Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / میں عوام کیلئے مسیحا نہیں بلکہ خادم ہوں : کے چندرشیکھر راؤ

میں عوام کیلئے مسیحا نہیں بلکہ خادم ہوں : کے چندرشیکھر راؤ

تلنگانہ کے عازمین حج کو وداع کرتے ہوئے چیف منسٹر کا اظہار خیال

حیدرآباد۔15اگسٹ (سیاست نیوز) ’’میں عوام کیلئے مسیحا نہیں بلکہ ریاست تلنگانہ کے عوام کا خادم ہوںمیں چیف منسٹر نہیں بلکہ ریاست کا چیف سرونٹ ہوں‘‘ ۔ چیف منسٹرمسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست تلنگانہ کے عازمین حج کو وداع کرتے ہوئے اپنے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے ابھی صرف رباط نظام میں انتظامات کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے ہیں جبکہ دنیا کے مختلف ممالک میں حیدرآباد کے اثاثہ جات موجود ہیں جنہیں حاصل کرنے کیلئے کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے لندن اور پیرس میں موجود ریاست دکن حیدرآباد کی دولت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے اس دولت کو واپس لانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے کہا کہ معاشی ماہرین کا تجزیہ ہے کہ ریاست تلنگانہ کا بجٹ 2024تک 5لاکھ کروڑ کا ہو جائے گا اور ریاست کے محکمہ اقلیتی بہبود کا بجٹ 12ہزار کروڑ کو پہنچ جائے گا۔ انہوں عازمین حج سے خواہش کی کہ وہ ریاست کی مجموعی ترقی کیلئے اپنے سفر حج کے دوران دعائیں کریں ۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ ریاست تلنگانہ کا موجودہ اقلیتی بہبود کا بجٹ ناکافی ہے اور حکومت کی جانب سے معاشی ماہرین کی رائے کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس میں اضافہ کے متعلق اقدامات کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے بتایا کہ جو کام نیک نیتی کے ساتھ کئے جاتے ہیں اس میں کامیابی ضرور ملتی ہے انہوں نے تحریک تلنگانہ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحریک کے دوران لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے اور استفسار کیا کرتے تھے کہ آخر تلنگانہ کی ضرورت کیا ہے جس پر وہ استفسار کرنے والو ںکو جواب دیتے ہوئے یہ واضح کرتے تھے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی تلنگانہ کی تہذیب تمدن کے علاوہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا احیاء چاہتی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ مرکزی وزارت فینانس کی جانب سے اس بات کا اعتراف کیا جا چکا ہے کہ ریاست تلنگانہ ملک میں سرفہرست ریاست ہے جو کہ شرح ترقی میں 21.7فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت نے اقامتی اسکولوں کے ذریعہ تعلیم کے فروغ کے علاوہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو اسکالر شپس کی فراہمی کی اسکیم کی اچھی شروعات کی ہے اور اس اسکیم کے مؤثر نتائج برآمد ہو ںگے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران ریاست تلنگانہ میں امن و امان کی برقراری و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال قائم ہوئی ہے اور 50برس کی تاریخ میں گذشتہ 3 برس پرسکون گذرے ہیں۔چیف منسٹر نے اپنے خطاب کے دوران سلطنت آصفیہ کے آخری فرمانروا ں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ شاہد ہے کہ اس متمول ترین حکمراں نے آزاد ہند میں بھی حکومت کی مد د کی تھی۔ انہوںنے بتایا کہ لعل بہادر شاستری کے دور وزارت عظمی کے دوران چین سے جنگ ہوئی اور ہندستان کو مالیہ کی ضرورت پیش آئی تو اس وقت نظام نے اپنی جانب سے 6 ٹن سونا حکومت ہند کو دیا تھا اور اسے واپس لینے سے انکار کردیا تھا ۔

انہوں نے نظام کو متمول اور مدد کرنے والا حکمراں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نظام کے دور میں جو رعایا پروری اس کا احیاء کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے 1927میں گاندھی جی کے دورہ حیدرآباد کے دوران کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گاندھی جی نے خود حیدرآباد کے حکمراں اور رعایا کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ شمالی ہند کے عوام کو حیدرآباد کے عوام سے سیکھنا چاہئے کہ آپس میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور یکجہتی کے ساتھ کس طرح رہا جاتا ہے ۔ انہوں نے نظام کی مخالفت کرنے والوں اور عوام کے درمیان منافرت پیدا کرنے والوں پر تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام عائد کیا ۔ عازمین حج کو وداع کرنے کی اس تقریب میں ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی ‘ جناب الحاج محمد سلیم صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ‘ جناب محمد فرید الدین ‘ جناب محمد فاروق حسین‘ جناب بی رام موہن مئیر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد‘ جناب جعفر حسین معراج‘ جناب ایس اے علیم صدرنشین ہڈکو‘ جناب یوسف زاہد صدرنشین کھادی بورڈ‘جناب اکبر حسین صدرنشین تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن‘ جناب عبدالقیوم خان مشیر برائے اقلیتی امور حکومت تلنگانہ ‘ جناب عمر جلیل سیکریٹری اقلیتی بہبود‘ ڈاکٹر ایس اے شکور‘ جناب سید شاہ نورالحق قادری ‘ جناب مسیح اللہ‘ جناب زین العابدین عابد کے علاوہ دیگر تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین موجود تھے۔ جناب محمد محمود علی نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ریاستی حکومت اقلیتوں کی فلاح و بہبود میں ملک کی تمام ریاستوں میں سر فہرست ہے اور شادی مبارک‘ اوورسیز اسکالر شپس کے علاوہ عازمین حج کی روانگی کے معیاری انتظامات میں تمام ریاستوں کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ انہو ں نے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مسلمانوں کا مسیحا قرار دیتے ہوئے کہا کہ آندھرائی حکمرانوں کی تاریخ میں اس طرح کی کوئی نظیرنہیںملتی ۔ انہوں نے عازمین حج سے ملک ‘ ریاست شہر اور چیف منسٹر کیلئے خصوصی دعاؤوں کی اپیل کی۔ قبل ازیں مولانا حافظ صابر پاشاہ خطیب و امام مسجد حج ہاؤز نے قرأت کلام پاک پیش کی ۔ مولانا مفتی تجمل حسین نے عازمین حج کو مناسک حج و سفری تجویز و مشورے دیئے۔ ڈاکٹر ایس اے شکور ایکزیکیٹیو آفیسر حج کمیٹی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے جبکہ جناب عمر جلیل نے تقریب کے شرکاء کا استقبال کیا۔

TOPPOPULARRECENT