Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / ’میں اب بھی پارٹی صدر ہوں ‘ نظم و ضبط کے فقدان کا افسوس

’میں اب بھی پارٹی صدر ہوں ‘ نظم و ضبط کے فقدان کا افسوس

فرزند اکھلیش حامی گروپ کے زیرقبضہ پارٹی کے دفتر پر ملائم سنگھ یادو اور شیوپال سنگھ یادوکی آمدپر ہلچل

لکھنو۔8جنوری ( سیاست ڈاٹ کام)سابق چیف منسٹر یو پی ملائم سنگھ یادو نے ادعا کیا کہ وہ اب بھی پارٹی صدر ہیں ‘ حالانکہ پارٹی میں نظم و ضبط کا فقدان ہے۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں جاری گھمسان کے درمیان ملائم سنگھ یادو اپنے چھوٹے بھائی شیو پال کے ساتھ آج صبح تقریبا دس بجے پارٹی دفتر پہنچ گئے ۔ گزشتہ یکم جنوری کو پارٹی دفتر پر اکھلیش خیمے نے قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد سے ملائم سنگھ یادو اور شیو پال سنگھ یادو ایس پی کے دفتر نہیں گئے تھے ۔ لیکن آج ان کے دفتر پہنچتے ہی وہاں افرا تفری مچ گئی۔ صیانتی عہدیدار بھی پہنچ گئے اور دونوں خیموں میں تصادم کا خدشہ نظر آ رہا تھا۔ تاہم، سردی اور کہرا زیادہ ہونے کی وجہ سے دفتر میں زیادہ بھیڑ نہیں تھی۔ واضح رہے کہ وزیر اعلی اکھلیش یادو کو یکم جنوری کو قومی نمائندگان کے اجلاس میں ان کے حامیوں کی طرف پارٹی کا صدر قرار دینے کے بعد انہوں نے شیو پال یادو کے بجائے نریش اتم کو ریاستی صدر بنا دیا تھا۔ مسٹر نریش اتم نے اسی دن شام کو ہی پارٹی دفتر پہنچ کر کام کاج بھی شروع کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے اکھلیش خیمے کا ہی وکرمادتیہ روڈ پر واقع ایس پی کے دفتر پر قبضہ ہے ۔ مسٹر ملائم سنگھ یادو دفتر میں تھوڑی دیر رکنے کے بعد ہوائی اڈے کے لئے روانہ ہو گئے ۔ ملائم سنگھ یادو دہلی جا رہے ہیں۔ وہ کل الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوں گے ۔

ملائم سنگھ یادو کے اس بیان کے کئی معنی نکالے جا رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سمجھوتہ ہو سکتا ہے جبکہ کچھ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ مسٹر یادو الیکشن کمیشن سے اپنے حق میں فیصلہ آنے کو لے کر مطمئن ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو پورے تنازع کو ہی”اسکرپٹیڈ” مان کر چل رہے ہیں۔ تاہم، وقت اور واقعات کے ساتھ اب ایسا ماننے والوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے ۔ایک ہفتے سے دونوں خیموں میں سیاسی سرگرمیاں کافی تیز ہیں۔ دونوں خیمہ اپنے کو صرف اصلی سماج وادی پارٹی ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے ۔ اس کے لئے اراکین اسمبلی کو اپنے حق میں کرنے کی مہم چل رہی ہے ۔ پارٹی کے سینئر لیڈر محمد اعظم خاں اور اسمبلی کے اسپیکر ماتا پرساد پانڈے نے ملائم سنگھ یادو سے کئی بار ملاقات کی۔ ملائم سنگھ یادو کے چھوٹے بھائی ابھے رام یادو اور رام پال یادو نے بھی والدبیٹے میں سمجھوتہ کرانے کی کوشش کی، لیکن اب فی الحال کوئی نتیجہ نکلتا نظر نہیں آتا ہے ۔ لاکھوں کی نگاہیں اب الیکشن کمیشن کی طرف ہیں۔ لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ کمیشن کی ایس پی کے انتخابی نشان ‘سائیکل’ کے بارے میں کیا فیصلہ سناتا ہے ۔ انتخابی نشان ضبط ہوتا ہے یا کسی کے حق میں مختص کیا جاتا ہے ۔ ملائم خیمے کے لوگوں کو امید ہے کہ کمیشن یکم جنوری کو بلایا گیا نمائندہ کانفرنس کو کمیشن غیر آئینی قرار دے سکتا ہے کیونکہ پارٹی آئین کے مطابق نمائندہ کانفرنس بلانے کا حق صرف صدر کو ہے ۔ کانفرنس پروفیسر رام گوپال یادو نے بلایا تھا۔ذرائع کے مطابق ملائم خیمہ اسی پارٹی کو کمیشن کے سامنے مضبوطی سے رکھے گا تاکہ ‘سائیکل’ انتخابی نشان انہی کے پاس رہے ۔

TOPPOPULARRECENT