Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / میں ہندوستان سے نہیں ہندوستان میںآزادی چاہتا ہوں

میں ہندوستان سے نہیں ہندوستان میںآزادی چاہتا ہوں

رہائی پر جشن، کنہیا کمار کا خطاب ، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ عمر خالد کیس کی تحقیقات کریں گے
نئی دہلی ۔ /3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جواہر لال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹ لیڈر کنہیا کمار کو آج 6 ماہ کی عبوری ضمانت کے بعد تہاڑ جیل سے رہا کردیا گیا ۔ انہیں پولیس کی تین رکنی ٹیم کے ہمراہ ان کے پسندیدہ مقام پر چھوڑدیا گیا ۔رہائی کے بعد وہ سیدھے جواہر لال نہرو یونیورسٹی پہونچے جہاں ان کا گرمجوش استقبال کرتے ہوئے یونیورسٹی طلباء نے جشن منایا ۔ حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کنہیا کمار نے کہا کہ میرے وزیراعظم سے کئی اختلافات ہیں لیکن میں ان کے ٹوئٹر ستیہ میوا جئتے سے متفق ہوں کیونکہ یہ الفاظ دستور میں درج ہیں ۔ پرمسرت نعروں اور نعرہ بازی کے دوران انہوں نے ان کی تائید کرنے والوں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہندوستان سے آزادی نہیں چاہئیے وہ صرف چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں ہر ایک کو اظہارخیال کی آزادی حاصل ہو ۔ انہوں نے کہا کہ وہ امن پسند اور ترقی پسند شخص ہیں  کیونکہ عدالت میں ان پر مبینہ حملے بھی ہوئے تھے ۔ ذرائع کے مطابق مجسٹریٹ نے ان کی ضمانت کے مچلکہ کو قبول کرلیا اور جیل سے رہائی کا حکم دیا ۔ انہوں نے 10 ہزار روپئے کا رقمی مچلکہ پیش کیا اور ایک شخصی ضمانت بھی دی ۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے فیکلٹی رکن پروفیسر ایس ایم ملاکر نے کنہیا کمار کی ضمانت دی ۔ /12 فبروری کو انہیں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے دیگر دو طلباء عمر خالد اور بھٹاچاریہ کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا ۔ ان پر قوم دشمن نعرے لگانے کا الزام ہے ۔ دہلی پولیس کے مقرر کردہ مجسٹریٹ نے جے این یو لیڈر کنہیا کمار کے خلاف کوئی ثبوت اکٹھا نہیں کیا اور ان پر عائد کردہ قوم دشمن نعرے لگانے کا الزام غلط ثابت ہوا ہے ۔

پولیس رپورٹ کے مطابق مخالف قوم نعرے لگانے والوں کے چند چہروں کی شناخت کی گئی ہے ۔ نئی دہلی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سنجے کمار کی زیرقیادت پولیس تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی کیمپس کے کئی ویڈیوز میں عمر خالد واضح طور پر نظر آرہے ہیں اور انہیں کشمیر اور افضل گرو کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا ہے اس معاملے میں خالد عمر کے رول کی مکمل تحقیقات کی جائے گی ۔ خالد عمر اور جے این یو کے ایک اور طالبعلم بھٹاچاریہ نے /24 فبروری کو خودکو پولیس کے حوالے کیا تھا ۔ دہلی ہائیکورٹ نے چہارشنبہ کے دن درخواست ضمانت کی سماعت کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT