Saturday , July 22 2017
Home / ہندوستان / میں مجرمین سے انتقام نہیں انصاف چاہتی ہوں

میں مجرمین سے انتقام نہیں انصاف چاہتی ہوں

ملازمین پولیس اور ڈاکٹروں کو کم سزاء پر افسوس : بلقیس بانو
نئی دہلی۔8مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) گجرات فسادات کے دوران اجتماعی عصمت دری کی شکار اور اپنے خاندان کے 14 افراد کے قتل کی چشم دید گواہ رہیں بلقیس بانو کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ جو حیوانیت ہوئی، اسے بھلایا نہیں جا سکتا ہے لیکن پھر بھی وہ کسی سے اس کا انتقام لینا نہیں چاہتیں بلکہ اپنے اوراپنے بچوں کیلئے تحفظ اور سکون بھری زندگی چاہتی ہیں۔ بلقیس نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے فرقہ پرستی کے جس درد و الم کو برداشت کیا ہے وہ ناقابل بیان ہے لیکن انہیں اس بات کا اطمینان ہے کہ بمبئی ہائیکورٹ نے ظلم کرنے والوںکو سزا دے کر انصاف کا علم بلند کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ تاریخی ہے ۔ گزشتہ 15 سال تک انصاف کیلئے لڑی گئی طویل جنگ میں بلاخر اسے کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ اسے ملک کے نظامِ انصاف پر پورا اعتمادتھا اور اس میں مزید اضافہ ہوا ہے لیکن انہیں اس بات کا تھوڑا ملال ہے کہ ثبوتوں کو مٹانے میں ملزمان کا ساتھ دینے والے پولیس اہلکاروں اور ڈاکٹروں کو دی گئی سزا کم ہے ۔ واضح رہے کہ بمبئی ہائیکورٹ نے 4 مئی کو بلقیس بانو معاملے میں نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے 18 ملزمان کو سزا سنائی تھی۔ ان میں سے 11کو عمر قید جبکہ ثبوتوں کو مٹانے کے الزام میں سات پولیس اہلکاروں اور ڈاکٹروں کو بری کئے جانے کے استغاثہ کی اپیل کو منسوخ کر دیا اور ان پر 20-20 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا۔ احمد آباد سے 250 کلومیٹر دور آباد رادھیکاپر گاؤں میں مارچ 2002 ء کو 19 سالہ بلقیس بانو کی اجتماعی آبروریزی ہوئی تھی، اس وقت وہ پانچ ماہ کی حاملہ بھی تھیں۔ اس کے خاندان کے 14 افراد کابھی بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا جس میں دو نوزائیدہ بچے بھی شامل تھے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT