Monday , July 24 2017
Home / کھیل کی خبریں / میں نے کوئی فکسنگ نہیں کی:شرجیل خان

میں نے کوئی فکسنگ نہیں کی:شرجیل خان

کراچی ۔23 فروری (سیاست ڈاٹ کام ) پاکستانی اوپنر شرجیل خان پی ایس ایل میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں اپنی بے گناہی کی ایک مرتبہ پھردہائی دینے لگے۔ انہیں یقین ہے کہ سچ جلد سامنے آ جائے گا اور انہیں کھیل سے دھوکہ دہی اور کرپشن کے الزامات سے راحت  مل جائے گی۔یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس سے وہ اپنے والد کے ساتھ روانہ ہونے لگے تو انہیں میڈیا نے گھیر کر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ اس موقع پر انہوں نے کسی سوال کا جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ پی سی بی نے انہیں میڈیا سے گفتگو کرنے سے منع کیا ہے۔اس موقع پر شرجیل کے والد سہیل خان نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اپنی بے گناہی کے حوالے سے کچھ بولنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور پھر صحافیوں کی جانب سے جب زیادہ اصرار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس میچ فکسنگ اسکینڈل کی سچائی اور ان کے بے گناہی کا معاملہ جلد عوام اور میڈیا کے سامنے آجائے گی۔ ایسا کچھ نہیں کیا جس سے ملک و قوم اور کھیل کی بدنامی ہو۔ذرائع کے مطابق پی ایس ایل میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں معطل کئے گئے دونوں کھلاڑیوں خالد لطیف اور شرجیل خان نے الزامات تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور ان کے قانونی مشیروں سے صلاح مشورے جاری ہیں۔امید ہے کہ آئندہ ہفتے وہ پی سی بی کو اپنا جواب جمع کروائیں گے۔واضح رہے کہ پاکستان سوپر لیگ کی انتظامیہ نے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر اسلام آباد یونائٹیڈ کے شرجیل خان اور خالد لطیف کو معطل کرکے 14دنوں  میں جواب طلب کیا ہے۔ دونوں نے مشتبہ شخص سے ملنے کا اعتراف کر لیا لیکن اسپاٹ فکسنگ سے وہ انکار کررہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ناصر جمشید کی معرفت سے مشتبہ شخص ان کے مداح کی حیثیت سے ملا لیکن میچ فکسنگ کی بات سنتے ہی یہ ملاقات ختم کر دی تھی۔ خالد لطیف کے مطابق جب اس شخص نے میچ فکسنگ کی پیشکش کی تو اٹھ کر چلے گئے تھے ۔

آئی سی سی کے ارکان کی مستقل رکنیت کو خطرہ
دبئی ۔23 فروری (سیاست ڈاٹ کام ) آئی سی سی نے اپنے آئین میں بڑی تبدیلیاں کر دیں جس کے مطابق فل ممبران کی رکنیت مستقل نہیں ہو گی اور ہر پانچ سال میں اس معاملے پر نظر ثانی کی جائے گی۔ آئی سی سی کے مطابق اس منصوبے سے ابھرتے ہوئے ملک جیسے آئرلینڈ اور افغانستان کو فائدہ ہو گا کہ وہ بھی فل ممبر کا اعزاز حاصل کر سکیں گے۔ آئی سی سی کی اسو سی ایٹ ممبر شپ پر بھی ہر دو سال میں نظر ثانی کی جائے گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT