Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / نئے اضلاع کے قیام کے لیے دو روزہ کلکٹرس کانفرنس

نئے اضلاع کے قیام کے لیے دو روزہ کلکٹرس کانفرنس

نئے منڈلوں کی حد بندی کو قطعیت اور حکمت عملی پر غور و خوص
حیدرآباد۔/7جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں نئے اضلاع کے قیام کیلئے دو روزہ کلکٹرس کانفرنس کا آج ڈاکٹر مری چنا ریڈی ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ میں آغاز ہوا۔ حکومت نے نئے اضلاع کے قیام کے سلسلہ میں ضلع کلکٹرس سے تجاویز طلب کی ہیں اور کلکٹرس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد نئے اضلاع کے ساتھ ساتھ نئے منڈلوں کی حد بندی کو قطعیت دینا ہے۔ ریاستی حکومت دسہرہ کے موقع پر نئے اضلاع کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت نے اپنے طور پر سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے۔ حکمت عملی کی تیاری کیلئے کلکٹرس کا دو روزہ اجلاس طلب کیا گیا اور اجلاس کے پہلے دن چیف سکریٹری ڈاکٹر راجیو شرما، اسپیشل چیف سکریٹری اور چیف کمشنر لینڈ اڈمنسٹریشن ریمنڈ پیٹر اور پرنسپال سکریٹری ریونیو بی آر مینا اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ انہوں نے ضلع کلکٹرس سے ان کے اضلاع میں حلقہ جات کی تقسیم اور منڈلوں کی حد بندی کے بارے میں مذاکرات کئے۔ اجلاس کے دوسرے دن چہارشنبہ کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی شرکت متوقع ہے۔ تاہم سرکاری طور پر چیف منسٹر کے پروگرام کو ابھی تک قطعیت نہیں دی گئی۔ ریاستی حکومت آنے والے اسمبلی انتخابات تک اسمبلی حلقہ جات کی از سر نو حد بندی کے پیش نظر نئے اضلاع کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے۔ کئی اسمبلی حلقہ جات 2 اضلاع کے علاقوں پر محیط ہیں نئی حد بندی کے ذریعہ انہیں ایک ضلع تک محدود کیا جاسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جولائی کے اواخر یا پھر اگسٹ میں اسمبلی اجلاس طلب کرتے ہوئے نئے اضلاع کے قیام کی منظوری حاصل کی جائے گی۔ اجلاس میں نئے اضلاع، ریونیو ڈیویژنس اور منڈلوںکی حد بندی پر ایکشن پلان تیار کرلیا جائے گا۔ کلکٹرس سے اتفاق رائے حاصل کرتے ہوئے بلیو پرنٹ کی تیاری عمل میں آئے گی۔ پہلے مرحلہ میں ریونیو ڈیویِژنس کی تنظیم جدید کی جائے گی۔ حکومت مزید 14 تا 15 اضلاع کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے۔ 18تا 20منڈل، 5 ریونیو ڈیویژنس، 4تا 5 اسمبلی حلقہ جات پر مشتمل ایک ، ایک ضلع کی تشکیل کی تجویز ہے۔

TOPPOPULARRECENT