Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / نائب صدر جمہوریہ ہند حامد انصاری کے ہاتھوں کتاب ’ مسلم تحفظات کی جدوجہد ‘ کا رسم اجراء

نائب صدر جمہوریہ ہند حامد انصاری کے ہاتھوں کتاب ’ مسلم تحفظات کی جدوجہد ‘ کا رسم اجراء

مصنف کتاب محمد علی شبیر کی مسلم تحفظات پر مساعی ، تجربات و مشاہدات کا احاطہ
حیدرآباد۔6 جولائی (سیاست نیوز) نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری 12 جولائی کو نئی دہلی میں اپنی سرکاری قیام گاہ پر قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر کی کتاب ’’مسلم تحفظات کی جدوجہد‘‘ کی رسم اجراء انجام دیں گے۔ اس سلسلہ میں خصوصی تقریب شام ساڑھے پانچ بجے نائب صدر جمہوریہ کی قیام گاہ پر منعقد ہوگی۔ کانگریس کے سینئر قائدین غلام نبی آزاد، احمد پٹیل، ڈگ وجئے سنگھ اور سلمان خورشید نے تقریب میں شرکت سے اتفاق کرلیا ہے۔ محمد علی شبیر نے گزشتہ دنوں حامد انصاری سے ملاقات کرتے ہوئے کتاب کی رسم اجراء خواہش کی تھی۔ اس تقریب میں تقریباً 75 خصوصی مدعوئین ہوں گے۔ متحدہ آندھراپردیش میں کانگریس دور حکومت میں مسلم تحفظات کی فراہمی کی مساعی کا آغاز ہوا تھا۔ ان تمام مراحل کو محمد علی شبیر نے اپنے تصنیف میں شامل کیا ہے۔ یہ کتاب اردو زبان میں شائع کی گئی جبکہ انگریزی ایڈیشن زیر طبع ہے۔ اس کتاب میں 4 فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں محمد علی شبیر کی شخصی مساعی اور ان کے تجربات و مشاہدات کو شامل کیا گیا ہے۔ کانگریس نے تحفظات کی مساعی کا آغاز اگست 1994ء میں کیا تھا۔ اس وقت کے چیف منسٹر وجئے بھاسکر ریڈی کی کابینہ میں اقلیتی بہبود کا قلمدان رکھنے والے محمد علی شبیر کی مساعی پر جی او ایم ایس 30 جاری کیا گیا تھا جس میں مسلمانوں کو پسماندہ طبقات کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ بعد میں مسلمانوں کی صورتحال اور خاص طور پر روزگار میں حصہ داری کا جائزہ لینے کے لیے جسٹس پٹو سوامی کی صدارت میں بی سی کمیشن تشکیل دیا گیا۔ 2004ء میں کانگریس کے جنرل سکریٹری غلام نبی آزاد نے انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کو 5 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا۔ حکومت کے برسر اقتدار آتے ہی مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں راج شیکھر ریڈی حکومت نے تحفظات فراہم کیئے۔ پہلے سال 7 ہزار غریب مسلم طلباء کو تحفظات کی پالیسی سے فائدہ ہوا۔ 187 طلباء کو میڈیسن اور 55 کو ڈینٹل کالجس میں داخلہ ملا۔ 4500 طلباء کو مختلف انجینئرنگ کالجس میں داخلے ملے۔ اس کے علاوہ پیشہ ورانہ کورسس میں بھی اقلیتی طلباء کو تحفظات کے فوائد حاصل ہوئے۔ 5 فیصد تحفظات کا مسئلہ قانونی کشاکش کے بعد حکومت نے عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے بی سی کمیشن قائم کیا۔ بعد میں مسلمانوں کے پسماندہ طبقات کو 4 فیصد تحفظات کی فراہمی کا فیصلہ،انہیں بی سی (ای) زمرے میں شامل کیا گیا۔ مسلم تحفظات پر عمل آوری کے سبب مجالس مقامی میں کئی مسلمان منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ میونسپل کارپوریشنوں، میونسپلٹیس، زیڈ پی ٹی سی اور ایم پی ٹی سی میں 900 سے زائد مسلمان منتخب ہوئے۔ 5 کارپوریشنوں کے چیرمین، 18 وائس چیرمین، 37 کارپوریٹرس، 327 کونسلرس، 15 ایم پی ٹی سی اور 236 ایم پی ٹی سی عہدوں پر مسلمان منتخب ہوئے۔ اس کتاب میں 2010ء تک کے مختلف واقعات اور تجربات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT