Thursday , October 19 2017
Home / کھیل کی خبریں / میں نے بھی غلط اِسٹروک کھیلا: مصباح الحق

میں نے بھی غلط اِسٹروک کھیلا: مصباح الحق

کراچی۔18 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ ٹسٹ کرکٹ میں دباؤ کی وجہ سے اس قسم کی صورتحال ہوجاتی ہے۔ حفیظ جس انداز میں رن آؤٹ ہوئے‘ میں نے اور یونس خان نے جس طرح کے اسٹروکس کا انتخاب کیا‘ اس موقع پر ہمیں اس قسم کے اسٹروکس سے اجتناب برتنا چاہئے تھا۔ایسے شاٹس نہیں کھیلنے چاہئے تھے۔میں نے بھی غلط وقت پر غلط شاٹ کھیل کر بڑی غلطی کی تھی۔آخری دن وکٹ بولروں کے پیروں کے نشانوں سے خراب ہورہی تھی۔دو بیٹسمینوں کے غلط شاٹس کی وجہ سے ہم دباومیں آگئے تھے۔کرکٹ میں جب ہم غلطیاں کرتے ہیں تو اس قسم کی صورتحال ہوجاتی ہے۔  پریس کانفرنس میں مصباح الحق سے جب ان کے اپنے شاٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ آف اسپنر مشکلات پیدا کررہا تھا اس لئے ہم سوئپ شاٹ کھیل رہے تھے۔لیکن میں نے غلطی کی اور کرکٹ میں ہم غلطیاں کرتے ہیں تو اس طرح کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سہرا  انگلینڈ کو جاتا ہے جنہوں نے ہمارے بڑے مجموعہ کے جواب میں تقریبا چھ سو رنز بنائے اور ان کے اسپنرز نے بھی اچھی بولنگ کی۔ انہوں نے نظم و ضبط کے ساتھ بولنگ کرتے ہوئے ہمیں افرا تفری کا شکار کردیا۔ہم یقینی شکست سے بچے ہیں اس لئے کوشش کریں گے اگلے میچ میں غلطیاں نہ دہرائیں۔نیا دن اور نیا میچ ہوگا۔کپتان نے کہا کہ جب ہم آؤٹ ہوگئے تو کوشش کی اسپنرز کو بولنگ دیں کیوں کہ گیند بیٹ پر نہیں آرہی تھی۔ پانچ بج کر چالیس منٹ کے بعد میچ کا ہونا مشکل تھا۔اس لئے وکٹیں حاصل کرنا ضروری تھیں ہمیں علم تھا کہ اگر میچ پندرہ اوورز تک چلا گیا تو میچ بچانا مشکل ہوگا۔مصباح نے کہا کہ گذشتہ سال گال میں ہم اسی طرح ایک ٹسٹ میچ میں شکست کھائے تھے۔ایک غلطی سے پورا میچ تبدیل ہوجاتا ہے۔ابوظہبی کی وکٹ ابتدائی چار دن بولروں کا قبرستان بنی ہوئی تھی۔ وکٹ بنانے کو جو پیغام دیا گیا تھا وہ بچے بھی سمجھ سکتے تھے۔انگلینڈ کے خلاف کھیلنے کے لئے کس قسم کی وکٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ سب کو پتہ تھا۔لیکن جس طرح کی پچ بنی اس پر جس طرح آپ کو حیرت ہوئی اسی طرح مجھے بھی حیرت ہوئی ہے۔میں جس طرح کی وکٹ چاہتا تھا اس طرح کی وکٹ نہ بن سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عام طور پر پچ کا اسکوائر پانچ سال بعد تبدیل ہوجاتا ہے۔شیخ زائد اسٹیڈیم کا اسکوائر2006 میں بنا تھا۔نو سال بعد بھی اس کی مٹی کو تبدیل نہیں کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT