈس اتھاریٹی آف انڈیا نے جون میں میگی نوڈلس پراڈکٹ پر یہ کہتے ہوئے امتناع عائد کردیا تھا کہ وہ غیرمحفوظ اور مضرت رساں ہے۔

اس میں زہریلے اجزاء مقررہ حد سے زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں اور اسے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ کمپنی کو انسٹنٹ نوڈل برانڈ فوری مارکٹ سے ہٹالینا پڑا تھا۔ اس کی وجہ سے نیسلے انڈیا کو 450 کروڑ روپئے کا خسارہ ہوا اس میں وہ 30 ہزار ٹن نوڈلس بھی شامل ہیں جنہیں امتناع کی وجہ سے ضائع کردیا گیا۔ تاہم کمپنی نے کہا ہیکہ وہ پروڈکٹ کے موجودہ فارمولے پر ہی عمل کرے گی اور اس کے اجزاء میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جائے گی۔ وزارت کنزیومر افیرس نے بھی نیسلے انڈیا کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے 640 کروڑ روپئے ہرجانہ طلب کیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہیکہ ناقابل قبول تجارتی عمل، جھوٹی معلومات کی فراہمی اور گمراہ کن اشتہارات کے ذریعہ کمپنی نے عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ میگی پر امتناع کے بعد نیسلے انڈیا کو 30 جون 2015ء کے پہلے سہ ماہی گوشوارے میں ہی 64.40 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا تھا اور گذشتہ 3 دہوں میں پہلی مرتبہ اسے خسارہ سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ اس سے پہلے اپریل تا جون 2014-15ء گوشوارے میں کمپنی نے 287.86 کروڑ روپئے کا خالص منافع حاصل کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT