Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / نئی دہلی میں بیف پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ لیفٹننٹ گورنر کو ہندو تنظیموں کا مکتوب

نئی دہلی میں بیف پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ لیفٹننٹ گورنر کو ہندو تنظیموں کا مکتوب

نئی دہلی۔/3نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) کیرالا ہاؤز کے تنازعہ کے بعد بیف مسئلہ پر جاریہ بحث کے دوران وشوا ہندو پریشد نے آج دہلی کے لیفٹننٹ گورنر سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی دارالحکومت کی ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں بیف کی فروخت پر فی الفور پابندی عائد کردی جائے۔ کیشتریہ گاؤ رکھشا پرمُکھ شری راشٹرا پرکاش اور وشوا ہندو پریشد دہلی اسٹیٹ کے جوائنٹ سکریٹری شری رام پال سنگھ یادو نے ایک مشترکہ مکتوب میں لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ سے یہ اپیل کی کہ دہلی میں بیف کی فروخت کی روک تھام کریں۔ وشوا ہندو پریشد کے ترجمان ونود بنسل نے یہ ادعا کیا کہ قومی دارالحکومت میں گذشتہ کئی دنوں سے بیف فروخت کیا جارہا ہے جبکہ کیرالا ہاوز کے واقعہ اور نیوز چیانلوں پر بیف فروخت کے انکشاف سے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہورہی ہے بلکہ ہندوؤں کے مذہبی جذبات بھی مجروح ہورہے ہیں۔ انہوں نے لیفٹننٹ گورنر سے یہ بھی اصرار کیا کہ متعلقہ لائیسنسگ اتھاریٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت جاری کریں کہ بیف فروخت کرنے پر سخت کارروائی کریں اور ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے سے روکا جائے۔ اس خصوص میں مکتوب کی نقولات مرکزی وزارت داخلہ، پولیس کمشنر، میئرس اور کمشنرس میونسپل کارپوریشن دہلی، ہوٹل اور ریسٹورنٹس کے انتظامیہ کو روانہ کرتے ہوئے قانون پر عمل آوری کی گذارش کی گئی ہے۔ مسٹر بنسل نے یہ انتباہ دیا کہ بیف کی فروخت کو اگر روکا نہیں گیا تو ہم قانون کی پاسداری کیلئے احتجاج شروع کردیں گے۔ قانون تحفظ مویشیاں بابت 1994ء کا حوالہ دیتے ہوئے وشوا ہندو پریشد نے کہا کہ دہلی میں مکمل پابندی کے باوجود ہوٹلوں اور ریسٹوران میں کھلے عام بیف فروخت کیا جارہا ہے اور یہ وضاحت کی کہ اس قانون کے دائرہ کار میں بھینس کا گوشت بھی آتا ہے جس کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ کیرالا ہاؤز کے کینٹین میں بیف کی فروخت کی شکایت پر دہلی پولیس کی تلاشی کارروائی کے بعد زبردست تنازعہ پیدا ہوگیا جس کے پیش نظر وشوا ہندو پریشد نے یہ مکتوب روانہ کیا۔

 

TOPPOPULARRECENT