Monday , October 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / نئے سال کا استقبال

نئے سال کا استقبال

مفتی سید صادق محی الدین فہیمؔ

اللہ سبحانہ و تعالی نے انسانوں کو بیش بہا نعمتیں بخشی ہیں، ان میں ایک بہت بڑی نعمت زندگی و حیات ہے، یہ ایسی نعمت ہے جس پر انسان کا کوئی قابو نہیں، پتہ نہیں وہ کب ساتھ چھوڑ دے، اختتام زندگی کیلئے سن و سال کی کوئی قید نہیں، زندگی کے قیمتی لمحات کسی معصوم بچے سے بھی چھن جا سکتے ہیںیا کسی نوجوان اور بوڑھے سے بھی، انسان پیدا ہوتا ہے تو پیدائش سے اس کی زندگی کے سفر کا آغاز ہوتا ہے جیسے جیسے ایک ایک لمحہ گزرتا ہے ویسے ویسے زندگی میں کمی  آتی جاتی ہے ایسا نہیں ہے کہ دن ہفتے اور ماہ وسال گزر رہے ہوں اور عمر میں اضافہ ہو رہا ہو ۔
زندگی در اصل اللہ کی معرفت حاصل کرنے اور اس کے احکام کے مطابق بسر کرنے کے لئے دی گئی ہے، تاکہ انسان کی اخروی زندگی کامیاب ہو اور یہ اخروی کامیابی اس انسان کے حصے میں آتی ہے جس نے زاد آخرت تیار کیا ہو، اللہ سبحانہ کا وعدہ ہے کہ جو کچھ زاد آخرت تیار کر کے پہلے سے بھیج دیا گیا ہو وہی اللہ تعالی کے ہاں بہتر ہے جس کو تم اللہ کے ہاں پاؤ گے وہ بہتر اور باعتبار اجر کے بہت عظیم ہے (المزمل /۲۰)
موجودہ دور نعمتِ زندگی کی ناقدری کا ہے، اللہ کی دی ہوئی نعمتوںکی ناقدری باعث بازپرس ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے ’’پھر اس دن تم سے ضرور ضرور نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ‘‘۔( التکاثر /۸)
یہ بازپرس داخلی نعمتوں کے بارے میں بھی ہوگی اور خارجی نعمتوں کے بارے میں بھی، اس لئے اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت کی قدر کرنی چاہئے قدر سے مراد یہ ہے کہ ان نعمتوں کا استعمال اللہ سبحانہ کی مرضیات کے مطابق ہو، حدیث پاک میں وارد ہے پانچ احوال کو دوسرے پانچ احوال کے آنے سے پہلے غنیمت جان لو یعنی خوب قدر کر لو او ر جو کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہو اٹھا لو، جوانی کو بڑھاپا آنے سے پہلے، تندرستی کو بیمار ہونے سے پہلے ، خوشحالی و فراخ دستی کو محتاجی و تنگدستی سے پہلے، فراغت و فرصت کو مشغولیت سے پہلے ، زندگی کو موت سے پہلے۔(ترمذی)
ظاہر ہے انسان کے احوال ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے، اس لئے زندگی کے اُن اچھے لمحات میں جس میں آخرت کی تیاری عمدگی کے ساتھ کی جاسکتی ہو ، اُس کو غنیمت جانیں اورآخرت کی تیاری کا خوب اہتمام کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ قیمتی وزرین مواقع ہم سے چھن جائیں اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں۔ او ر ایک حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ تم زاد آخرت تیار کرنے کیلئے انتظار کرتے، ہو اس خوش حالی و دولت مندی کا جو ایک انسان کو سرکش بنادیتی ہے یا انتظارکرتے ہو اس نا داری و غریبی کا جو سب کچھ بھلا دیتی ہے ،یا تمہارا نتظار اس بیماری کا ہے جو حالات کو خراب کر دیتی ہے یا اس بڑھاپے کا تم کو انتظار ہے جو عقل وحواس کھو دیتا ہے یا اس موت کا انتظار ہے جو اچانک آنے والی اور سب کچھ ملیا میٹ کر دینے والی ہے یاتم اس قیامت کے منتظر ہو جو سخت کڑوا گھونٹ ہے اور ایک جانگسل حادثہ ہے ۔(ترمذی)

مقصود یہی ہے کہ زندگی کے وہ لمحات جو کچھ کرنے کے قابل ہیں ان کو غنیمت جانا جائے ،رضائے الہی اور فلاح اُخروی کی تحصیل کیلئے مقدور بھر کوشش کر کے اس سے بھر پور استفادہ کیا جائے ۔ایک اور حدیث پاک میں ارشاد ہے ۔روزِ حشر جب انسان کی بارگاہ ایزدی میں پیشی ہوگی تو انسان کے قدم آگے نہیں بڑھ سکیں گے جب تک کے اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں بازپرس نہ کر لی جائے ایک تو اس کی زندگی کے قیمتی لمحات کے بارے میں کہ اس نے اس زندگی کو کیسے کاموں میں لگا کر پورا کیا دوسرے جوانی کے بارے میں کہ کن مشاغل میں اپنی جوانی اس نے کھپائی تیسرے اور چوتھے مال و دولت کے بارے میں کہ وہ کہاں سے حاصل کیا گیا اور کن راہوں میں اس کو صرف کیا گیا پانچویں یہ کہ جو کچھ علم حاصل کر چکا تھا اس پر کس قدر عمل کیا ۔(ترمذی)
ظاہر ہے ایک سال کا گزرنا کوئی خوشی کا موقع نہیں کہ جشن منایا جائے اور اس قدر خوشی و مسرت کے پیمانے چھلکائے جائیں یا شراب کے جام لنڈھائے جائیں کہ جس سے اللہ کی ناراضگی حصہ میں آرہی ہو ،نامہ اعمال سیاہ ہورہا ہو،اور دنیا و آخرت تباہ و برباد ہو رہی ہو ،سال کا گزرناتو احتساب کیلئے ہے کہ ایک انسان اپنے گزرے ہوئے سال بلکہ گزری ہوئی پچھلی زندگی کے سارے لمحات کا جائزہ لے ، حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ تم اپنا محاسبہ کر لو قبل اس کے کہ تمہارا حساب لیا جائے ۔( کنز العمال /۴۴۰۳)
یہ دنیا عبرت کی جا ہے قدم قدم پر نصیحت کا سامان ہے، اس سے نصیحت حاصل کی جائے تب ہی زندگی کی قدرممکن ہو سکے گی ،کتنے ہمارے عزیز و اقارب ہوں گے اور کتنے ہی دوست و احباب جو پچھلے سال ہمارے ساتھ زندگی کے سفر میں شریک تھے لیکن اب وہ ملک عدم پہنچ چکے ہیں اس طرح کے احتساب سے فکر آخرت پیدا ہوتی ہے اور انسان غیر ضروری و لا یعنی کاموں میں اپنی زندگی کی صلاحیتوں کو گنوانے کے بجائے خیر کی راہ میں جہد پیہم وسعی مسلسل کرتے ہوئے ان کو لا قیمت بناسکتا ہے ،عیسوی سن کے اعتبار سے ماہ جنوری سے نئے سا کا آغازہوتا ہے ،نئے سال کے آغاز کی خوشی میں جشن مسرت منائے جاتے ہیں ،مسرت وخوشی میں اس قدر مگن ہوجاتے ہیں کے منہیات ومنکرات میں کوئی ناپسندیدگی نظر نہیں آتی وہ سارے کام جو اللہ کوناراض کرنے والے ہیں اختیار کرکے سال نو کا استقبال کیا جاتا ہے ،اور ایسے غیر اخلاقی حرکات کا صدور ہوتا ہے جو انسانیت کو بھی شرمسار کرتے ہیں،ملت اسلامیہ کے نوجوان اگر نئے سال کے استقبال میں اغیار کے ساتھ شریک ہوتے ہیں،سیر سپاٹوں میں اپنے اوقات ضائع کرتے ہیں،ناج گانا شور شرابا،شراب نوشی وغیرہ جیسے ناجائز کاموں میں مصروف ہوتے ہیں۔ تو یہ بہت زیادہ فکر کی بات ہے والدین کے لئے بھی اور امت مسلمہ کے ذمہ داروں کے لئے بھی۔ امت مسلمہ کے لئے انفرادی و اجتماعی ہر اعتبار سے احتساب و جائزہ کا وقت ہے۔
نئے سال کا آغاز لہو لعب و لا یعنی امور میں مشغول ہو کر جشن منانے کا نہیں ہے بلکہ دنیا کی بے ثباتی اور اہل دنیا کی بے وفائی کو سامنے رکھ کر اپنی دنیا و آخرت کو بہتر بنانے کی سعی جاری رکھتے ہوئے نئے سال کا استقبال کرنے کا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT