Tuesday , July 25 2017
Home / Top Stories / نئی صف بندی ۔ کٹر حریف ایس پی، بی ایس پی مشترکہ پلیٹ فارم پر ہوں گے

نئی صف بندی ۔ کٹر حریف ایس پی، بی ایس پی مشترکہ پلیٹ فارم پر ہوں گے

پٹنہ میں 27 اگسٹ کو آر جے ڈی کی ریلی میں شرکت کی توثیق ۔ لالو پرساد مخالف بی جے پی اپوزیشن پارٹیوں کو یکجا کرنے میں مصروف۔ سونیا، ممتا، پوار و دیگر بھی مدعو

لکھنو ، 7 جون (سیاست ڈاٹ کام) یو پی میں کٹر حریف سیاسی جماعتیں سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی پٹنہ میں لالو پرساد کے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے زیراہتمام ایک ریلی میں ایک ہی پلیٹ فارم پر دکھائی دیں گے جو اس ملک کی گاؤ پٹی میں سیاست کے ایک نئے دور کا نقیب ہے۔ ایس پی سربراہ اکھلیش یادو اور صدر بی ایس پی مایاوتی نے 27 اگسٹ کو پٹنہ ریلی میں اپنی شرکت کی توثیق کردی ہے، جس کیلئے آر جے ڈی سربراہ نے دونوں قائدین کو حال ہی میں خود فون کیا تھا، صدر آر جے ڈی اسٹیٹ یونٹ اشوک سنگھ نے آج ’پی ٹی آئی‘ کو یہ بات بتائی۔ انھوں نے کہا کہ بانی سماجوادی پارٹی ملائم سنگھ یادو کی بھی اس ریلی میں شرکت کیلئے کوششیں ہورہی ہیں۔ ایس پی اور بی ایس پی قائدین کا ایک پلیٹ فارم پر آنا سیاسی حلقوں میں اس ریاست کی سیاست کے نئے مرحلے کا نقیب سمجھا جارہا ہے جبکہ 2014ء لوک سبھا اور 2017ء اسمبلی چناؤ میں تمام مخالف بی جے پی پارٹیوں کا مایوس کن مظاہرہ رہا ہے۔ اشوک سنگھ نے کہا کہ صدر آر جے ڈی نے دیگر قائدین جیسے ممتا بنرجی (ترنمول کانگریس)، نوین پٹنائک (بیجو جنتادل)، شردپوار (نیشنلسٹ کانگریس پارٹی) کو بھی مدعو کیاہے اور ان میں سے کئی شرکت کرنے کا امکان ہے۔ کانگریس کی نمائندگی ممکنہ طور پر اس کی صدر سونیا گاندھی کریں گی، نیز ایم کے اسٹالین (ڈی ایم کے) پہلے ہی اپنی شرکت کی توثیق کرچکے ہیں۔ اشوک سنگھ نے کہا کہ کوشش یہی ہے کہ بہار جیسے تجربہ کا قومی سطح پر اعادہ کیا جائے جس میں بی جے پی کی مخالف تمام جماعتیں یکجا ہوجائیں۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ سیاسی طور پر کلیدی ریاست اترپردیش میں پکے دشمنوں ایس پی اور بی ایس پی کا یکجا ہونے کا دوررس اثر پڑسکتا ہے تاکہ بی جے پی کی پیش قدمی کو روکا جاسکے۔ ایس پی اور بی ایس پی مل کر طاقتور اتحاد ہوسکتے ہیں جس میں دلت اور پسماندہ طبقات کے ووٹ یک جٹ ہوکر بی جے پی کو مؤثر طور پر مات دے سکتے ہیں۔ بی ایس پی نے اس مرتبہ (2017ء اسمبلی) 403 رکنی ایوان میں صرف 19 نشستیں جیتی ہیں، جو 2012ء میں 80 سے بہت زیادہ گھٹ گئیں۔ یہ 1991ء سے اس کی اقل ترین عددی طاقت ہے، جب پارٹی نے 12 سیٹیں جیتے تھے۔ ایس پی نے 47 نشستیں حاصل کئے جو 1992ء میں پارٹی کے آغاز کے بعد سے اس کی اقل ترین عددی طاقت ہے۔ اس سے قبل ایس پی کا ناقص ترین مظاہرہ 2007ء میں 97 نشستیں تھا۔ چونکہ بی جے پی کی غیرمعمولی عددی طاقت نے اپوزیشن کو بری طرح پسپا کیا جو تمام مل کر اندرون 75 سیٹیں تک گھٹ گئے، ایس پی اور بی ایس پی کے درمیان اتحاد کی باتیں زور پکڑنا شروع ہوئی ہیں۔ بی جے پی نے مستعملہ ووٹوں کا 40 فیصد حصہ بٹورا، جو گزشتہ مرتبہ سے 25 فیصد زیادہ ہے، اور اس دوران اپنے این ڈی اے شرکاء کے ساتھ مل کر غیرمعمولی 325 نشستیں جیت لئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT