Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / نئی ریاست تلنگانہ میں ایک اور تحریک کا آغاز وعدوں پر عمل کیلئے حکومت پر دباؤ، سیاسی جماعتوں و تنظیموں کا اعلان

نئی ریاست تلنگانہ میں ایک اور تحریک کا آغاز وعدوں پر عمل کیلئے حکومت پر دباؤ، سیاسی جماعتوں و تنظیموں کا اعلان

حیدرآباد۔/19اگسٹ ، ( سیاست نیوز) عوامی تحریک کے ذریعہ تشکیل میں آئی تلنگانہ ریاست میں تحریک کا ماحول پھر ایک بار شروع ہورہا ہے۔ سرکاری پالیسیوں اور کئے گئے وعدوں کی عمل آوری کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ سرکاری پالیسیوں میں سب سے زیادہ مخالفت کسی پالیسی کی جارہی ہے تو وہ لکر پالیسی کی ہے۔ عوام اور دانشوروں کا کہنا ہے کہ ریاست نقلی ادویات کی روک تھام کیلئے تو بڑے پیمانے پر اقدامات جاری ہیں لیکن نقلی شراب کے تعلق سے ابھی تک کسی قسم کے کوئی ٹھوس عملی اقدامات نہیں کئے گئے جو انسانی زندگیوں کیلئے خطرہ ہے، جس سے شراب نوشی کرنے والا ہی نہیں بلکہ اسکا پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں نقلی شراب کے علاوہ شہری علاقوں میں نقلی شراب کو روکنے کی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ بارہا حکومت سے مطالبات اور سیاسی قائدین کی عدم دلچسپی کے بعد اب چند تنظیموں نے عوامی تحریک کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عوامی تنظیموں کی اس آواز کو بلند کرتے ہوئے تلنگانہ کی اپوزیشن جماعتوں نے محاذ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ شراب کے خلاف جاری مہم میں عثمانیہ یونیورسٹی کے پروفیسرس بھی جٹ گئے ہیں۔ گزشتہ روز ایک گول میز کانفرنس جس میں کانگریس، بی جے پی، تلگودیشم اور دیگر جماعتوں کے قائدین شریک تھے ریاستی حکومت کی نئی شراب پالیسی کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا اور امکان ہے کہ متحدہ محاذ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ذریعہ چلائی جانے والی شراب کے خلاف مہم کا آغاز چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے حلقہ گجویل ضلع میدک یا پھر سرسلہ کریم نگر سے کیا جائے گا اور شہری علاقوں میں بھی اس مہم میں شدت پیدا کی جائے گی۔ گول میز کانفرنس کو مہم کے لئے شروعات اور شراب کے خلاف پہلا قدم قرار دیتے ہوئے اس مہم میں عوام اور خواتین کو بڑے پیمانے پر شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مہم میں شامل عوامی تنظیموں نے شہری علاقوں اور شہر کے نواحی علاقوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے اس مہم میں ہر طبقہ کو شامل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ متحدہ محاذ کی جانب سے مہم کے اعلان کے ساتھ ہی اس مہم میں شدت کے آثار پائے جارہے ہیں اور یہ مہم عوامی تحریک کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ لکر پالیسی کے ذریعہ سرکاری خزانہ پر توجہ دینے اور عوامی صحت سے کھلواڑ کے الزامات کے باوجود چیف منسٹر نئی پالیسی پر عمل آوری کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ بیلٹ شاپس ، لکر دوکانات کی کثرت سے عوام بالخصوص خواتین پریشان ہیں جبکہ شہر حیدرآباد اور نوحی علاقوں میں گڑمبہ اور دیسی شراب کے کئی غیر مجاز ٹھکانے پائے جاتے ہیں ۔
اور عوام سڑکوں پر گڑمبہ و دیسی شراب کا استعمال کررہے ہیں تاہم ان کے خلاف کسی قسم کے کوئی اقدامات نہ ہی پولیس کی جانب سے کئے جاتے ہیں اور نہ ہی آبکاری محکمہ حرکت میں آتا ہے۔ سنہرے تلنگانہ کا قیام خوشحال سرسبز و شاداب تلنگانہ کی امیدیں بھی تحریک کے اعلان سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی نئی شراب پالیسی میں بہہ کر رہ جائیں گی۔ متحدہ ریاست کے وقت شراب کے خلاف تاریخی جدوجہد کی گئی تھی، خواتین نے اپنے گھروں کو بچانے اور زندگیوں کو پرسکون بنانے کیلئے مہم کو تحریک کی شکل دی تھی۔

 

لکر شراب کے خلاف مہم میں مسلم طبقہ کو شامل کرنے کا فیصلہ
مذہبی اعتبار سے اسلام میں شراب کو حرام قرار دیئے جانے کے باوجود آج کئی مسلم علاقوں میں شراب کی دکانات اور کئی مسلمان اس لعنت کا شکار ہیں۔ شہر کے نواحی علاقوں ، شہری علاقوں بالخصوص مسلم علاقوں کی مسلم آبادی شعور کی کمی کے باعث اس لعنت کاشکار ہے اور مسلم طبقہ اس لعنت سے قوم کے چھٹکارے کے لئے کافی فکر مند ہے لہذا مذہبی اعتبار اور سماجی ضرورت کو دیکھتے ہوئے شراب کے خلاف مہم میںمسلمانوں کے رول کو اہمیت کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ امکان ہے کہ بہت جلد اس مہم کیلئے تشکیل کردہ محاذ سے مسلم رہنمائی کا بھی اعلان ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT