Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / میں پیدائشی کانگریسی ہوں ‘ اپنی جڑوں سے وابستہ ہوگیا ہوں ‘ سدھو

میں پیدائشی کانگریسی ہوں ‘ اپنی جڑوں سے وابستہ ہوگیا ہوں ‘ سدھو

پارٹی ہائی کمان کی ہدایت پر کسی کی بھی قیادت میں کام کرنے اور کہیں سے بھی مقابلہ کیلئے تیار ہوں۔ سابق رکن پارلیمنٹ کی پریس کانفرنس
نئی دہلی 16 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) مسلسل مشاورت کے بعد کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے کرکٹر سے سیاستدان بنے نوجوت سنگھ سدھو نے آج کہا کہ وہ ایک پیدائشی کانگریس ہیں اور وہ اپنی جڑوں کو واپس ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ہائی کمان جس کسی کا تقرر کرے وہ اس کے تحت کام کرنے تیار ہیں اور وہ جہاں سے پارٹی چاہے انتخابات میں مقابلہ کرینگے ۔ سدھو نے اس سوال پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ پنجاب میں کس کو وزارت اعلی امیدوار کے طور پر پیش کیا جائیگا ۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تو گیہوں کھیت میں ہے اور بیٹا پیٹ میں ہے ایسے میں شادی کی بات کی جا رہی ہے ۔ سدھو بی جے پی کے سابق ایم پی ہیں۔ کانگریس نے ابھی تک پنجاب میں وزارت اعلی امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے اور انتخابات پارٹی کے ریاستی صدر کیپٹن امریندر سنگھ کی قیادت میں لڑے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں اگر مگر کچھ نہیں ہوتا ۔ ان کی پریس کانفرنس کے دوران مزاحیہ جملے بازی بھی دیکھنے کو ملی ۔ ایک سوال کے جواب میں سدھو نے کہا کہ وہ کانگریس ہائی کمان کی جانب سے مقرر کردہ کسی بھی فرد کے تحت کام کرنے کو تیار ہیں اور پارٹی جہاں سے چاہے انتخابات میں مقابلہ کرنے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں اپنے شخصی ایجنڈہ کیلئے نہیں آئے ہیں بلکہ وہ پنجاب کا بھلا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پرکاش سنگھ بادل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور چیف منسٹر و ڈپٹی چیف منسٹر پر ریاست کو لوٹنے اور ایک خوشحال ریاست کو کنگال بنادینے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کسی بی جے پی لیڈر کا نام لئے بغیر کہا کہ رامائن میں ملازمہ کا کردار نبھانے والی منتھرا جیسے کردار کے حامل افراد نے انہیں امرتسر سے ٹکٹ سے محروم کردیا جس کی انہوں نے چار معیادوں تک لوک سبھا میں نمائندگی کی ۔ انہوں نے تاہم کسی لیڈر کا نام لینے سے گریز کیا ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے 2014 کے انتخابات میں امرتسر سے مقابلہ کیا تھا لیکن وہ شکست کھا گئے ۔ آدھے گھنٹے کی پریس کانفرنس کے دوران سدھو کا پارٹی میں سینئر لیڈر اجئے ماکین اور کل ہند کانگریس کی سکریٹری آشا کماری نے خیر مقدم کیا ۔ آشا کماری پنجاب امور کی نگران ہیں۔ سدھو نے کہا کہ انہوں نے بی جے پی سے علیحدگی اس لئے اختیار کی کیونکہ بی جے پی نے اکالی دل سے اتحاد کو ترجیح دی جبکہ وہ پنجاب کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ اصرار کرتے ہوئے کہ وہ ایک پیدائشی کانگریسی ہیں سدھو نے کہا کہ ان کے والد بھگونت سنگھ سدھو ایک مجاہد آزادی تھے اور 40 سال تک کانگریس سے وابستہ رہے ۔ ایسے میں وہ اپنی جڑوں کو واپس ہوئے ہیں۔ سدھو نے بی جے پی کو رامائن کے کردار رانی کیکئی سے تعبیر کیا جس نے لارڈ رام کو جنگل بھیج دیا تھا جبکہ انہوں نے کانگریس کو کوشلیہ قرار دیا جس نے رام کو جنم دیا تھا ۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ان کے صدر پردیش کانگریس امریندر سنگھ سے کوئی اختلافات نہیں ہیں اور کہا کہ جب دو ممالک بات چیت کے ذریعہ اپنے اختلافات کو ختم کرسکتے ہیں تو پھر دو افراد کیوں نہیں اپنے اختلافات ختم کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر لالو اور نتیش کمار متحد ہوسکتے ہیں تو پھر وہ اور امریندر سنگھ کیوں متحد نہیں ہوسکتے ۔ سدھو نے وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق اپنی رائے ظاہر کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ انہوں نے کبھی بھی سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف بھی کچھ نہیں کہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT