Wednesday , June 28 2017
Home / Top Stories / میں یو پی کا متبنیٰ بیٹا ہوں، اکھیلیش حکومت پر استحصال کا الزام

میں یو پی کا متبنیٰ بیٹا ہوں، اکھیلیش حکومت پر استحصال کا الزام

ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس سے عوام متنفر ، ہردوئی اور بارہ بنکی میں مودی کی انتخابی مہم
ہردوئی( یو پی) ۔ /16فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) اپنے آپ کو یو پی کا ’’ متبنیٰ بیٹا ‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ریاست کے مستقبل کا تیقن نہیں دیا جاسکتا جب تک کہ سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس سے اس کو چھٹکارا حاصل نہ ہوجائے۔ وہ ہردوئی میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قطعی اکثریت کے ساتھ بی جے پی کو برسراقتدار لائیں، میں آپ کو وہ راستے بتاؤں گا جن سے آپ کو درپیش تمام مسائل کی اندرون پانچ سال یکسوئی ہوجائے گی۔ انہوں نے مجمع پر یہ تاثر پیدا کیا کہ بی جے پی عوامی تائید پہلے مرحلہ کی رائے دہی میں حاصل کرچکی ہے۔ انہوں نے ریاست کو درپیش مسائل جن کی قومی اہمیت ہے اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ غربت ملک سے ختم کردی جائے گی اور جب بھی یو پی میں بی جے پی کی حکومت قائم ہو غربت کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ گنگا اور جمنی کی سرزمین ہے جہاں اراضی انتہائی زرخیز ہے، کروڑوں مزدور موجود ہیں پھر بھی غربت بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی کوئی غلطی نہیں ہے ان میں صلاحیت موجود ہے کہ وسائل کی کمی کو پورا کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کا مسئلہ ہے کیونکہ اس میں عزم کی کمی ہے۔ سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس نے سمجھا تھا کہ وہ ریاست کو ترقی نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف اپنے تحفظ کیلئے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنا ووٹ بینک برقرار ہے اور ان کی مدد کرتا رہے یہی ان کی خواہش ہے۔ جب تک ان کی یہ خواہش پوری ہوتی رہے گی یو پی میں تبدیلی نہیں آسکتی۔ ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد ہی تبدیلی ممکن ہے۔بارہ بنکی سے موصولہ اطلاع کے بموجب وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ اتر پردیش کے ہر کونے میں ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس کے تئیں شدید نفرت کا ماحول دکھائی دے رہا ہے اور اسمبلی انتخابات میں ان تینوں جماعتوں کو سزا دیے بغیر اس صوبے کے حالات نہیں بدلیں گے ۔

اترپردیش میں حکمراں سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بدعنوانی، بچولیوں اور مجرموں کی گرفت میں جکڑا اترپردیش دلتوں پر مظالم کے معاملے میں ملک میں سرفہرست ہے ۔مودی نے کہا کہ جمہوریت میں چنی گئی یہ حکومت غریبوں، دلتوں، مظلوموں، نوجوانوں، مزدوروں، ماں بہنوں کی حفاظت کے لیے ہونا چاہیے ، لیکن اکھلیش حکومت نے انہیں لوگوں کا سب سے زیادہ استحصال کیا ہے ۔انہوں نے طنز بھرے لہجے میں کہا کہ ریاست کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کے نصف عہدے خالی ہیں اور ہسپتالوں میں نہ تو ڈاکٹر ہے اور نہ ہی ادویات، جبکہ اکھلیش جی کہتے ہیں کہ ان کا کام بولتا ہے ۔ مودی نے دعوی کیا کہ ملک میں دلتوں پر سب سے زیادہ ظلم اترپردیش میں ہوتے ہیں۔صوبے میں عدالتوں کے ذریعے دلت ظلم و ستم کے مقدمے درج کرانے کی نوبت آئی۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کیونکہ اکھلیش جی نے تھانے کو ایس پی کا دفتر بنا دیا ہے ۔ جب تک سماج وادی پارٹی کا صوبیدار ہاں نہ کہے ، ایس ایچ او کاغذ پر ایک لفظ بھی لکھنے کی ہمت نہیں کرتا۔ اگر کسی داروغہ نے ایمانداری سے لکھ بھی دیا تو اس کی تو چھٹی طے سمجھیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT