Friday , August 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / ’’میں بلاشبہ عورتوں اور مردوں کیلئے نبی بناکر بھیجا گیا ہوں ‘‘

’’میں بلاشبہ عورتوں اور مردوں کیلئے نبی بناکر بھیجا گیا ہوں ‘‘

 

مولانا حبیب عبدالرحمن بن حامد الحامد
حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کا طریقہ کار یہ تھا کہ آپ نماز فجر کے بعد تمام مسلمانوں کے مسائل حل فرماتے اور نماز ظہر کے بعد عورتیں اپنے مسائل دریافت فرماتیں اور نماز عصر کے بعد اپنی ازواج مطہرات کی خبرگیری کرتے ۔ ایک روز صحابی رسول حضرت اسماء بنت یزید انصاریہ نے حضور اکرم ﷺ سے سوال کیاکہ اﷲ کے نبی آپ مردوں اور عورتوں کیلئے نبی بناکر نہیں بھیجے گئے ؟ تو حضور اکرم ﷺ نے کہا ’’میں بلاشبہ عورتوں اور مردوں کیلئے نبی بناکر بھیجا گیا ہوں ‘‘ ۔ پھر حضرت اسماء ؓنے کہا : اے اﷲ کے نبی ! مرد لوگ ثواب کے کمانے میں ہم سے آگے نکل جاتے ہیں ۔ وہ نماز کیلئے مسجد جاتے ہیں ۔ نماز جمعہ مسجد میں ادا کرتے ہیں ۔ جہاد میں جاتے ہیں ۔ حج کیلئے جاتے ہیں اور ہم عورتیں ان تمام چیزوں سے محروم رہتی ہیں۔ اﷲ کے نبیؐ کے چہرے اقدس پر تبسم آیا اور صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم نے کسی عورت کو ثواب کے کمانے میں اس قدر حریص پایا ۔ پھر حضور اکرم ﷺ نے حضرت اسماءؓ بنت یزید سے کہا : ’’عورت کا گھر میں نماز پڑھ لینا جماعت کا ثواب دلاتا ہے۔ نماز ظہر کا پڑھ لینا جمعہ کا ثواب دلاتا ہے ۔ چونکہ عورت رقیق القلب ہوتی ہے اس لئے جہاد میں شرکت نہیں کرسکتی اور اگر اس کی اولاد جنگ میں شریک ہو تو اسے اس کا ثواب ملتا ہے اور محرم کے بغیروہ حج نہیں کرسکتی ۔ جب ان باتوں کی وضاحت حضور اکرم ﷺ نے فرمادی تو وہ خوشی خوشی واپس ہوئیں۔

TOPPOPULARRECENT