Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / میں ڈرنے والا نہیں: محمد علی شبیر

میں ڈرنے والا نہیں: محمد علی شبیر

مجلس کو شکست کا خوف، پرانے شہر میں جدوجہد جاری رہے گی

حیدرآباد۔/3فبروری، ( سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے کہا کہ مجلس کے صدر اسد اویسی کی قیادت میں کئے گئے حملہ سے وہ خوفزدہ ہونے والے نہیں ہیں بلکہ ان کی ہمت اور بلند ہوچکی ہے۔ انہوں نے میرچوک پولیس اسٹیشن کے روبرو بھاری پولیس کی موجودگی میں کئے گئے حملہ کو بزدلانہ کارروائی اور شکست کے خوف سے بوکھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے پرانے شہر میں مجلسی قیادت کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی اور قائدین غنڈہ عناصر کے ساتھ کھلے عام گھوم رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی قواعد کے مطابق صرف امیدوار اور اس کے ایجنٹ کو علاقوں میں داخلہ کا حق حاصل ہے لیکن مجلسی ارکان اسمبلی اور رکن پارلیمنٹ کو غنڈوں کے ساتھ گھومنے کی مکمل آزادی دے دی گئی تاکہ وہ سیاسی مخالفین کو ہراساں اور تشدد کا نشانہ بناسکیں۔ انہوں نے کہا کہ صبح سے کئی بلدی وارڈز میں رائے دہی کانگریس امیدواروں کے حق میں تھی جس سے مجلسی قیادت پر شکست کا خوف طاری ہوگیا اور انہوں نے غنڈہ گردی کا آغاز کردیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور اتم کمار ریڈی کانگریسی امیدوار محمد غوث کی گرفتاری کے خلاف نمائندگی کیلئے میرچوک پولیس اسٹیشن پہنچے تھے، اعلیٰ پولیس عہدیداروں کی موجودگی میں کار پر حملہ کیا گیا لیکن پولیس نے رکن پارلیمنٹ اور ان کے حامیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ دراصل پرانے شہر میں کانگریس کی بڑھتی مقبولیت سے مجلسی قیادت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اسے مستقبل میں عوامی بغاوت کا خدشہ لاحق ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غنڈہ گردی کی سیاست سے اگرچہ کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے لیکن عوام کے دلوں کو جیتا نہیں جاسکتا۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو مجلسی قیادت کو عوام بری طرح مسترد کردیں گے۔ محمد علی شبیر نے پولیس اور حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ دونوں پارٹیوں نے گریٹر حیدرآباد پر مشترکہ قبضہ کا منصوبہ بنایا جس کے تحت دیگر جماعتوں کو کچلنے کی سازش تیار کی گئی۔ انہوں نے پرانے شہر میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کی شکایت کی اور تمام بلدی حلقوں میں دوبارہ رائے دہی کا مطالبہ کیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت اور مجلس نے جمہوری نظام اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات کو محض مذاق بنادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بزدلانہ حملوں اور ہراسانی سے کانگریس کے کارکنوں کے حوصلے پست نہیں ہوں گے بلکہ کانگریس پارٹی عوامی مسائل کی یکسوئی کیلئے پوری شدت کے ساتھ پرانے شہر میں جدوجہد جاری رکھے گی۔

TOPPOPULARRECENT