Sunday , April 23 2017
Home / اداریہ / نئے فوجی سربراہ جنرل راوت

نئے فوجی سربراہ جنرل راوت

ہے اختیار میں جب ان کے خانہ ویرانی
کسی بھی گھر کو وہ آکر بدل تو سکے ہیں
نئے فوجی سربراہ جنرل راوت
لیفٹننٹ جنرل بپن راوت کا ہندوستانی فوج کا نیا سربراہ نامزدکیا جانا ایک سیاسی طرفداری کا عمل ہے تو فوج میں سینیاریٹی کو نظرانداز کرنے کی بدترین مثال کا احیاء ہوتا ہے۔ جنرل راوت کی قابلیت اور ان کی صلاحیتوں سے کسی کو کوئی انکار نہیں ہوسکتا مگر ترقی و تقرر کے امور میں جہاں سینیاریٹی کو ملحوظ رکھا جاتا ہے وہاں جب سیاسی مقصد براری کے حصہ کے طور پر سینیئر عہدیداروں کو پیچھے کردیا جاتا ہے تو اس پر سوال ضرور اٹھے گا۔ اس سے اصول و ضوابط اور مروجہ قوانین کی بھی پامالی ہوتی ہے۔ بی جے پی نے نئے فوجی سربراہ کے تقرر پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والی کانگریس کی مذمت کی ہے۔ اس کا یہ اعتراف کہ فوج کے دیگر سینئر عہدیداروں کی موجودگی کے باوجود راوت کو نامزد کرنے کی ایک وجہ یہ ہیکہ حکومت نے موجودہ سیکوریٹی صورتحال کے تناظر میں یہ تقرر عمل میں لایا ہے۔ پاکستان میں فوجی قیادت کی تبدیلی کے بعد ہندوستانی فوجی طاقت کو بھی ایک تجربہ کار اور مضبوط ارادوں کے حامل فوجی سربراہ کا تقرر ضروری تھا۔ حکومت کو راوت میں وہ تمام خوبیاں نظر آئیں اور انہیں ہی ملک کی فوجی طاقت کی قیادت کیلئے ایک موزوں ترین عہدیدار تسلیم کیا۔ اس تقرر کے بعد سیاسی سطح پر شبہات کا اظہار کیا جانا بھی غور طلب ہے کہ آخر دیگر سینئر عہدیداروں نے صف بندی توڑ کر بالکل قطار میں سب سے پیچھے کھڑے رہنے والے راوت کو آگے کیوں لایا گیا۔ یہاں یہ حجت پیدا ہورہی ہیکہ بی جے پی حکومت نے بھی اپنی پیشرو کانگریس کے نقش قدم پر چل کر یہ فیصلہ کیا ہے۔ 1980ء میں کانگریس حکومت نے جنرل سنہا پر جنرل ویدیا کا تقرر عمل میں لایا تھا۔ بی جے پی حکومت اپنے اس فیصلہ کو درست مانتی ہے مگر حقیقت میں دیکھا جائے تو فوج کے اندر پائے جانے والے ڈسپلن کو سیاسی من مانی کے ذریعہ تباہ کردینے کی کوشش ہوتی ہے۔ یہ حکومت دستوری اور قومی اداروں کے ساتھ کھلواڑ کرنے لگی ہے تو آنے والے دنوں میں ملک کی سیکوریٹی صورتحال سے بھی سمجھوتہ کیا جاسکتا ہے۔ اعلیٰ عہدیداروں خاص کر ملک کی تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کے تقرر کے معاملہ میں بالادستی کو ترجیح دی جاتی ہے تو یہ جمہوریت اور ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ عدلیہ میں بھی تقررات کا عمل تنازعہ کا شکار ہوچکا ہے۔ سنٹرل ویجلنس کمشنروں کے تقررات ہوں یا سی بی آئی ڈائرکٹر کا تقرر، سنٹرل انفارمیشن کمیشن کے لئے عہدیدار کا تقرر ہر معاملہ میں حکومت کی جانب سے حامی افراد کو اہمیت دی جائے تو تنازعہ پیدا گا اور فرائض اور کارکردگی میں فرق پیدا ہوسکتا ہے۔ اس سوال کا جواب کوئی آسان نہیں لیکن ایک بڑا اور واضح جواب یہ ہیکہ قومی سلامتی کے شعبہ کیلئے کس معیار کو ملحوظ رکھا جارہا ہے۔ ہمارے نازک سیکوریٹی معاملوں میں مطلوبہ معیار کو اہمیت نہ دینے سے خرابیاں مزید بڑھیں گی۔ سیکوریٹی کے مختلف خطرات کو پیش نظر رکھ کر اگر بی جے پی حکومت نے جنرل بپن راوت کے تقرر کو درست سمجھا ہے تو اب جنرل راوت کی ذمہ داری بڑھ جائے گی کہ وہ اپنی حکمت عملی اور قابل تحسین پیشہ ورانہ فرائض کو بھرپور طریقہ سے انجام دیں ۔ ملک کی دفاعی صلاحیتوں سے کسی کو انکار نہیں ہے لیکن دفاعی امور کو سیاسی کردار کے تابع کرنے کرنے کی کوشش ٹھیک نہیں ہوگی۔ امر واقع یہی ہیکہ وادی کشمیر اور سرحدی علاقوں کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے بعض کوتاہیوں اور نااہلی کا حکومت کو احساس ہونے لگا ہوگا۔ جنرل راوت کو جموں و کشمیر میں 19 ڈیویژن کے کمانڈنگ آفیسر کی حیثیت سے خدمت انجام دینے کا تجربہ ہے۔ وہ فوجی ہیڈکوارٹر اور وزارت دفاع کی کارکردگی سے مانوس ہیں۔ انہیں اپنی ذمہ داریاں آزادانہ طریقہ سے ادا کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ ان کا دیرینہ تجربہ بھی انہیں سرحدی سلامتی کے ساتھ ساتھ وادی میں امن و سکوں کی بحالی کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہیکہ حکومت محض سیاسی مقصد براری یا اپنے ایجنڈہ کی تکمیل کیلئے مسلح افواج میں اصول و ضوابط اور مروجہ قوانین کو نظرانداز کرنے سے گریز کرے۔ اگر اس وجہ سے مسلح افواج میں عدم اطمینان کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا اور ہمارا سیکوریٹی ماحول ایسا ہے اور ایسے چیلنجس کا ہم کو سامنا ہے کہ ہم اس بے چینی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT