Thursday , May 25 2017
Home / جرائم و حادثات / میں نے مقدمہ درج نہیں کیا: سابق انسپکٹر چندرائن گٹہ

میں نے مقدمہ درج نہیں کیا: سابق انسپکٹر چندرائن گٹہ

حیدرآباد۔/14مارچ، ( سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت آج جاری رہی اور سابق انسپکٹر چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن مسٹر پی وینکٹ گیری حاضر عدالت ہوئے جہاں پر وکلائے دفاع نے ان پر جرح کی۔ گواہ نے بتایا کہ 30 اپریل 2011 ء کو پیش آئے حملہ واقعہ میں ہلاک ہونے والے ابراہیم بن یونس یافعی کی موت سے متعلق انہوں نے کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔ وکیل دفاع ایڈوکیٹ جی گرو مورتی کی جانب سے انہیں سیف بن حسین یافعی کی درخواست جس پر چندرائن گٹہ پولیس کی مہر موجود تھی گواہ کو بتائی گئی اور انہوں نے اس درخواست کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے محض جی ڈی ڈائری میں اس کا اندراج کیا اور کوئی ایف آئی آر جاری نہیں کیا۔ سیف بن حسین یافعی کی جانب سے دی گئی درخواست کے بعد انہوں نے اسوقت کے سب انسپکٹر محمد نیاز الدین کو درخواست کیتصدیق کرنے کی ہدایت دی اوردرخواست گذار کا پتہ نہ چلنے پر انہوں نے کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔ مسٹر وینکٹ گیری نے بتایا کہ واقعہ کے بعد ان کی نگرانی میں ابراہیم یافعی کی نعش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا اور انہوں نے نوجوان کی نعش پر موجود گولیوں کے نشان دیکھنے کے بعد ایف آئی آر درج نہ کرنے کی ہدایت دی۔ تحصیلدار کی درخواست پر دواخانہ عثمانیہ کے ڈاکٹر ہری کرشنا نے ابراہیم یافعی کا پوسٹ مارٹم کیا اور انہیں اس بات کا علم تھا کہ نوجوان کی موت گولی لگنے سے ہوئی ہے۔ پولیس نے کوئی بھی بیالسٹک ماہر کو پوسٹ مارٹم کے دوران موجود رہنے کیلئے طلب نہیں کیا اور نوجوان کی نعش پر پانچ زخموں کے نشان پائے گئے۔ مسٹر وینکٹ گیری نے اس بات کی وضاحت کی کہ انہوں نے دانستہ طور پر اسوقت کے کمشنر پولیس مسٹر اے کے خاں اور ڈپٹی کمشنر پولیس ساؤتھ زون مسٹر این مدھو سدن ریڈی کی ہدایت پر نوجوان کی موت سے متعلق مقدمہ درج نہیں کیا۔ گواہ نے جرح کے دوران بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ ابراہیم یافعی گولی لگنے سے ہلاک ہوئے تھے جبکہ عبداللہ یافعی اور عود یافعی اسی واقعہ میں گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔ تحقیقات جاری رہنے پر انہوں نے نوجوان کی موت کا مقدمہ درج نہیں کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اعلیٰ عہدیداروں کے خوف سے وہ حقائق بتانے سے قاصر ہیں۔ حملہ کے دن وہ یشودھا ہاسپٹل ملک پیٹ پہنچے جہاں پر دو زخمی نوجوان زیر علاج تھے اور انہوں نے علاج کرنے والے ڈاکٹر سے ملاقات نہیں کی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT