Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / میں جمع کرانے کا لزوم ؟RBI پرانے نوٹ 15 دسمبر کے بعد

میں جمع کرانے کا لزوم ؟RBI پرانے نوٹ 15 دسمبر کے بعد

حیدرآباد۔8۔ڈسمبر (سیاست نیوز) کرنسی تنسیخ کے فیصلہ نے حکومت کو بوکھلاہٹ کا شکار بنا دیا ہے اور حکومت اس بوکھلاہٹ سے نکلنے کیلئے کہیں 30ڈسمبر کے بجائے 15ڈسمبر کو تو منسوخ کرنسی بینک میں جمع کروانے کی آخری تاریخ قرار نہیں دے گی؟ سیاسی گلیاریو ںمیں جاری چہ مئیگوئیاں عوام کیلئے تشویش کا باعث بن سکتی ہیں بعض حلقوں میں یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت 15ڈسمبر کو منسوخ کرنسی کے بینک میں جمع کروانے کا عمل یکسر بند کرتے ہوئے منسوخ کرنسی رکھنے والے شہریوں کو ریزرو بینک آف انڈیا کا رخ کرنے کا مشورہ دے سکتی ہے کیونکہ اندرون ایک ماہ ملک میں 11.55لاکھ کروڑ روپئے جمع کئے جا چکے ہیں اور ممکن ہے کہ مابقی رقم بھی تیزی سے جمع ہونے لگے گی لیکن حکومت ان حالات میں جبکہ غیر محسوب کرنسی اور کالا دھن کی کوئی بھاری مقدار بینک تک نہ پہنچنے کے سبب خفت کا شکار ہے 15ڈسمبر کو منسوخ کرنسی کے چلن اور ڈپازٹ کے عمل کو بھی بند کرتے ہوئے انہیں ریزرو بینک میں جمع کروانے کی ہدایت دے سکتی ہے کیونکہ ایسا محسوس کیا جانے لگا ہے کہ حکومت کی جانب سے کی گئی اس کاروائی کا حکومت کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے لیکن اس خفت سے نمٹنے کیلئے حکومت جن دھن کھاتے رکھنے والوں کو لکھ پتی بناتے ہوئے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بچانے کے فراق میں ہے بتایا جاتا ہے کہ جو2.5تا 3.0لاکھ کروڑ روپئے ابھی جمع ہونے ہیں ان کے متعلق یہ کہہ دیا جائے گا کہ یہ رقم جو بینک تک نہیں پہنچی ہے وہ کالادھن ہے اور اس کے بینک تک آنے کی کوئی امید نہیں ہے اسی لئے اس رقم کی وصولی کیلئے صرف آر بی آئی کو مجاز قرار دیا جائے گا۔ اس دوران اگر مذکورہ رقم ریزرو بینک تک نہیں پہنچتی ہے تو ایسی صورت میں یہ رقم جو ریزرو بینک کی ملکیت ہے اسے حکومت حاصل کرلے گی اور اس رقم کو ان جن دھن بینک کھاتو ںمیں منتقل کیا جائے گا جن جن دھن کھاتوں میں کھاتہ داروں نے دوسروں کی رقومات یا 50000سے زائد رقومات جمع نہ کی ہوں۔حکومت اس عمل کے ذریعہ غریب طبقہ کو اپنا ہمنوا بنانے کی حکمت عملی کی تیاری میں مصروف ہے۔ ان باتوں میں کس حد تک صداقت ہے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حکومت 15ڈسمبر کو بینکوں میں بھی منسوخ کرنسی کی وصولی ترک کردے گی لیکن جو حالات پیدا ہوتے جا رہے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت عوامی ناراضگی سے بچنے کیلئے 25کروڑ پردھان منتری جن دھن یوجنا کے تحت کھولے گئے کھاتو ںمیں رقومات جمع کروانے کے متعلق منصوبہ بندی کر رہی ہے اور ان رقوما ت کے حصول کیلئے واحد ذریعہ منسوخ کرنسی کی عدم وصولی کے نام پر ہی پیدا کیا جا سکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT