Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / نائب صدر کی حیثیت سے وینکیا نائیڈو کی حلف برداری

نائب صدر کی حیثیت سے وینکیا نائیڈو کی حلف برداری

تمام دستوری عہدوں پر کسانوں اور عام آدمیوں کے بیٹے تعینات ہوچکے ہیں: مودی

نئی دہلی۔11 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ایم وینکیا نائیڈو نے ملک کے 15 ویں نائب صدر جمہوریہ کی حیثیت سے آج حلف لیا۔ صدر رام ناتھ کووند نے راشٹرپتی بھون کے دربار ہال میں منعقدہ ایک مختصر تقریب میں 68 سالہ وینکیا نائیڈو کو عہدہ کا حلف دلایا۔ انہوں نے خدا کے نام پر ہندی زبان میں حلف لیا۔ حلف برداری گقریب میں مختلف سیاسی قائدین نے اپنی جماعتی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے شرکت کی۔ وینکیا نائیڈو اگرچہ ملک کے 15 ویں نائب صدر ہیں لیکن اس دستوری منصب پر فائز ہونے والے 13 ویں شخص ہیں کیوں کہ ان کے پیشرو محمد حامد انصاری اور پہلے نائب صدر ایس رادھا کرشنن لگاتار دو میعادوں کے لیے اس عہدہ پر فائز رہے تھے۔ وزیراعظم نریندر مودی، سبکدوش نائب صدر حامد انصاری، لوک سبھا کی اسپیکر سمترا مہاجن، راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد، سینئر بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی متعدد مرکزی وزراء گورنروں اور چیف منسٹروں اور پارٹی قائدین نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔ جن میں ایس پی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو، این سی پی کے طارق انور، سی پی آئی کے ڈی راجہ، ٹی ایم سی کے سدیپ بندھوپادھیائے اور ڈیرک اوبرین کے علاوہ انا ڈی ایم کے کے اوپنیرا سلوم بھی شامل ہیں۔

وینکیا نائیڈو کی شریک حیات ایم اوشا نائیڈو نے بھی اس جلیل القدر منصب پر اپنے شوہر کی حلف برداری کا مشاہدہ کیا۔ وینکیا نائیڈو آندھرا پردیش کے ضلع نیلور میں ایک معمولی کسان خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ چار دہائیوں پر محیط سیاسی کیریئر میں آندھراپردیش قانون ساز اسمبلی و کونسل کے رکن کے علاوہ مرکزی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ 1970 ء کی دہائی کے دوران جنوبی ہند میں زیادہ اثر ورسوخ و مقبولیت نہ رکھنے والی ہندوتوا تنظیم جن سنگھ کے کارکن کی حیثیت سے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ بعدازاں بی جے پی کے قیام کے بعد اس میں شامل ہوگئے تھے اور اس پارٹی کے کارکن کی حیثیت سے سینئر قائدین اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے اڈوانی کے پوسٹرس دیواروں پر چسپاں کیا کرتے تھے۔ وزیر اعظم مودی نے نائب صدر جمہوریہ وینکیا نائیڈو کی دیرینہ خدمات کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے صدر رام ناتھ کووند کے حوالے کے ساتھ کہا کہ تمام دستوری عہدوں پر اب غریبوں، کسانوں اور عام آدمیوں کے بیٹے فائز ہوچکے ہیں۔ مودی نے کہا کہ معمولی اور غریب پس منظر کے حامل افراد کا ملک کے جلیل القدر دستوری منصب پر فائز ہونا دراصل ہندوستانی جمہوریت کے لیے بہترین خراج تحسین اور تہنیت ہے۔

 

امیدوں و توقعات کے ساتھ وینکیا نائیڈو کا بحیثیت صدر نشین راجیہ سبھا استقبال
اب آپ کسی پارٹی کے رکن نہیں رہے ۔ دستور کی بالا دستی کو یقینی بنانے کی امید ۔ ایوان میں بالا میں ارکان کا اظہار خیال

نئی دہلی 11 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) ایم وینکیا نائیڈو کا آج راجیہ سبھا کے نئے صدر نشین کی حیثیت سے ارکان کی جانب سے گرمجوشانہ خیر مقدم کیا گیا اور بیشتر ارکان نے ان سے خواہش کی کہ وہ اس روایت کو برقرار رکھیں کہ ہنگامہ آرائی کے دوران کوئی بل منظور ہونے نہ پائے ۔ علاوہ ازیں چھوٹی جماعتوں کی جانب سے ان سے مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ ایوان میں اظہار خیال کیلئے ان جماعتوں کے ساتھ انصاف کریں۔ مسٹر نائیڈو کو تہنیت پیش کرتے ہوئے قائد اپوزیشن غلام نبی آماد نے کہا کہ راجیہ سبھا کے صدر نشین بننے کے بعد وہ آزاد ہوگئے ہیں اور کسی پارٹی کے رکن نہیں ہیں۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ مسٹر نائیڈو کیلئے اب ان کا مذہب اور جماعت ان کے ذہن تک ہونی چاہئے اور ان کے کام کاج میں اس کا اثر نہیں دکھنا چاہئے ۔ انہوں نے نائیڈو کو یاد دہانی کروائی کہ انہیں راجیہ سبھا صدر نشین کی کرسی پر توازن کو برقرار رکھنا چاہئے اور سب سے انصاف کیا جانا چاہئے ۔ اس کے علاوہ ہر کسی کو ایوان میں اظہار خیال کی اجازت ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان کی روایت ہے کہ کوئی بھی بل ہنگامہ آرائی کے دوران منظور نہ ہونے پائے اس عمل کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے ۔ سماجوادی پارٹی کے رکن رام گوپال یادو نے بھی کسی ہنگامہ کے دوران بل منظور نہ کرنے کے مسئلہ پر اظہار خیال کیا ۔ انہوں نے تاہم مزید کہا کہ ایوان کی کارروائی پرسکون انداز میں چلانے کی ذمہ داری صرف کرسی صدارت کی نہیں بلکہ ایوان میں ہنگامہ پیدا کرنے والوں کی بھی ہے کیونکہ ان ارکان کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کس مسئلہ پر انہیں ہنگامہ کرنا چاہئے اور کس پر نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چھوٹی جماعتوں کو بھی ایوان میں اظہار خیال کا موقع رہیگا ۔ ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیرک او برائین نے اس یقین کا اظہار کیا کہ نائیڈو کسی ہنگامہ میں کوئی بل منظور کروانے کا گناہ نہیں کرینگے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نائیڈو اپنی حس مزاح کو برقرار رکھتے ہوئے کارروائی پر گرفت بھی رکھیں گے ۔ کرسی صدارت سے امید ہے کہ اپوزیشن کی آواز بھی سنی جائیگی ۔ انا ڈی ایم کے کے نونیتا کرشنن نے کہا کہ صدر نشین کو ملک کے ہر حصے اور ایوان کے ہر رکن سے موثر انداز میں رابطہ رکھنا چاہئے ۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ہر رکن کو ایوان میں اظہار خیال کا موقع ملے گا ۔ سی پی ایم کے لیڈر سیتارام یچوری نے راجیہ سبھا رکن کی حیثیت سے اپنے آخری ریمارکس میں امید ظاہر کی کہ ایوان بالا میں نائیڈو کی اننگز شاندار رہیگی ۔ سیتارام یچوری بھی ریٹائر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ نائیڈو دستور کی بالا دستی کو یقینی بنائیں گے اور انصاف کرینگے ۔ بی ایس پی کے ایس سی مشرا نے کہا کہ وہ نائیڈو کے مداح ہیں اور انہیں امید ہے کہ ایوان میں تمام ارکان کو اظہار خیال کا موقع دیا جائیگا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی پارٹی کی لیڈر مایاوتی کو 18 جولائی کو ایوان میںاظہار خیال کرنے کا موقع نہیں دیا گیا اور انہیں امید ہے کہ آئندہ ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوگی ۔ سی پی آئی کے ڈی راجہ نے امید ظاہر کی کہ مسٹر نائیڈو ہمہ جماعتی جمہوریت کی اہمیت کو اجاگر کرینگے ۔ این سی پی کے پرافل پٹیل نے کہا کہ نائیڈو کے دوسری اعلی ترین دستوری عہدہ پر فائز ہونے سے ہندوستانی جمہوریت کی طاقت کا اظہار ہوتا ہے ۔ شرومنی اکالی دل کے بلویندر سنگھ بھونڈر نے کہا کہ ایک کسان کے بیٹے کے نائب صدر اور ایک دلت کے بیٹے کے صدر بننے کا خواب طویل عرصہ بعد شرمندہ تعبیر ہوا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT