Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / نئی تعلیمی پالیسی کے لیے تجاویز مطلوب ، حکومت کی عدم تشہیر سے مختلف خدشات لاحق

نئی تعلیمی پالیسی کے لیے تجاویز مطلوب ، حکومت کی عدم تشہیر سے مختلف خدشات لاحق

آخری تاریخ میں توسیع ناگزیر ، مسلم میناریٹی ادارے تجاویز داخل کریں ، کومی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : نئی تعلیمی پالیسی کی تدوین کے لیے حکومت ہند نے تمام ریاستوں سے ان کی پنے سفارشات طلب کی ہیں اس کے لیے تلنگانہ ریاستی حکومت کے محکمہ تعلیمات کے تحت ایس سی ای آر ٹی نے اس ضمن میں 8 اکٹوبر کو تعلیمی اداروں / سوسائٹیز ، ین جی اوز ، سماجی جہدکاروں ، ماہرین سے تجاویز طلب کرنے کے لیے ایس ایل ڈی کیو اسٹیٹ لیول ڈسکس کوئسچن طلب کئے ہیں ۔ ان تمام سوالات کو جوابات اپنے تجاویز میں داخل کرنے کی آخری تاریخ 15 اکٹوبر رکھی گئی ہے اور اس کی کوئی تشہیر نہیں کی گئی ۔ اب بہ مشکل دو دن رہ چکے ہیں ۔ اس ضمن میں کانفیڈریشن آف میناریٹی انسٹی ٹیوشن تلنگانہ حیدرآباد کے عہدیداران نے حکومت کی توجہ مبذول کروانے اور عوام الناس کو اس سے بہ خوبی واقف کروانے کے لیے یہاں ین ایس ایس میں ایک پریس کانفرنس رکھی ہے ۔ اس پر ہجوم میڈیا کانفرنس میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کومی ایڈوائزر جناب محمد ساجد علی نے کہا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی 1986 میں بنائی گئی اب مرکزی حکومت تعلیمی پالیسی کو از سر نو بنا رہی ہے ۔ تمام ریاستوں کو اپنی ریاست کے متعلق مکمل تعلیمی پالیسی کے لیے تجاویز روانہ کرنا ہے ۔ لیکن ایس سی آر ٹی نے اس کے لیے نہایت سرد مہری کا مظاہرہ کیا اور اس کی تشہیر نہیں کی ۔ جب کہ نئی تعلیمی پالیسی سے متعلق نہ صرف تعلیمی شعبہ سے وابستہ افراد ، اداروں کو بلکہ عوام کو واقف کروانے کی ضرورت ہے ۔ اس کے لیے عوامی تجاویز رائے عامہ کے سوالات کے جوابات کے لیے 15 اکٹوبر کی تاریخ میں کم از کم ایک ماہ کی توسیع ناگزیر ہے ۔ سماج کے چار پچھڑے ہوئے طبقات ایس سی ، ایس ٹی ، او بی سی کے ساتھ مسلم کے لیے جو مراعات ہیں اس ضمن میں کانفیڈریشن آف میناریٹی انسٹی ٹیوشن حکومت ہند اور حکومت تلنگانہ سے میناریٹی کے خصوصی مراعات کا مطالبہ کرتی ہے ۔ بالخصوص مسلم تعلیمی اداروں کے لیے جو دستوری سہولتیں اور مراعات ہیں ان سے استفادہ کے لیے شرائط قواعد میں نرمی برتی جاتی ہے ۔ RTE قانون حق تعلیم کو معزز سپریم کورٹ نے اقلیتی اداروں کو مستثنیٰ رکھا ہے ۔ اس کے لیے دخل اندازی نہ ہو اس موقع پر کومی کے عہدیداران صدر ایم ایس فاروقی ، جنرل سکریٹری خلیل الرحمن نے ین جی اوز اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کو اپنی تجاویز ایس سی آر ٹی کے دفتر واقع روبرو لال بہادر اسٹیڈیم حیدرآباد میں داخل کرنے کی اپیل کی ہے ۔ پریس کانفرنس کے موقع پر کنوینر منظور احمد ، ڈاکٹر تقی الدین ، محمد وقار احمد خالد ، سلطان احمد کے علاوہ احمد بشیر الدین فاروقی موجود تھے ۔ اس موقع پر ساجد علی اور محمد جعفر نے اخباری نمائندوں کے سوالات کے جوابات دئیے ۔۔

TOPPOPULARRECENT