Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / م29 ملازمین کی سبکدوشی کے بعد خدمات سے استفادہ

م29 ملازمین کی سبکدوشی کے بعد خدمات سے استفادہ

حیدرآباد۔/22ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے حکومت کو جواب روانہ کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ صرف 29 ملازمین ایسے ہیں جن کی خدمات وظیفہ پر سبکدوشی کے بعد حاصل کی گئی ہیں جن کا  تعلق مختلف  محکمہ جات سے تھا۔ وقف بورڈ نے ہیڈکوارٹر حیدرآباد اور اضلاع میں بہتر کارکردگی کیلئے 314 عہدیداروں اور ملازمین کی تجویز روانہ کی ہے۔ واضح رہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے وظیفہ یاب ملازمین کے دوبارہ تقرر کے بارے میں وقف بورڈ سے وضاحت طلب کی تھی۔ حکومت سے شکایت کی گئی تھی کہ بورڈ میں 40 ایسے عہدیدار موجود ہیں جو مختلف محکمہ جات میں وظیفہ پر سبکدوش ہوگئے لیکن انہیں بھاری تنخواہ پر وقف بورڈ میں متعین کیا گیا۔ حکومت کی وضاحت طلبی پر چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا ہے کہ بورڈ میں وظیفہ یاب ملازمین اور عہدیداروں کی تعداد صرف 29ہے جن میں 19ملازمین وقف بورڈ کے ہیڈ آفس میں برسر خدمت ہیں جبکہ باقی اضلاع میں کام کررہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے دیگر محکمہ جات سے ریٹائرڈ ہونے والے تجربہ کار عہدیداروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور بورڈ کیلئے یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایکزیکیٹو آفیسر، سرویئرس اور انکوائری آفیسرس کے عہدوں پر ریٹائرڈ عہدیداروں کی خدمات حاصل کی گئیں جس سے بورڈ کی کارکردگی میں بہتری ہوئی ہے۔ وقف بورڈ میں صرف ایک ہی سرویئر موجود تھا جو ریاست بھر کیلئے ناکافی ہے لہذا مزید 4 سرویئرس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 5 ایکزیکیٹو آفیسرس ہیں جبکہ 2 انکوائری آفیسرس ہیں۔ وقف بورڈ کے جملہ ملازمین کی تعداد 118ہے جن میں 40فیصد کلاس فورتھ ایمپلائز ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وظیفہ یاب افراد کے عدم تقرر سے متعلق حکومت نے جو احکامات جاری کئے ہیں اس کا اطلاق صرف سکریٹریٹ کے محکمہ جات پر ہوتا ہے وقف بورڈ پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو اور دیگر امور میں تجربہ کار سابق عہدیداروں کے ذریعہ کئی اہم جائیدادوں کے تحفظ کی کارروائی کی گئی۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے بتایا کہ وقف بورڈ میں 314ملازمین کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت درکار تعداد میں ملازمین اور عہدیداروں کو فراہم کرے گی تو بورڈ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں وقف بورڈ کا صرف ایک ہی ملازم ہے جبکہ کم سے کم پانچ تا دس ملازمین کی ہر ضلع میں ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ میں موجود اوقافی اراضیات کے 80فیصد پر ناجائز قبضے ہیں اور کئی اہم جائیدادوں کے مقدمات عدالتوں میں زیر دوران ہیں۔ وقف بورڈ کو روزانہ شہر اور اضلاع کے کئی مقامات سے ناجائز قبضوں کے بارے میں شکایات موصول ہوتی ہیں لیکن عملے کی کمی کے باعث وقف بورڈ کارروائی سے قاصر ہے۔ انہوں نے حکومت سے سفارش کی کہ وقف بورڈ کیلئے درکار عملہ فراہم کیا جائے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے اپنی رپورٹ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کو روانہ کردی جو وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز بھی ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT