Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / نئی کرنسی کے چلن کیساتھ ہی صورتحال میں بہتری!

نئی کرنسی کے چلن کیساتھ ہی صورتحال میں بہتری!

غیر استعمال شدہ رقم ملک کی معاشی ترقی میں معاون ہوگی: حکومت
نئی دہلی 9 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج کہا ہے کہ نئی 500 اور 2000 کرنسی نوٹوں کی مارکٹ میں چلن عام ہوتے ہی نقد رقم منہائی کی تحدیدات میں آسانی فراہم کی جائے گی۔ یہ کرنسی نوٹس اِس معیار کی حامل ہیں کہ اس طرح کی جعلی نوٹ تیار کرنا کافی مشکل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کم کرنسی والی نوٹوں کا بھی خاطر خواہ ذخیرہ یقینی بنایا جائے گا۔ ملک بھرمیں 500 اور ایک ہزار روپئے کی نوٹوں کا چلن اچانک بند کرنے کے بعد حکومت نے آج کہاکہ دولت کا ایک بڑا حصہ قابل استعمال نہیں ہے اور اب یہ عمومی معیشت میں شامل ہوجائے گا اور اس رقم کو ملک کی معاشی ترقی کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ریونیو سکریٹری ہسمکھ ادھیا نے کہاکہ معیشت پر مختلف مدتی اثر ضرور پڑے گا لیکن نئی کرنسی کی سربراہی بحال ہوتے ہی مارکٹ مستحکم ہوجائے گا۔ یہی نہیں بلکہ سرگرمیوں میں اضافہ بھی ہوگا۔

حکومت نے کالا دھن اور کرپشن کے خلاف ایک بڑی کارروائی کے طور پر کل اچانک یہ قدم اُٹھایا ہے۔ جن کرنسی نوٹس کا چلن ختم کیا گیا ہے اُنھیں 30 ڈسمبر تک بینکوں میں جمع کرنا ہوگا۔ کم شرح کی کرنسی نوٹس بینکوں سے حاصل کی جاسکتی ہیں لیکن اِن پر بعض تحدیدات عائد رہیں گی۔ بینک اکاؤنٹ سے ایک دن میں صرف 10 ہزار روپئے منہا کئے جاسکتے ہیں اور ایک ہفتہ میں 20 ہزار روپئے۔ اسی طرح اے ٹی ایم سے یومیہ 2 ہزار روپئے منہا کئے جاسکتے ہیں۔ ہسمکھ ادھیا نے کہاکہ ابتداء میں رقم کی منہائی پر پابندی رہے گی لیکن 2 ہزار اور 500 کی نئی نوٹوں کا چلن جیسے ہی عام ہوگا جلد از جلد اِس معاملہ میں رعایت دی جائے گی۔

انھوں نے کہاکہ عوام کو کچھ دن بعد راحت مل سکتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 1978 ء میں آخری مرتبہ سب سے زیادہ قدر کی کرنسی کا چلن ختم کیا گیا تھا اُس وقت 10 ہزار ، 5 ہزار اور ایک ہزار روپئے کی نوٹوں کا چلن ملک کی مجموعی کرنسی کا دو فیصد سے بھی کم تھا۔ لیکن اب 500 اور 1000 روپئے کی نوٹوں کا چلن مجموعی کرنسی جو اس وقت مارکٹ میں ہے اُس کا 85 فیصد ہے۔ یہ ایک انتہائی بڑا فیصلہ تھا۔ اس سے کالا دھن پر زبردست اثر پڑے گا۔ ایک اور مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ ایک بڑی رقم جو اب تک استعمال میں نہیں آرہی تھی اُسے معیشت کا ایک حصہ بنایا جاسکے گا۔ بینکوں میں کافی رقم جمع ہوگی اور اسے ملک کی معاشی ترقی کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کے اس اقدام کی واجبیت کے بارے میں انھوں نے کہاکہ سب سے اہم مقصد تو مصنوعی معیشت کا تاثر ختم کرنا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یوروپین سنٹرل بینک کے اقدام کی تقلید کی گئی ہے جس نے غیر قانونی سرگرمیوں، کالادھن اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لئے 500 یورو نوٹ کا چلن روک دیا تھا۔ انھوں نے کہاکہ 1978 ء کے بعد پہلی مرتبہ حکومت نے مارکٹ میں  زیر استعمال کرنسی کا چلن بند کیا ہے۔ ایک اور مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ رقمی قلت کے سبب عوام ’پلاسٹک منی‘ (کارڈ) استعمال کریں گے اور بینک سے لین دین میں بھی اضافہ ہوگا۔ وہ روز مرہ کی ادائیگیوں کے لئے چیک اور آن لائن ٹرانسفر کے علاوہ پے منٹ کو ترجیح دیں گے۔ انھوں نے کہاکہ یہ اقدامات طویل مدتی فوائد کے حامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT