Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / نئے شہر میں سڑکوں کی تعمیر جنگی خطوط پر جاری

نئے شہر میں سڑکوں کی تعمیر جنگی خطوط پر جاری

پرانا شہر نظرانداز‘ شہریوں کو نمائندوں کی نااہلی کا احساس
حیدرآباد۔16اکٹوبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کا قدیم شہر بھی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں ہی آتا ہے۔ بلدی عہدیدار شہر کے اس خطہ کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر بھی توجہ دیں کیونکہ اس خطہ میں رہنے والے عوام بھی شہر کے دیگر علاقوں کے عوام کی طرح بلدی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ شہر کی سڑکوں کی مرمت کے متعلق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے روزانہ ذرائع ابلاغ اداروں کو رپورٹس معہ تفصیل ارسال کی جا رہی ہیں جنہیں دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جی ایچ ایم سی کو صرف نئے شہر کی سڑکوں کی حالت بہتر بنانے میں دلچسپی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاقوں میں بارش سے تباہ سڑکوں کی مرمت کے کاموں کا سلسلہ جاری ہے لیکن ان تعمیرات میں پرانے شہر کی سڑکوں کی تعمیر کو بری طرح سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں سڑکوں کی ابتر صورتحال اور دھول کے سبب شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان علاقوں میں کوئی تعمیری کام انجام نہیں دیئے جا رہے ہیں۔ عوام میں اس بات کا احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ مقامی عوامی نمائندے جی ایچ ایم سی میں سڑکوں کی حالت کو بہتر بنانے کے معاملہ میںناکام ہوتے جا رہے ہیں۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے نئے شہر کے علاقوں پنجہ گٹہ‘ سوماجی گوڑہ‘ شیرلنگم پلی‘ مادھا پور‘ بنجارہ ہلز‘ جوبلی ہلز اور حمایت نگر کے علاوہ دیگر علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر کے کام تیزی سے جاری ہیں اور ان تعمیراتی کاموں کا جائزہ خود کمشنر جی ایچ ایم سی لے رہے ہیں لیکن شائد جی ایچ ایم سی میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کوبھی پرانے شہر کی سڑکوں کو بہتر بنانے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ دونوں شہروں میں سڑکوں کی تعمیر میں پرانے شہر کے علاقوں کو نظر انداز کیا جانا نمائندوں کی نا اہلی کو ثابت کرتا ہے جو اپنے علاقوں کو میں خستہ حال سڑکوں کی مرمت کیلئے مؤثر نماندگی کرنے سے قاصر نظر آرہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی بلدی حلقوں سے نمائندگی کرنے والے کارپوریٹرس خود اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ ان کی جانب سے کی جانے والی نمائندگیوں کو نظر انداز کیا جا رہاہے۔

TOPPOPULARRECENT