Friday , July 21 2017
Home / Top Stories / م2019 میں وزارت عظمی کا امیدوار نہیں ہوں ‘ نتیش کمار

م2019 میں وزارت عظمی کا امیدوار نہیں ہوں ‘ نتیش کمار

’ میں بے وقوف نہیں ہوں۔ میری پارٹی بہت چھوٹی ہے ‘ ۔ صدارتی امیدوار پر بی جے پی اتفاق رائے پیدا کرے ۔چیف منسٹر بہار کا بیان
پٹنہ 15 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر بہار و جے ڈی یو کے قومی صدر نتیش کمار نے آج واضح طور پر کہا کہ وہ 2019 میں وزارت عظمی کے امیدوار نہیں ہیں۔ نتیش کمار نے یہاں لوک سمواد پروگرام کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں غیر ضروری طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ ہماری ایک چھوٹی پارٹی ہے ۔ وہ بیوقوف نہیں ہیں۔ اگر وہ اپنی پارٹی قومی صدر بن جاتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ وزیر اعظم بننے کے قومی خاوب دیکھ رہے ہیں۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ انہوں نے ہمیشہ عوام کیلئے کام کرنے میں یقین کیا ہے نتیش کمار نے کہا کہ انہوں نے اپنے سیاسی کیرئیر میں ہمیشہ عوام کی خدمت کی ہے چاہے وہ بحیثیت رکن پارلیمنٹ ہوں ‘ مرکزی وزیر ہوں یا پھر اب بحیثیت چیف منسٹر ہوں۔ فی الحال بہار کے عوام نے عظیم اتحاد کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا تھا اور وہ مثبت انداز میں کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سوال پر کہ آیا وہ سمجھتے ہیں کہ ان میں غیر بی جے پی متبادل کی قیادت کرنے کی صلاحیت موجود ہے نتیش کمار نے کہا کہ انہوں نے کبھی وزیر اعظم بننے کی خواہش نہیں کی ہے اور نہ ہی ان میں وہ صلاحیت ہے ۔ نتیش کمار کے ساتھ اس موقع پر وزرا اور پارٹی کے قائدین موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی سے یہ کہنا مشکل ہے کہ 2019 میں کون وزارت عظمی امیدوار کے طور پر ابھرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ عجیب لگتا ہے ۔ وہ 2019 کے عام انتخابات میں وزارت عظمی عہدہ کے امیدوار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس شخص میں لوگ سمجھیں گے کہ صلاحیت موجود ہے وہ وزیر اعظم بن جائے گا ۔ گذشتہ انتخابات میں عوام نے محسوس کیا کہ نریندر مودی میں صلاحیت ہے تو وہ وزیر اعظم بن گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے چیف منسٹر گجرات کی حیثیت میں پانچ سال قبل نریندر مودی وزیر اعظم بننے کے امکانی افراد میں بھی شامل نہیں تھے ۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے تعلق سے اپنی حلیف جماعت آر جے ڈی سے مختلف رائے رکھنے سے متعلق سوال پر نتیش کمار نے کہا کہ ہر جماعت کی ایک رائے نہیں ہوسکتی ۔ مختلف جماعتوں کے مختلف مسائل پر مختلف خیالات ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی پر ہماری رائے مختلف تھی اسی طرح ہمارا یہ خیلا ہے کہ انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر ہونے چاہئیں لیکن ووٹنگ مشینوں کے تعلق سے جو کچھ بھی اندیشے پائے جاتے ہیں ان سب کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔ نتیش کمار نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کو صدارتی امیدوار کے مسئلہ پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ انہوں نے تاہم پرنب مکرجی کو دوسری معیاد کیلئے منتخب کرنے کی حمایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کا اتفاق رائے سے دوسری معیاد کیلئے انتخاب کیا جاتا ہے تو اس سے اچھی مثال قائم ہوگی تاہم اس تعلق سے کوئی بھی فیصلہ کرنا مرکز میں برسر اقتدار جماعت کا کام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ سارے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں اور اسی وجہ سے مرکز میں برسر اقتدار جماعت کو چاہئے کہ وہ اس اعلی ترین دستوری عہدہ کے امیدوار کے انتخاب کیلئے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ایسا کرنا مرکز میں برسر اقتدار جماعت کا فرض ہے تاہم اسے چاہئے کہ ایسی کوشش کرے ۔انہوں نے کہا کہ تاہم اگر برسر اقتدار جماعت ایسا نہیں کرتی ہے تو ایک متحدہ امیدوار پیش کرنا اپوزیشن کی ذمہ داری ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT