Tuesday , October 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / نئی نسل کے تحفظ کا مسئلہ

نئی نسل کے تحفظ کا مسئلہ

ہندوستان کثرت آبادی پر مشتمل ملک مانا جاتاہے،اسکی آبادی کا تخمینہ ایک سو بیس کڑوڑسے کیا گیا ہے ، جس میں اسی کڑوڑآبادی نوجوان نسلوں کی مانی گئی ہے،جس ملک کے کثیر شہری نوجوانوں پر مشتمل ہوں اس ملک کی ترقی کے امکانات بھی بہت زیادہ روشن ہوجاتے ہیں۔نوجوان ملک وقوم کی ریڑھ کی ہڈی کہلاتے ہیں انکی سدھارسے ملک وقوم کی سدھاروابستہ رہتی ہے،ان کا بگاڑوفساد ملک وقوم کی بگاڑکا موجب ثابت ہوسکتاہے۔نوجوانوں کی نسبت سے بڑی روح فرسا خبر ۶؍جولائی ۲۰۱۷؁ء کے روزنامہ سیاست میں شائع ہوئی ہے کہ ہماری نئی نسل منشیات کے دلدل میں پھنس گئی ہے جو سارے ملک کیلئے ایک خطرہ کی گھنٹی ہے ، ذرائع ابلاغ کے مطابق شہر حیدرآباد کے کئی تعلیمی اداروں کے طلبہ وطالبات اس لعنت میں گرفتارہیں ،ڈرگس مافیا نوجوان نسل کو تباہی وبربادی کے دہانے پر پہنچارہاہے،منشیات کی عادی نوجوان لڑکیاں اپنے شوق کی تکمیل کیلئے اپنی عزت وآبرو نیلام کر نے اور نوجوان لڑکے ڈکیتی وچوری پر مجبور ہوگئے ہیں ۔یہ بھی اطلاع ہے کہ ڈرگس مافیا کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ نوجوان نسل کو پہلے منشیات کا عادی بنا دیا جائے جب وہ اسکے عادی ہوجاتے ہیں اور عدم سرمایہ کی وجہ ڈرگس کی فراہمی انکے لئے مشکل ہوجاتی ہے تو پھرڈرگس مافیا اپنے مجرمانہ مقاصد کی تکمیل کیلئے انکا استحصال کرتاہے اس طرح وہ مزید جرائم کے دلدل میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ماں باپ کھانے کمانے میں کچھ اس قدر مصروف ہیں کہ ان کو اپنی اولاد کی طرف دیکھنے کی فرصت نہیں اورجو وقت انکا فارغ ہوتاہے وہ انکی تفریحی مشاغل کے نذرہوجاتاہے،اپنے بچوں کی تعلیمی ترقی اورانکی اخلاقی صورتحال کی طرف توجہ کی کوئی فکرنہیں رہتی،کم سنی ہی سے ان کو تعلیمی اداروں کے حوالہ کر دیا جاتاہے ، جب کہ وہ ماں کی آغوش محبت اورباپ کے سایہ شفقت میں وقت گزارنے کے فطرتاً محتاج ہوتے ہیں ۔ اس لئے ماہرین نفسیات چھ سال کی عمر سے پہلے بچوں کی تعلیمی اداروں میں شرکت اوران پر تحصیل علم کی پابندی کا بوجھ ڈالنے کے مخالف ہیں، البتہ پیدائش سے لیکر چھ سال کی عمرتک کا زمانہ تربیت پانے کے اعتبارسے بڑااہم مانا گیاہے چونکہ یہ دورماں باپ کے ساتھ رہتے ہوئے انکی نشست وبرخواست،طرز گفتگو،رکھ رکھاؤوبرتاؤمیں انکے اخلاق کریمانہ،زندگی گزارنے کے طورطریق میں انکی سلیقہ مندی سے بہت کچھ سیکھنے کا ہے،گھریلو ماحول سے دورکرکے گویا ہم نے بچوں کا بچپن چھین لیا ہے اورماں باپ سے تربیت پانے کے موقع سے انکو محروم کردیا ہے،ماں باپ کا فرض ہے کہ بچوں کو چھ سال کی عمر تک مادرانہ اورپدرانہ ماحول میں پر ورش پانے سے محروم نہ کریں۔ماہرین نفسیات کی آج آنکھ کھلی ہے لیکن نباض فطرت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے اس پر ازحکمت رازسے آج سے چودہ سوسال قبل ہی اپنے اس ارشاد پاک کے ذریعہ پردہ اٹھادیا ہے کہ ’’اپنے بچوں کو جب وہ سات سال کے ہوجائیں تب نماز پڑھنے کی تاکیدکرو ‘‘(سنن ابی داؤد؍۴۹۴)علامہ کاسانی رحمہ اللہ نے اس عمرکے بچوں کو طہارت ونماز وغیرہ کے آداب سکھانے کی ہدایت کی ہے(بدائع الصنائع ۱؍۳۵۹)اسلئے چھ سال کی عمرکے بعد بچوں کو اچھے اورمناسب تعلیمی اداروں میں شریک کروائیں اوروہاں بھی انکی ضرور نگرانی رکھیں ، تعلیمی ادارے جہاں بچوں کو زیورہ علم سے آراستہ کیا جاتاہے اورانکی اخلاقی تربیت کرکے انکو نکھارا اور سنوارا جاتاہے انکا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں ،ملک وملت کے عظیم سرمایہ (نوجوان نسل)کوضائع ہونے کے بچائیں۔تربیت وتعلیم جسکا سلسلہ ماں کی آغوش سے شروع ہوتاہے جو گھریلو ماحول ،مدارس وکالجس اورمعاشرہ کے حال وماحول تک پھیلاہواہے،ان سب کا پاکیزہ ہونا بچوں کی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑتاہے،سیکھنے کے یہ سارے مواقع اگرغیر اسلامی طرزکے ہوں ،اسلامی اخلاق وعادات ،پاکیزہ تہذیب وتمدن جیسے اعلی اقدار ان مواقع میں اگر مفقود ہوں توبچے اسکے مضراثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتے ۔اسی لئے اسلام آداب واخلاق پر بہت زوردیتاہے،فواحش ومنکرات اورسوء اخلاق سے سخت اجتناب کی تلقین کرتاہے ان پاکیزہ بنیادوں پر جس معاشرہ کی تشکیل ہوگی ظاہر ہے وہ ایک پاکیزہ معاشرہ ہوگا اوراس میں پلنے والی نسلیں اعلی اقدار وبلند ا ہدف کو نصب العین بنا سکیں گی اورملک وملت کیلئے ایک اچھا سرمایہ ثابت ہو سکیں گی۔ایک صالح معاشرہ کی تشکیل میں صالح نوجوان نسل کا بڑا رول ہوتا ہے ،ایک اچھے معاشرہ کی تعمیر اسکے بغیر ممکن نہیں ،نئی نسل کی ذہن سازی وکردارسازی اسکی پیدائش کے دن سے ہی شروع ہوجاتی ہے،بوقت ولادت نومولودکے سیدھے کان میں اذان وبائیں کان میں اقامت کی اسلامی ہدایت(سنن الترمذی:۱۴۳۶)گویا اس دنیا میں اسکی آمدکے ساتھ اسکی صالح تربیت کی اولین بنیادہے۔پیغام توحید ورسالت اسکے کانوں کے ذریعہ دل ودماغ میں بسادیا جاتاہے،پھر شعوری ولاشعوری طورپر اپنے حال وماحول کو دیکھنے اورسیکھنے کے مواقع اسکے لئے کھل جاتے ہیں،اسلئے نئی نسل کی تعلیم وتربیت میں پہلے والدین پھر گھریلو ماحول اوربیرونی ماحول بڑی اہمیت رکھتاہے۔

والدین ، خاندان ومعاشرہ کے بزرگ اصحاب ،تعلیمی اداروں کے اساتذہ وغیرہ کی لا پر واہی وعدم توجہی نوجوان نسل کی بگاڑکا بڑا اہم سبب سمجھا جارہا ہے، اسلئے گھریلو ماحول خاص طورپر رسماً نہیں بلکہ حقیقتاً دیندارانہ ہو،معاشرہ کا ماحول پاکیزہ اعلی اخلاق واقدارپر مشتمل ہو ،تعلیمی ادارے پاکیزہ اخلاق واقدارکا عملی نمونہ ہوں، اساتذہ تعلیم کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کی تربیت کیلئے فکر مندہوں تو منشیات جیسی لعنت میں گرفتار اوردیگر مخرب اخلاق ،عادات واطوار کی نوجوان نسل خوگر نہیں ہوسکتی۔ملک کو اس خباثت سے پاک کرنے کے حکمران بھی پابندہیں،اپنے ذاتی مفادات کیلئے مٹی بھر غیر سماجی عناصرجو نوجوان نسل کی زندگی کو داؤپر لگارہے ہیں،اورانکے مستقبل کو تاریک کرکے ملک وقوم کو نقصان پہنچارہے ہیں، ان پر شکنجہ کسنے کی حکومت ذمہ دارہے کہ انکو گرفتارکیا جائے اورعبرتناک سزادی جائے تاکہ کوئی دوسرا ایسے مجرمانہ حربوں کے اختیارکرنے کا تصوربھی نہ کرسکے ۔پانی جب سرسے اونچاہوگیا تب کہیں جاکر حکومت کے انتظامی ادارے اس جانب متوجہ ہوئے ،اورچونکا دینے والے حقائق کے منظر عام پر آنے کا انکشاف کیا،ابتدائی مراحل میں کیوں یہ جرائم گرفت میں نہیں آسکے ؟انٹلیجنس اورخود محکمہ پولیس اورتعلیمی اداروں وغیرہ کے ذمہ دارآخراس سے کیوں غافل رہے؟ملک کے حکمرانوں اورقانو ن ساز ااداروں کا سب سے بڑا اہم ترین فریضہ تو یہ ہے کہ وہ پورے ملک میں نشہ آوراشیاء پر سخت پابندی عائد کریں ،حکومت اگر یہ چاہتی ہے کہ ملک جرائم سے پاک ہو اورنوجوان نسل منشیات سے پاک وصاف زندگی گزارے اورقوم ملت کیلئے ایک اچھا سرمایہ ثابت ہو تو پھریہ ضروری ہوجاتاہے کہ مکمل نشہ بندی کا قانون نافذکیا جائے، یہاں تک کے نشہ آوراشیاء جیسے شراب وغیرہ کے کاروبار کے اجازت نامہ بالکلیہ جاری نہ کئے جائیں اورجو جاری ہوچکے ہیں انکو منسوخ کردیا جائے ورنہ شراب کے کاروبار کی اسی طرح حکومت سرپرستی جاری رکھے تو اس کے پس پردہ اسکی غیر قانونی تجارت کا راستہ حسب سابق کھلا رہیگا ۔نشہ آوراشیاء کا استعمال نوجوان نسلوں کی عقل کو مفلوج کردیتاہے اورانکے جسمانی صحت داؤپر لگ جاتی ہے اور اکثرکی موت کا یہی نشہ آوراشیاء سبب بن سکتی ہیں،اسکی وجہ معاشرہ میں جرائم پنپتے ہیں ،ذرائع ابلا غ کے مطابق مخدرات ومنشیات کا ایک بڑا مافیا ہے جو کرئہ ارض کو بڑی تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے،تجرباتی شواہد بتارہے ہیں کہ غیر تربیت یا فتہ نوجوان نسل جلدانکے ہتھے چڑھ جاتی ہے ۔ڈرگس مافیا کے مجرمانہ منصوبوں کو خاک میں ملانے کاایک ہی راستہ ہے وہ ہے اسلام،اسلام سے پہلے کا سماج اس لعنت میں بری طرح گرفتار تھا ،اسلام نے اسکی حرمت کے بتدریج احکام ناز ل فرمائے اورآخری حرمت کا جو حکم نازل ہوا اس میں بالکلیہ شراب کو حرام قراردے دیا گیا ’’اے ایمان والو! حق بات یہی ہے کہ شراب ،جوا،تھان اورفال نکالنے کے پانسے کے تیریہ سب پلیدوگندے اورشیطانی کام ہیں ان سے بالکلیہ بچے رہوتاکہ تم فلاح پا سکو۔ شیطان تو چاہتا یہی ہے کہ شراب وجواکے ذریعہ تمہارے درمیان بغض وعداوت ڈال دے اللہ کے ذکر و نماز سے تم کو باز رکھے تو کیا اب بھی تم باز نہیں آؤگے؟‘‘(المائدۃ؍۹۰؍۹۱) ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہے کہ’’حرمت شراب کی آیات کے نزول کے بعد آپ ﷺسے اسکو مسجد میں پڑھ کر سنایا اورپھر شراب کے تجارت کو حرام کردیا ‘‘ آپ ﷺ کا ایک ارشاد پاک ہے’’ہرنشہ آورشئی شراب ہے اور ہر نشہ آورشئی حرام ہے شراب نوشی کا عادی توبہ کے بغیر مرجائے تو جنت کی شرا ب سے محروم رہیگا ۔(مسند احمد۲۶ )حدیث پاک میں مروی ہے شراب کی نسبت سے اللہ سبحانہ نے دس افراد کو مستحق لعنت فرمایا ہے : شراب نچوڑنے اورنچوڑوانے والا ،پینے اورپلانے والا،خرید وفروخت کرنے والا،اٹھانے اورپہنچانے والا،اسکی قیمت کھانے والا اورجس کے لئے وہ خریدی گئی ہے یہ سب ملعون ہیں۔ملحدانہ ودین بیزارطاقتیں جواسلام ،مسلمانوں اورانسانیت کی سخت ترین دشمن ہیں، نوجوان نسل اورخاص طورپر مسلم نوجوانوں کا چاروں طرف سے گھیراؤ کررہی ہیں،مادی مفادات کے ساتھ ان کو یہ بات بھی عزیزہے کہ کسی طرح مسلم نوجوانوں کو دین سے برگشتہ کردیا جائے اور ان کو حرام چیزوں کا عادی بنایا جاکر بلنداہداف تک ان کی رسائی کوروکا جائے،ان کو غیر کارکرد اورمفلوج بناکر ملت کے عظیم سرمایہ(نوجوانوں)کو تباہ وتاراج کیاجائے۔ان حالات میںعموماً محافظین ملت اورخصوصا والدین کو اپنی ،اپنی اولاد اورملت کی فکرکرنے کی سخت ضرورت ہے،اس آیت پاک کو سرمہ ء بصیر ت بنا لیاجانا چاہئے ’’اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اوراپنے اہل وعیال کو اس آگ سے بچاؤجس کا ایندھن انسان اورپتھرہوں گے اوراس پر ایسے فرشتے مقررہیں جو بڑے تندخواورتیز مزاج ہیں اللہ نے ان کو جس کام کا حکم دیا اسکی نافرمانی نہیں کرتے اورجو حکم دیا گیا ہے اسکو فوری بجالاتے ہیں‘‘ (التحریم؍۶) علامہ قرطبی فرماتے ہیں : ’’ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنی اولاد اورگھروالوں کودینی تعلیم سے آراستہ کریں ،اچھی اورعمدہ باتیں سکھائیں اوروہ آداب وہنرجو زندگی کا لازمہ ہیں انکی تعلیم دیں‘‘۔ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کا ارشادہے ’’حسن ادب سے بڑھ کر اورکوئی تحفہ والدکی طرف سے اولاد کیلئے نہیں ہوسکتا‘‘(بخاری ۱؍۴۲۲)۔درسگاہوں میں جبکہ عمومی طورپر تربیت کا فقدان ہے ،اپنی اولاد کو بے راہ روی اورآوارہ مزاجی سے بچانے کیلئے ان کی خصوصی تربیت کی طرف توجہ کی بڑی ضرورت ہے ،اس اہم کام سے ہماری غفلت ،لاپر واہی بلکہ بے حسی جاری رہے تو آنے والی نسلوں کا اللہ ہی حافظ ہے۔

TOPPOPULARRECENT