Thursday , July 27 2017
Home / شہر کی خبریں / نئی نسل کو ماضی کے درخشاں تاریخ سے واقف کروانے کا مشورہ

نئی نسل کو ماضی کے درخشاں تاریخ سے واقف کروانے کا مشورہ

جلسہ یاد نصرت محی الدین ، پروفیسر ایس اے شکور ، سید عزیز پاشاہ و دیگر کا خطاب
حیدرآباد /15 اپریل ( پریس نوٹ ) اردو کی نئی نسل اپنے تہذیبی ورثہ ، روایات و شناخت سے کوسوں دور ہوگئی ہے ۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نئی نسل کو ماضی کے درخشاں تاریخ سے واقف کروائیں ۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر سکریٹری تلنگانہ اردو اکیڈیمی نے تلنگانہ رائٹرس اینڈ کلچرل سوسائٹی اور اردو آرٹس کالج اولڈ بوائز اسوسی ایشن کے زیر اہتمام کل اردو ہال حمایت نگر میں منعقدہ ادبی اجلاس یاد نصرت محی الدین میں اپنی صدارتی تقریر میں کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ادیب و شاعر نے ماضی میں اردو تہذیب و تمدن ، لسانی ، تعلیمی ، روایات کو جس خوبی سے آگے بڑھایا ۔ اس کی زندہ مثال نصرت محی الدین مرحوم کی اردو تحریکات سے وابستگی کے نتائج بھی ہیں ۔ پروفیسر شکور نے مزید کہا کہ تلنگانہ اردو اکیڈیمی اردو کے فروغ و استحکام اور نئی نسل کو اردو پڑھنے کی ترغیب کی راہ ہموار کرنے سرگرداں ہے ۔ مولانا سید حامد حسین شطاری نے نصرت کی رفاقتوں اور یادوں پر بہت متاثرکن انداز سے تاثرات پیش کئے ۔ انہوں نے کہا کہ نصرت ایک شریف النفس قلندرانہ صنعت کے حامل ایک ایسی شخصیت جنہوں نے بے باکی ، حق گوئی کے ذریعہ ناانصافی کے خلاف ساری عمرمتحرک رہی ۔ نصرت اپنی زندگی کو خدمت خلق کا محور بنالیا تھا ۔ جناب سید عزیز پاشاہ سابقہ ایم پی ، سی پی آئی قائد نے کہا کہ نصرت ایک متحرک کردار کا نام تھا جس نے اپنی حرکیاتی شخصیت سے مختلف تحریکوں میں اپنے مثبت لائحہ عمل کے ذریعہ کامیابی حاصل کی ۔ اردو تحریک ٹریڈ یونین تحریک ، تنظیم انصاف ، ترقی اردو کی تعلیمی تحریک میں عملی حصہ لیا ۔ جناب ٹھاکر ہردے ناتھ سنگھ نصرت محی الدین سے اپنی رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نصرت دکن کے محبان اردو میں ایک اہم مقام رکھتے تھے وہ مخلص و بے باک قائد تھے ۔ جنہوں نے اردو زبان کو سیکولر بنانے میں اپنی زندگی وقف کردی تھی وہ حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب کے نمائندہ تھے ۔ جناب اسلم فرشوری نے نصرت کی محبتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مخلص بے لوث قائد تھا جس نے اپنے کردار کے ذریعہ ہمارے ذہنوں پر ایک نقش ثبت کیا جو ہماری یادوں کے ساتھ ہمیشہ جڑا رہے گا ۔ فکشن رائٹر محترمہ قمر جمالی نے کہا کہ نصرت نے سماجی ، سیاسی ، ادبی ، لسانی ، تعلیمی مسائل کو حل کروانے میں ایک منفرد رول ادا کیا ۔ جناب میر احمد علی ( اولڈ بوائز اسوسی ایشن اردو آرٹس کالج ) نے نصرت کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے آئی ٹی آئی اردو آرٹس کالج اردو تحریکات اور ادبی محفلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نصرت ایک متحرک انسان تھا ۔ جناب محمد حمیدالظفر سابقہ پی آر او اردو اکیڈیمی اے پی نے کہا کہ نصرت کی شخصیت کا سب سے بڑا کردار یہ ہے کہ وہ اپنی ماں سے بہت ہی محبت کرتا تھا اور ماں کی زندگی میں اس نے اتنی خدمت کی جس کی مثال ملنا بہت مشکل ہے ۔ جنابا حمد صدیقی مکیش ایڈیٹر آئینہ چشم نے نصرت کے ساتھ اسکول کے زمانے کا تذکرہ کرکے کہا نصرت بچپن میں بہت شوخیانہ مذاق رکھتا تھا ۔ اس کی بذلہ سنجی اور دوستوں کے محبت اردو خلوص تھا وہ آخری وقت تک ایسا رہا کبھی اجنبیت کا احساس ہونے نہیں دیا ۔ آخر میں جناب فرید ضیائی کنوینر نے شکریہ ادا کیا ۔ جناب خان اطہر اور مقصود علی نے ساز پر کلا م پیش کیا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT